سرکار محبی کا مختصر تعارف
سرکار محبی حضرت علامہ شاہ محمد عبد الرحمن قادری علیہ الرحمہ برصغیر کے ان ممتاز علمائے اہل سنت میں شمار ہوتے ہیں جنہوں نے علم و تحقیق اور تصنیف و تالیف کے ساتھ دعوت و تبلیغ اور مسلک اہل سنت کی ترویج و اشاعت میں نمایاں خدمات انجام دیں آپ کی ذات علم و فضل اور محبت رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ سے والہانہ محبت و عقیدت کی ایک روشن مثال تھی ـــــ
آپ کا اسم گرامی محمد عبد الرحمن قادری نور الحلیمی بن شیخ منیر الدین صدیقی تھا آپ کا تعلق خانوادہ صدیقی سے تھا اور آپ ابو الولی کی کنیت سے معروف تھے اعلیٰ حضرت نے آپ کو محبی کے لقب سے نوازا جس کے بعد آپ سرکار محبی کے نام سے مشہور ہوئے آپ 1272ھ مطابق 1856ء میں پوکھریرا شریف ضلع سیتامڑھی بہار میں پیدا ہوئے ــــــــ
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد گرامی حضرت علامہ منیر الدین صدیقی علیہ الرحمہ سے حاصل کی سات سال کی عمر میں قرآن کریم حفظ کیا اور بعد ازاں پٹنہ اور دربھنگہ کے علمی مراکز میں مشاہیر علمائے کرام سے استفادہ کیا تقریباً اٹھارہ سے بیس سال کی عمر میں علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت حاصل کرکے درس و تدریس کا آغاز فرمایا آپ نے مدرسہ نور الہدیٰ پوکھریرا شریف کے ذریعے علم دین کی اشاعت اور نسل نو کی علمی و دینی تربیت میں اہم کردار ادا کیا ـــــــ
سرکار محبی علیہ الرحمہ کی علمی عظمت کا ایک نمایاں پہلو آپ کی تصنیفی خدمات ہیں آپ نے متعدد علمی و دینی موضوعات پر قلم اٹھایا اور مختلف میدانوں میں اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا آپ کی تصانیف میں نور الطلاب فی علم الانساب ، تعلیم تفسیر محبی ، شرح نسائی المعروف ترجمہ محبی ، غرہ محجلین المعروف نور الاسلام ، الحبل القوی لہدایت الغوی ، تمسک اقویٰ باحادیث نبی الانبیاء ، نور المغیب ، ثبات بحیات حبیب اور نور الہدیٰ فی ترجمۃ المجتبی خصوصیت سے قابل ذکر ہیں ــ آپ نے اردو اور فارسی دونوں زبانوں میں علمی و ادبی خدمات انجام دیں فارسی زبان میں ترجمۂ قرآن بھی آپ کے قلمی آثار میں شامل ہے ــــــ
تصنیف و تالیف کے ساتھ آپ کو مناظرہ و مباحثہ میں بھی امتیازی مقام حاصل تھا آپ نے اپنے عہد میں خطۂ ترہت میں اہل سنت کے علمی موقف کی ترجمانی کی اور اپنے زور استدلال اور قوت بیان سے مخالفانہ افکار کا جواب دیا آپ کی نثری تحریروں کے ساتھ شعری ذوق کے نمونے بھی ملتے ہیں ـــــ
آپ کی اصلاحی اور تنظیمی خدمات بھی نہایت اہم ہیں آپ نے 1308ھ میں انجمن نور اسلام قائم کی اور 1310ھ مطابق 1892ء میں مدرسہ نور الہدیٰ کی بنیاد رکھی اس کے علاوہ مختلف علمی اجلاسوں اور کانفرنسوں کے انعقاد کے ذریعے دینی بیداری اور مسلکی شعور کو فروغ دیا 1342ھ میں رسالہ نور الہدیٰ کا اجرا بھی آپ کی علمی و دینی سرگرمیوں کا اہم حصہ تھا ـــــ
سرکار محبی علیہ الرحمہ اور اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان قادری بریلوی علیہ الرحمہ کے درمیان محبت و احترام کا گہرا تعلق تھا اگرچہ سرکار محبی اعلیٰ حضرت کے شاگرد یا مرید نہ تھے تاہم ان کے علمی مقام کے معترف اور ان کے مخلص محب تھے آپ نے اپنی تحریروں میں اعلیٰ حضرت کی علمی عظمت کا اعتراف کیا اور ان کے دفاع میں بھرپور قلمی خدمات انجام دیں ــــ
حضرت محبی علیہ الرحمہ کی کتاب الحبل القوی لہدایت الغوی پر اعلیٰ حضرت نے تقریظ تحریر فرمائی جس میں آپ کے لیے دین کی تائید اور مخالفین کے علمی تعاقب میں استقامت کی دعا فرمائی اس سے دونوں بزرگوں کے مابین علمی تعلق اور باہمی احترام کی اہمیت واضح ہوتی ہے ـــ
ماہ صفر 1324ھ میں پوکھریرا شریف میں منعقد ہونے والا عظیم الشان اجلاس بھی آپ کی زندگی کا ایک یادگار واقعہ تھا اس اجلاس میں اعلیٰ حضرت امام احمد رضا قادری علیہ الرحمہ کو مدعو کیا گیا تھا لیکن مصروفیات کے باعث آپ خود تشریف نہ لاسکے اور اپنے فرزند حجۃ الاسلام حضرت علامہ حامد رضا خان علیہ الرحمہ کو اپنا قائم مقام بنا کر روانہ فرمایا روایت کے مطابق اعلیٰ حضرت نے اپنا ایک قیمتی جبہ اور گرامی نامہ بھی سرکار محبی کی خدمت میں بھیجا یہ واقعہ دونوں بزرگوں کے باہمی تعلق کی یادگار حیثیت رکھتا ہے ـــ0ـ
سرکار محبی علیہ الرحمہ کی روحانی نسبت عارف باللہ حضرت سید شاہ داتا نور الحلیم کاشغری علیہ الرحمہ سے تھی جن سے آپ نے بیعت و خلافت کا شرف حاصل کیا آپ کے چار صاحبزادے تھے جن کے اسمائے گرامی حضرت مفتی ولی الرحمن علیہ الرحمہ ، حضرت علامہ عطاء الرحمن علیہ الرحمہ ، حضرت مولانا حافظ شریف الرحمن علیہ الرحمہ اور حضرت مولانا حبیب الرحمن علیہ الرحمہ ہیں ــــ
آپ کی حیات و خدمات کے بنیادی مآخذ میں آپ کی اپنی تصانیف اور ان پر اکابر اہل سنت کی تقریظات کے علاوہ تذکرہ اکابر اہل سنت اور حضرت مولانا ریحان رضا انجم مصباحی کی تحریریں قابل توجہ ہیں ــــ
بالآخر یہ آفتاب علم و فضل 18 جمادی الاولیٰ 1351ھ مطابق 19 ستمبر 1932ء بروز پیر صبح نو بجے غروب ہوگیا آپ کا مزار مبارک پوکھریرا شریف ضلع سیتامڑھی بہار میں واقع ہے جہاں اہل عقیدت آج بھی حاضری دے کر خراج عقیدت پیش کرتے ہیں ـــ
آپ کا سالانہ عرس مبارک 16، 17 اور 18 جمادی الاولیٰ کو مدرسہ نور الہدیٰ کے صحن میں منعقد ہوتا ہے اس کے علاوہ سرکار محبی کانفرنس اور دیگر تقریبات کے ذریعے بھی آپ کی علمی و دینی خدمات کو یاد کیا جاتا ہے ـــ
سرکار محبی حضرت علامہ شاہ محمد عبد الرحمن قادری علیہ الرحمہ کی زندگی ہمیں علم دین سے وابستگی اور حق گوئی کے ساتھ دینی اداروں کے قیام اور اہل علم سے محبت و احترام کا درس دیتی ہے آپ کی تصنیفی و تدریسی خدمات اور اعلیٰ حضرت سے محبت و عقیدت کا روشن باب تاریخ اہل سنت کا ایک قابل قدر سرمایہ ہے ـــ
اللہ تعالیٰ سرکار محبی علیہ الرحمہ کے درجات بلند فرمائے اور ہمیں اکابر اہل سنت کی علمی و دینی خدمات سے استفادہ کرنے کی توفیق عطا فرمائے ــــــ

0 تبصرے