حضور سر کار کلاں گلستان اشرف کےگل سرسبد

حضور سر کار کلاں گلستان اشرف کےگل سرسبد 

از مُحَمَّد  قاسم القادری غفرلہ

کچھو چھہ مقدسہ ہندوستان کا ایک مشہو ر معروف مردم خیز خطہ ہے آفاق عالم میں اس سر زمین کی عظمت و رفعت عروج و ارتقا کا شہرہ ہے اس سر زمين نے ملک و ملت کو بڑے انمول جواہر پارے اور نایاب ہیرے عطا فرماٸے جس کی نظیر پیش کرنے سے دنیا قاصر ہے 

افق عالم پر صدیوں سے اس مردم خیز خطہ میں علم و فضل امانت  و دیانت  ایثا و قربانی  جرأت و بہادری علم و ادب حلم و بردباری جاہ جلال فضل و کمال جود نوال شرف و بزرگی حسب و  نسب   تقوی  و پہیزگاری علوم و فنون  اخلاق  و کردار فکر و تدبر حکمت و احتیاط صبر رضا عقل داناٸی فھم فراست تصوف و روحانیت حب و وفاداری  کرنے والے افراد و اشخاص جنم لیتے رہے ہیں نیز یہ خطہ صدیوں سے علم و عرفان شریعت  و طریقت حقیقت و معرفت کرامت و ولایت کا مرکز رہا ہے ان شاء اللہ تا قیام قیامت رہے گا 

اس پاک متبرک و مطہر مقام یعنی کچھو چھ مقدسہ میں بڑے بڑے عظیم المرتبت عظیم البرکت اولیا علما صلحا اصفیا اتقیا فقہا پیدا ہوے جن کی دینی ملی فکری اعتقادی سیاسی سماجی خدمات سے عالم منور و تابناک ہوا اور آج بھی ملت بیضا کو اپنے فیضان کرم سے مستفیض و مستنیر کر رہا ہے

ان عظیم المراتب شخصیات میں تاجداران کچھوچھ مقدسہ میں تارک السلطنت مخدوم الملک غوث العالم سلطان سید اشرف جہانگير سمنانی رضی اللہ عنہ سے نسبت رکھنے والا یہ عظیم الشان گھرانہ ہے جو سات سو سال سے ملک ھند میں اپنی اعزازی شان کا حامل ہے اس خاندان کی شہرت بام عروج کو پہونچی ہوٸی ہے اس خانوادہ کی نرالی شان ہے کوٸی اپنے وقت کا مظہر امام اعظم ہے تو کوٸی پرتوٸے غوث اعظم ہے تو کوٸی جنید عصر ہے تو کوٸی غزالٸ دوراں ہے تو کوٸی رازٸ زماں ہے تو کوٸی فرید الاوان ہے تو کوٸی مجدد اسلام ہے تو کوٸی فقیہ اسلام ہے تو کوٸی مفسر اعظم ہے تو کویٸ مفتی اعظم ہے تو کوٸی ادیب اعظم ہے تو کوٸی محدث اعظم ہے تو کوٸی مدبر اعظم ہے تو کوٸی محقق اعظم ہے تو کوٸی مفکر اعظم ہے تو کوٸی شیخ اعظم ہے تو کوٸی خطیب اعظم ہے تو کوٸی منصف اعظم ہے تو کوٸی داعی اعظم ہے تو کوٸی شارح اعظم ہے تو کوٸی صوفی اعظم ہے تو کوٸی ولی اعظم ہے تو کوٸی شاعر اعظم ہے اللہ تعالی نے اس خاندان عاليہ کے حصہ میں وہ نعمت عظمی ودیعت فرماٸی ہے   ارباب علم دانش میں کسی کو نصیب نہیں ہوٸی ہو سکتا ہے کہ کسی کو ان سطروں میں مبالغہ آراٸی نظر آتی ہو مگرحقیقت یہی ہے کیونکہ کہیں علم فضل ہے تو شرف سیادت نہیں کہیں سیادت و تقوی طھارت ہے علم و حلم نہیں کہیں علم و سیادت ہے تو تقوی و طہارت  اور احتیاط نہیں  مگر اس خانوادہ میں  یہ تینوں خوبیاں بدرجہ اتم موجود ہیں اس خانوادہ کو جس زاویہ سے دیکھٸے تمام خانوادوں میں منفرد و ممتاز نظر آٸے گا 

ولادت باسعاد 

اس سلسلہ کی کڑیوں میں ایک عالی شان شخصیت امام اہلسنت مقتداٸے ملت فقیہ اسلام یادگار اعلحضرت ااشرفی حجة السلف عمدة الخلف علامة الزماں منبع العرفاں شمس العارفین زبدة الذاکرین سراج السالکین سلطان المرشدین حضور مخدوم المشاٸخ تاج الفقہا اولاد غوث اعظم فرزند مخدوم اشرف  دلبند احمد اشرف نبیرٸہ اعلحضرت اشرفی حضرت العلام الحاج الشاہ المفتی السید مُحَمَّد  مختار اشرف اشرفی الجیلانی المعروف سرکار کلاں نور اللہ مرقدہ ٢٦ جمادی الاخری ا٣٣٣ھ مطابق ١٢ مٸ ١٤١٥ ٕ بروز چہار شنبہ اس خاکدان گیتی پر ضو فگن ہوٸے آپنے علمی عرفانی تہذیبی نورانی  ماحول میں آنکھ کھولی علمی گھرانے کی روایت کے مطابق چھٹی کے دن ہم شبہ غوث اعظم سرکار سید علی حسین اعلیحضرت اشرفی میاں نے آپکو قلم پکڑایا اور ساتھ ہی ساتھ اپنا تاج بھی پہنایا اس عمل سے گھر والوں کو حیرت ہوٸی تو حضور عالم ربانی آپکے والد بزگوار سلطان المناظرین عالم ربانی سید شاہ احمد اشرف اشرفی جیلانی نے فرمایا ابا جان نے ان کو اپنا ولی عہد بنا لیا ہے جب اپکی عمر مبارک ٤ سال ٤ ماہ ٤ دن کی ہوٸی تو بزرگوں کے دستور کے مطابق اعلی حضرت اشرفی میاں نے بڑے تزک احتشام کے ساتھ  رسم بسم اللہ خوانی کراٸی اور اپنے حصول علم کا آغاز فرمایا کیونکہ آپ علمی روحانی گھرانے کے چشم و چراغ تھے پورا گھرانہ علم و عرفان کی ضیاباریوں ضوفشانیوں سے درخشاں و منور  اور خوشبوں سے معطر تھا اور رب کریم نے بڑی فطانت و ذہانت سے نوازا تھا اسلے آپ علم کی منزلوں پر کامژن ہوتے چلے گٸے 

بچن کا ایک اہم واقعہ 

حضور مخدوم المشاٸخ بچپن میں بات نہیں کرپاتے تھے باتیں سنتے تھے سمجھتے تھے ایک مرتبہ آپ اپنے جد امجد سرکار مخدوم اشرف علیہ الرحمہ کے آستانے پر شام کے وقت حاضر تھے مزار پر انوار کے سرہانے غنودگی طاری ہونے کیے سبب جالی سے لگ کر آپ سو گے آستانہ بند کرتے وقت آپکو کسی مجاور نے نہیں دیکھا آستانہ عاليہ بند کر دیا 

باہر کی حالت یہ کہ پورا کچھوچھ مقدسہ بسکھاری میں حضرت کی گمشدگی کا ہنگامہ تمام جگہ تلاش کیا حتی کہ نیر شریف میں بھی تلاش کیا پر آپکا کوٸی سراغ نہ مل سکا والد والدہ کافی پرشان ہوٸے کافی تلاش ب

سیار کے بعد بھی کو ٸی پتہ نہ چل سکا 

جب صبح نمودار ہوٸی خادم نے آستانہ عالیہ کھولا تو اس کی حیرت کی انتہا نہ رہی کہ آپ مزار کی جالی کے پاس بے خبر محو اسراحت ہیں فورا خادم نے آپکو دوڑ کر اٹھا لیا پوچھا بابو سردی تو نہیں لگی تھی آپ نے فرمایا سردی کیوں لگتی میں تو اپنے دادا جان کے پاس تھا اللہ کی شان و قدرت جب آپ اٹھے تو بولتے ہوٸے ہی اٹھے  جب والد بزگوار کو معلوم ہوا فورا حاضر ہوٸے اور فورا اپنے نور نظر کو اپنے سینے سے لگا لیا والد بزرگوار نے بچہ جان کر رات میں جو کچھ دیکھا تھا کہ کہیں لوگوں راز کو ظاہر نہ فرمادے تمام کو سلب کر لیا آپ کی قوت گویاٸی سے گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گٸی 

اظہار الاخیار ص ٢٧٠ مطبوعہ اشرفی ایجوکيشنل بہار ملخصا 

یہ تھی آپ جد روحانی کی آپ پر شفقت ومحبت کہ اپنی بارگاہ میں بلاکر بچپن ہی میں انعام و اکرام سے نواز کر چند ہی ساعات میں قوت گویاٸی بخش کر عالم کا رونٸ مقتدا وپیشوا بنا دیا اور اللہ جانے کتنے کیا کیا جد اعلی نے نوازشیں سرکار پر فرماٸیں ذالک فضل اللہ یوتیہ من یشا ٕ    

تعلیمی سفر

بتداٸی تعلیم حضور سرکار کلاں نے جامعہ اشرفیہ کچھوچھ مقدسہ میں حضرت مولانا عماد الدین سنبھلی سےاور مفتی عبد الرشید اشرفی نعیمی سے حاصل کی اپنی ذہانت و  فطانت اور محنت شاقہ و لگن سے اساتذہ کا دل جیت لیا اور اساتذہ کرام بھی اپ پر شفقت  و محبت فرماتے تھے پھر اس کے بعد بارگاہ اشرفی کے خسرو آقاٸے نعمت صدر الافاضل فخر الاماثل سید نعیم الدین اشرفی علیہ الرحمہ سے دورہ حدیث  کیا تکمیل کے بعد صدر الاضل علیہ الرحمہ نے اعلی حضرت اشرفی میاں سے عرض کیا حضور حضور آپ اپنے دست مبارک سے دستار باندھیں چنانچہ دستار بندی کی رسم اعلی حضرت  اشرفی میاں نے اپنے وصال سے چند دنوں پہلے خانقاہ اشرفیہ آستانہ عاليہ سلطان سید اشرف جہانگير سمنانی پر اپنے دست مبارک سے آپ کے سر پر باندھ کر ادا فرماٸی اور سند حدیث صدرالافاضل نے عطا کی 

بیعت و ارادت 

٩ سال کی عمر مبارک ابھی آپ کی ہوٸی تھی کہ والد بزرگوار داغ مفارقت دے کر دار بقا کی طرف رحلت فرماگے إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ 

بچپن ہی سے آپ اپنے جد مکرم و معظم شیخ المشاٸخ سر کار سید شاہ علی حسین اعلی حضرت  اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کے ساٸہ عاطفت و شفقت میں رہے اور اپنے جد کریم کے دست حق پرست پر بیعت ہوٸے ان کی نگاہ ولایت سے سینہ اسرار و معارف اور کشف و فراست کا گنجینہ بن گیا جد مکرم نے کتنا نوازہ ان نوازشات عطیات کا کوٸی اندازہ  نہیں کر سکتا ظاہری علوم و فنون کے بعد تعلیم سلوک راہ فقر درویشی کے رموز واسرار اپنے جد مکرم سے حاصل کٸے پھر داداجان نے اپنے لاٸق و فاٸق پوتے کو اپنی خصوصی نوازشات سے جملہ سلاسل خاندانی میں خلافت سے سرفراز فرمایا نیز تمام اورادو وظاٸف اور عملیات کی بھی اجازت مرحمت فرماٸی اعلی حضرت  اشرفی میاں نے اپنی امانتوں کا امین بنا دیا 

مسند سجادگی پر بر اجمان 

اعلی حضرت عظيم البرکت پروانٸہ شمع رسالت  مجد د سلسلہ  اشرفیہ سرکار سید شاہ علی حسین اشرفی الجیلانی سجادہ نشین خانقاہ اشرفیہ حسنیہ کچھو چھ مقدسہ کا فرمان عالشان 

نحمدہ و نصلی علی رسولہ الکریم 

زلاف حمد و نعت اولی است بر خاک ادب خفتن 

سجود ے میتواں کردن درودے میتواں گفتن 

فقیر سید ابو احمد علی حسین اشرفی جیلانی سجادھ نشین درگاہ روح آباد کچھوچھ شریف ضلع فیض آباد اپنے تمام فرزندان خاندانی و برادران ایمانی مریدان و متوسلان سلسلٸہ اشرفیہ و عقیدت مندان شگرفیہ کو آگاہ کرتا ہے کہ اس فقیر نے اپنے پلہے فرزند مطلق و خلیفٸہ برحق عالم ربانی واعظ لا ثانی مولانا ابو المحمود سید احمد اشرف علیہ الرحمہ کو اپنا ولی عہد اور بعد سجادہ نشین جادٸہ اشرف السمنانی مقرر کیا تھا چنانچہ  ١٣٢٩ھ کو جب فقیر تیسرا حج کیا تو طاٸف شریف مدینہ منورہ بیت المقدس اور دوسرے عتبات عاليہ کربلا معلی نجف اشرف کاظمین شریفین غار سرمن راں بغداد شریف حامہ شریف وغیرہ کی زیارت کی اور تاریخ عرس محبوب یزدانی نو ر بخشی و سامانی قدس سرہ میں کچھوچھ شریف میں نہیں پہونچ سکا تو اپنے فرزند موصوف کو سجادہ نشینی کی رسم کرنے کا اپنے بجاٸے حکم بھیج دیا جس کو انھوں نے بکمال حسن خوبی مثل میرے انجام مہمانوں کی پوری خدمت کی اور بکمال ادب مرشد بجاٸے خرقہ پوشی کرنے کے اس کی زیارت کرادی زندگی بھر خدمت کرتے رہے اور میری ہر بات کو مقدم رکھا 

فرزند ممدوح ١٥ ربیع الاآخر ١٣٣٤ھ بعارضٸہ اسہال طاعون حالت نماز میں شہادت پاٸی تو ان کی مجلس چھلم میں بموجود فرزندان خاندانی و مریدان و خلفا مثل خلیفہ برحق سید غلام بیگ المخاطب بہ فقیر شاہ از اولاد ابو الحسن سدا بہار و حاجی معزالدین رٸیس ابراہیم پوری و نذیر حسین رٸیس اگر پوری از شیوخ جونپوری اور تمام ھندستان سے محبان سلسلہ جو آٸے تھے سب کے سامنے فقیر نے اپنے فرزند کے فرزند اپنے پوتے اور دلبند سید مُحَمَّد  مختار اشرف عرف مُحَمَّد  میاں سلمہ ربہ کو اپنا

مرید کرکے اپنا ولی عہد بنایا اور سب حاضرین نے بکمال اکرام ان سے مصافحہ کیا اور ان کے علم و عمل و اقبال کے لے دعا کی گٸ 

اللہ تعالی کا لاکھ لاکھ شکر ہے کہ ان کی دستار بندی ہو چکی ہے اور علوم معقول و منقول تفسیر و حدیث و فقہ و معانی و تصوف کو بکمال جانفشانی جامعہ اشرفیہ جو اس فقیر کا بنایا ہو دار العلوم ہے حاصل کیااور فقیر نے اپنی آرزو کے موافق ان کو دیکھ لیا اور اپنا سچا ولی عھد پایا اب اشارٸہ غیبی سے اس فرمان و اعلان کے ذریعہ سب کو آگاہ کرتا ہوں کہ نور نظر و عصاٸے پیرم مولانا سید شاہ مُحَمَّد  مختار اشرف  اشرفی جیلانی زاد اللہ عمرہ و عرفانہ میرے بعد سجاد ہ نشین جادٸہ اشرف السمنانی خاندان حسنی سرکار کلاں کے  ہیں  جو مثل میرے تمام مراسم عرس شریف ٢٦ محرم مغرب سے ٢٩ محرم تک ادا کرتے رہنگے مہمانوں کی بکمال کشادہ پیشانی خدمت کرتے رہنگے اور ٢٨ محرم کو حسب معمول فقیر عرس حضرت مخدوم اشرف تارک السلطنت محبوب یزدانی قدس سرہ کا کرینگے تاریخ وصال ٢٨ محرم ٨٠٨ھ ہے اور مثل میرے خانقاہ جس کی پرانی اور خام حد میں ایک حصہ زنانہ ان مہمان عورتوں کے لے ہے جو حاضر زیارت کے لے ہوتی ہیں اور جدید پختہ حد میں صرف شرقی کنارہ پر پانچ کمرہ بنا ہوا ہے اور ابھی چار کمرہ اسی طرح باقی ہے اور اسمیں پاخانہ باورچی خانہ و سماع خانہ کی بنیاد واقع ہے غرض تمام قدیم اور جدید عمارت کے بلا استثنا کسی کے بحیثیت سجاد ہ نشین متولی اور نگہداشت و حفاظت کے ذمہدار ہونگے اور جب اللہ ان کو وسعت دے خانقاہ کو پختہ بنواٸیں تو سماع خانہ کو غربی سمت میں مکان زنانہ موجودہ کے صحن تک لے جاٸیں اور زنانہ حصہ کو مردانہ کرکے اسمیں حجرہ خرقہ پوشی بنواٸیں اور زنانہ حصہ باورچی خانہ کی چھت پر بنواٸیں اور مراسم خرقہ پوشی قل قوالی سماع خانہ میں انجام دیں میرے تمام فرزندان خاندانی ان کی اطاعت کریں اور مدد کرتے رہیں اور میرے مریدان ان کو اپنا مرشد جانیں اللہ تعالی میرے فرزند و جانشن کو عارف کامل و ولی صاحبدل بناٸے آمین فقط 

عقد مسنون اور اولاد و امجاد

جب سرکار کلاں عہد شباب پر پہنچے تو ہم شبیہ غوث اعظم اعلی حضرت اشرفی میاں نے اپنے چھوٹے صاحبزادے عارف باللہ عاشق رسول اللہ تاج الاتقیا زبدة الاذکیا سید شاہ مصطفی اشرف اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ کی بڑی صاحبزادی سے عقد مسنون  فرمایا اللہ ﷻ نے اس رشتہ میں خوب برکتیں فرماٸیں سرکار کلاں کے گلشن میں خوب پھول مہکے جن سے اھل بیت کی آنکھیں ٹھنڈی ہوٸیں ان سے تین صاحبزادے اللہ ﷻ نے عطا فرماٸے 

١ شیخ اعظم مخدوم العلما سید شاہ مُحَمَّد  اظہار اشرف  اشرفی الجیلانی علیہ الرحمہ جو سرکار کلاں کے جانشین اور منسد سجادگی پر جلوہ فگن تھے 

٢ مدبر قوم سید شاہ احمد اشرف اشرفی الجیلانی 

٣ مفکر اسلام سید علی اشرف اشرفی الجیلانی 

شریک حیات کے وصال پرملال کے بعد آپ نے دوسرا عقد مسنون فرمایا اس نکاح میں بھی مولی تعالی ﷻ نے خوب برکتیں پیدا فرماٸیں ان سے اللہ تعالی نے دو صاحبزادے تیں صاحبزادیاں عطا فرماٸیں 

١ انوار المشاٸخ سید شاہ انوار اشرف اشرفی الجیلانی 

٢ سید شاہ حسن اشرف اشرفی الجیلانی 

تین صاحبزادیاں 

اخلاق عادات 

سرکار کلاں کی ذات گرامی گونا گوں محاسن کے ساتھ اخلاق حسنہ کی بھی پیکر تھی کیونکہ انسان کی سب سے بہتر خوبی اسکا اخلاق  حسنہ ہے یہ ایسی خوبی ہے جو ہزارہا خوبیوں پر فاٸق ہے یہ ایسا وصف ہے تاجدار کاٸنات ﷺ نے اس پر بہت زیادہ زور دیا ہے اخلاق حسنہ ایسی انمول نعمت ہے جس کے زریعہ بگانے بھی اپنے بنتے ہیں دشمن بھی دوست بنے پر مجبور ہوتے ہیں بد اخلاقی ایسا وصف ہے جس سے اپنے بھی بیگانہ ہوتے ہیں 

حضور تاجدار کاٸنات ﷺ نے فرمایا انما بعثت لاتمم مکارم الاخلاق میں تمھیں اچھےاخلاق کی تعلیم کے لے بھیجا گیا ہوں 

بھقی السنن الکبری ج ١٠ ص ٣٩٣ مطبوعہ دار الکتب العلمیہ بیروت 

دوسری حدیث میں حضور ﷺ نے فرمایا خیارکم اطولکم اعمارا و احسنکم اخلاقا تم میں بہتر وہ لوگ ہیں جو لمبی عمر پاٸیں اور وہ اخلاق حسنہ کے پیکر ہوں  مجمع الزواٸد 

تیسری حدیث  میں ہے 

ام المٶ منین حضرت عاٸشہ صدیقہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور ﷺ نے فرمایا ان من اکمل المٶمنین ایمانا احسنھم خلقا مٶمنین میں سے کامل ترین مٶمن وہ ہے جو بہترین اخلاق کا مالک ہے 

ترمذی کتاب الایمان باب ماجا ٕ فی استکمال الایمان وزیادتہ و نقصانہ ج ثانی ص ٧٩ مطبوعہ دیوبند 

چوتھی  حدیث میں ہے ان المٶمن من لیدرک بحسن خلقہ درجة الصاٸم القاٸم یقينا مومن حسن اخلاق کے ذریعے دن کو روزہ رکھنے اور راتوں کو قیام کرنے والے کا درجہ حاصل کر لیتا ہے 

ابوداٶد کتاب الادب باب فی حسن خلق  ج ثانی ص ٦٦١مطبوعہ دیوبند 

پانچویں  حدیث میں ہے ما من شٸ اثقل فی المیزان من حسن الخلق حسن اخلاق سے بڑھکر میزان میں بھاری کو چیز نہ ھوگی 

ترمذی کتاب البر والصلہ باب ما جا ٕ فی حسن الخلق ج ثانی ص ٢٠ مطبوعہ دیوبند 

سرکار کلاں کی ذات ان احادیث کریمہ کا پیکر تھی لوگوں سے مل 

اقات کرتے وقت خندہ پیشانی سے پیش آتے آپکی بارگاہ کا یہ طرٸہ امتیاز ہے کہ امیر و غریب کے مابین کوٸی فرق نہ تھا سب کے ساتھ محبتانہ شفقت اور بزرگانہ عاطفت سے پیش آنا جو فرد بھی آپ کی بارگاہ کا حاضر باش ہوتا محبتوں میں سرشار ہوکر جاتا آہکی بارگاہ سے کوٸی فرد بھی کبیدہ خاطر ہوکر نہ گیا بلکہ جو آتا آپ کے بلند اخلاق و کردار سے متاثر ہوٸے بغیر نہ جاتا دعاٸیں دینا لوگوں کی التجاٸیں سنا آپ کی عام عادت کریمہ تھی اسلیے جہاں تشریف لے گے لوگوں کا جم غفیر اکھٹا ہوگیا لوگوں نے اپنی پلکوں کو فرش  راہ بنایا 

حضور سرکار کلاں کا حسن اخلاق اپنے دامن میں وسیع کاٸنات سمیٹے ہوٸے تھا  جس کے اندر اھل بیت اعزہ اقربا احباب رفقا علما صوفیا مریدین معتقدین منسلکین الغرض  اپنے پراے سب رطب اللسان تھے کہ سرکار کلاں مجھ سے زیادہ محبت فرماتے ہیں جو فر د بھی آپ سس محو گفتگوں ہوتا اس کی زباں پر یہی ہوتا تھا کہ حضور کو مجھ ہی سے زیادہ محبت ہے 

اتباع شریعت  

سرکار کلاں کی حیات ایک روشن پہلو آپکا عامل شریعت متبع سنت ہونا بھی ہے کیونکہ شریعت مُحَمَّدیہ کی پیروی ہی نجات اخروی کا زینہ اور قرب خداوندی کا ذریعہ  ہے اس کے  بغیر ولایت و کرامت تو کجا کوٸی فر د کامل الایمان بھی نہیں ہو سکتا اسی بنا پر اولیا مقربین بارگاہ الھی خود متبع شرع رہے اور اپنے مریدین و معتقدین کو بھی اس کی ترغیب دیتے رہے 

حضور غوث اعظم شیخ عبد القادر جیلانی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں اگر حدود شریعت میں سے کسی حد میں خلل آجاٸے تو جان لے کہ فتنے میں پڑا ہوا ہے بشیک شیطان تیرے ساتھ کھیل رہا ہے 

طبقات اولیا ج اول ص ١٣١ 

اس تناظر میں سرکار کلاں کی زندگی کا جاٸزہ لیا جاے تو یہ بات اظھر من الشمس و اجلی من القمر ہے کہ سرکار کلاں آپ اتباع شریعت کا بہت ہی زیادہ پاس و لحاظ فرماتے تھے سفر و حضر ہر گام پر پابندٸے شرع لازم تھی فراٸض و واجبات کو ان کے وقت مقرر ہ پر ادا کرنا ساتھ ہی ساتھ سنن و نوافل و مستحبات کو بکثرت ادا فرماتے اس کا اندازہ آپکو ان اقتباسات سے بخوبی ہو جاٸے گا 

ڈاکٹر قمر الدین اشرفی لکھتے ہیں اتباع شریعت کا جو نمونہ آپ نے پیش فرمایا ہے اس کی مثال ماضی قریب میں نہیں ملتی اپنی 84 سالہ زندگی میں کبھی کوٸی خلاف شرع کام نہ کیا آپکی حیات کا ایک ایک لمحہ اتباع سنت میں گزرتا تھا بچپن سے لیکر جوانی اور جوانی سے لیکر عمر کی آخری سانس تک کوٸی قدم سنت مصطفی علیہ التحیتہ والثنا ٕ کے خلاف نہ اٹھایا

سرکار کلاں بحیثیت مرشد کامل ص ١٢  

حضرت مولانا قاری احمد جمال قادری لکھتے ہیں مشاٸخ سلسلہ اشرفیہ ہمیشہ جادہ شریعت پر گامزن رہے اور اپنے قول و عمل سے مریدین و معتقدین کو شریعت کا درس دیتے رہے اپنے اکابرین کے امین اور خانقاہ اشرفیہ حسنیہ کے معمولات و مراسم کے پاسدار و پاسبان حضور شیخ المشاٸخ سرکار کلاں ہمیشہ جادہ شریعت پر قاٸم رہے  

ماھنامہ غوث العالم کا سرکار کلاں نمبر جلد٣ شمارہ ٧ ٢٠٠٦ ٕ ص ١٧٢ 

آپکی زندگی آپکے احوال و کواٸف اور اعمال و کردار کا مشاہدہ کرنے والے مولانا غلام غوث اشرفی لکھتے ہیں ایک مرتبہ حضرت کی طبیعت سخت خراب ہو گٸ یہاں تک کہ لکھنٶ لے جانا پڑا جس کے کے ایمبولینس لاٸی گٸ اور آپکو اس میں لٹا دیا گیا امبولینس میں حضرت کے دو خادم خاص مُحَمَّد  افضل مُحَمَّد  رفیع تھے اس کے علاوہ سید انوار اشرف و حضرت سید محمود اشرف صاحبان کی کاریں امبولینس کے آگے پیچھے تھیں راستے میں ایسا معلوم ہو رہا تھا کہ سرکار کلاں سو رہے ہیں اکبر پور سے پھلے ایک جگہ گاڑیاں رکیں اور ہم لوگوں نے چاٸے وغیرہ پی حضرت اسی انداز میں سوٸے رہے جب اکبر پور سے گاڑی کافی  آگے نکل گٸ تو حضرت نے لیٹے لیٹے بغیر گھڑی دیکھے اچانک ارشاد فرمایا گاڑی رکواٶ عصر کا وقت  ہو چکا ہے میں نے ڈارٸیور سے کہا جہاں ہنیڈ پاٸپ نظر آٸے وہیں روک دینا چند منٹ مسافت طے کرنے کے بعد ہینڈ پاٸپ نظر آیا اور گاڑی روک دی گٸ افضل سے میں نے کہا کہ جاٶ لوٹے میں  پانی لے آٶ حضرت نے فرمایا چھوڑو لوٹا لوٹی مصلی بچھاٶ چنانچہ  مصلی بچھا دیا گیا حضرت نے عصر کی نماز پڑھی اور ہمیں بھی پڑھنے کا حکم دیا اللہ اکبر ایسی عمر اور ایسی حالت میں ظہر سے لیکر عصر تک با وضو تھے ہم لوگ تو یہ سمجھ رہے تھے کہ آپ سو رہے ہیں مگر حضرت تو صرف لیٹے ہوٸے تھے سوٸے نہیں تھے کہ لیٹے ہی لیٹے با رعب انداز میں فرماتے ہیں کہ گاڑی رکواٶ عصر کا وقت ہو گیا ہے ایسا کو ٸی پابند شرع اہل باطن ہی ہو سکتا ہے  جس کی آنکهيں بند ہوکر بھی اوقات کا مشاہدہ کر سکتی ہیں بعد عصر گاڑی آگے بڑھی جب فیضآباد روڈ پر پہونچی تو اسی حالت میں کمبل اوڑھے ہوٸے فرمایا گاڑی رکواٶ نماز مغرب کا وقت ہو گیا ہے جب دیکھا گیا تو واقعی مغرب کا وقت ہو گیا تھا اتنے میں مختلف سمت کی مساجد سے اللہ اکبر کی صداٸیں گونجنے لگییں پھر پانی لایا گیا حضرت نے وضو فرمایا پھر نماز ادا فرماٸی پھر جب ہم لکھنٶ پہنچے تو فورا لاٸف ہاسپیٹل میں آپکو ایڈمٹ کر دیا گیا ح

ضرت نے وہاں پہونچتے ہی مغرب کے وضو سے نماز عشا ادا فرماٸی 

سرکار کلاں کے آخری سفر کا آنکھوں دیکها حال ص ٣١٢ ملخصا  

تعلیمی امور میں سرکار کلاں کے کارہاے نمایاں 

سرکار کلاں کا تعلق اس کھرانے سے ہے جہاں آنکهيں کھولتے ہی آپ نے علوم فنون شریعت و طریقت حقیقت و معرفت کی گتتھیاں سلجھتی ہوٸی دیکھیں در و دیوار سے صداے حقائق و معارف کا نقارہ بجتا ہوا سنا تھا جہاں وقت کے محقق و مفسر طفل مکتب بنیے ہوٸے نظر آتے تھے اور جہاں بڑے صاحبان علم و فضل اپنی تشنگی بجھانے آتے تھے جو گھرانہ سات صدیوں سے علما و مشاٸخ کی آماجگاہ و منبع و مرجع   بنا ہوا تھا جس ہونہار ذہانت و فطانت کے در یکتا اور روحانیت کے پیکر نے ایسے فیض یافتہ ماحول میں آنکھ کھولی ہو اور اس دلربا ماحول میں پرورش پاٸی ہو اس کی نگاہ میں علم کی کس قدر قدر منزلت ہوگی یہ وجہ ہے کہ آپنے فروغ علم کے لے وہ کاہاٸے نمایا انجام دٸے جسے رہتی دنیا تک ہرگز فراموش نہ کیا جا سکتا آپکو اسکا بات کا علم پہلے ہی تھا کہ مدارس اسلاميہ سے مذھب ملت کی بقا کا رازمضمر ہے  نسلوں کے اخلاق اطوار کی نشو نما اسی تعلیم پر منحصر ہے ایمان کا تحفظ ملت بیضا کو راہ راست پر انھیں مدارس کے علما و فضلا گامزن کرینگے آپکی علمی خدمات کا اندازہ اس سے لگایا جا سکتا ہے کہ ٢٢مارچ ١٩٧٨ ٕ آپ مرکز تعلیمات اسلامی (شعبہ نشر و اشاعت ) علیگڑھ میں جلوہ افروز ہوٸے ادارہ ھذا کے اراکین نے استقبالیہ دیا حضرت نے اپنے زرین اقوال سے فیضیاب کیا اور ادارہ کے لٸے دعا فرماٸی اور اس کے فروغ و ارتقا کے لے اپنی جیب خاص سے خطیر رقم عطا فرماٸی ادارہ کی توسیع کے لٸے چند تجاویز پیش کیں اور ہمیشہ مدد کرنے کا وعدہ کیا  

ماہنامہ غوث العالم کا سرکار کلاں نمبر ص ١٠ 

امدارس اسلاميہ قاٸم فرماٸے ملک بیرون ملک میں کثیر مدارس کے سرپرست اعلی رہے

اس ضمن میں درجہ ذیل ادارے قابل ذکر ہیں 

جامع اشرف کچھوچھ مقدسہ 

جامعہ نعیمیہ مرادآباد 

مدرسہ اجمل العلوم سنبھل 

دار العلوم اسحاقیہ جودھپور راجستھان 

دارالعلوم فیضان اشرف ناگور راجستھان 

جامعہ عربیہ ناگپور

احسن المدارس کانپور  

مدرسہ نور العلوم سیفنی رامپور نیز

 جگہ بہ جگہ متعدد  شاخیں قاٸم فرماٸیں  جو آپکی علم دوستی کا بین ثبوت ہے  جہاں سے ایک جہاں ہر سال فیضیاب ہو رہا ہے 

    مسلکی تصلب 

سرکار کلاں اس خانوادہ سے ہیں جسنے ہمیشہ دین و مذہب اور مسلک اہل سنت کی تجویز و اشاعت میں تن من دھن کی بازی لگادی اور بغیر خوف و لاٸم باطل طاقتوں اور فرقہ وارانہ طاقتوں سے کبھی سمجھوتانہ کیا بلکہ احقاق حق اور ابطال باطل میں اپنے مذھب و مسلک پر مضبوطی سے قاٸم رہے سرکار کلاں نے  اپنے اجداد کی روش پر چل کر ہر موڑ پر باطل کے نشیمن کو خاکستر کرکے رکھ دیا تزویج سنیت اور رد بد مذہبیت میں اہم رول ادا کیا باطل فرقوں سے دور و نفور ہونے میں وہ نقوش چھوڑے جو آج بھٸ آپکی نسل میں زندہ و جاوید ہیں اور آپنے اپنے مریدین و معتقدین کو مسلک حق اہل سنت و جماعت پر مضبوطی سے قاٸم رہنے کی ھدایت کی جس کے اثرات آج بھی آپ کے مریدین و معتقدین میں دیکھنے کو ملتے ہیں  

سرکار کلاں بحیثیت محدث

مفتی اعظم مرادآباد استاذی الکریم مفتی مُحَمَّد  ایوب نعیمی شیخ الحدیث جامعہ نعیمیہ مرادآباد  مدظلہ العالی تحریر فرماتے ہیں سرکار کلاں کے علم کا کمال اور حدیث پاک کے رموز کا انکشاف باتوں باتوں میں اسطرح فرماتے کہ حاضرین علما و طلبہ دنگ رہ جاتے اور صداٸے ترحیب بلند کرتے 

ایک بار درس حدیث کے وقت تشریف لاٸے کہ درس اس حدیث کا چل رہا تھا کہ آقاٸے کاٸنات فخر موجودات علیہ و علی الہ اٰ لاف التحیات بنو نجار کے ایک باغ میں تشریف فرما تھے دریاٸے کرم جوش میں آیا فرمایا اے ابوھریرہ میرے نعلین لیکر جاٶ اور ہر آنے والیے کو جو کلمہ طیبہ کا صدق دل سے یقین رکھتا ہو جنت کی بشارت دو حضرت نے فرمایا تخصیص نعلین کی وجہ ? سب خموش تھے فرمایا اشارہ ہے کہ جب تک دنیاٸے عقیدت میں مومن کے سر پر نعلین اقدس کا تصور نہ ہو وہ بشارت سے محروم ہے 

سامعین کا دل باغ باغ ہو گیا کبھی عبارت پڑھتے تو معلوم ہوتا کہ کوٸی جملہ صرف  و نحو کے ضوابط سے خارج نہیں 

ماہنامہ غوث العالم کا سرکار کلاں نمبر ج ٣ ص ٥٠

احسن القرا قاری احمد جمال القادری سابق شیخ التجوید جامعہ نعیمیہ مراداباد رقم کرتے ہیں حضور سرکار کلاں اپنے وقت کے عظيم محدث تھے یہی وجہ ہے کہ ہندستان کے اکثر بڑے مدارس میں بخاری شریف اور دیگر حدیث کی کتابوں کا سالانہ امتحان لیتے تھے اور ختم بخاری بھی کراتے تھے جامعہ اشرفیہ عربی یونيورسٹی مبارکپور میں جس وقت میں زیر تعليم تھا ہر سال شعبان المعظم میں بحیثیت ممتحن آپ تشریف لاتے ١٩٦٨ ٕ میں جب راقم الحروف یعنی احمد جمال فضیلت میں پہونچا تو اس سال بھی حضرت ہی کے پاس ہم تمام ساتھیوں نے بخاری شریف کا امتحان  دیا 

سرکار کلاں نمبر ج ٣ ص ا٧٣  

سرکار کلاں بحثیت فقیہ اسلام 

استاذی الکریم مولانا نسیم الدین ثقافی  سابق استاد

جامعہ عربیہ بدر العلوم جسپور اتراکھنڈ تحریر فرماتے ہیں مخدوم المشاٸخ حضور سرکار کلاں فقہ و افتا کے سمندر میں بھی غوطہ زن ہوٸے اور بڑے ہی گراں بہا موتی حاصل کٸے جامعہ اشرفیہ کچھوچھ  میں مسند تدریس پر متمکن ہو کر جہاں آپ نے طلبہ کی علمی پیاس بجھاٸی وہیں مسند افتا پر جلوہ افروز ہوکر آٸے دن پیدا ہونے والے عوام کے مشکل اور گنجلک مساٸل کی عقدہ کشاٸی فرماٸی فتاوی نویسی کے کام  میں تسلسل تو نہ رہ سکا کیونکہ خانقاہی ذمہداریوں کے پیش نظر تبليغی دورہ بھی ضروری تھا مگر کسی نہ کسی طرح ایک مدت تک آپنے یہ خدمت انجام دی آپ کے نوک قلم سے تحریر شدہ فتاوی اس امر کے واضح ثبوت ہیں کہ فقہ حنفی کی کتب میں آپ کو کامل دسترس بلکہ حیرت کی حد تک گہراٸی اور گیراٸی بھی حاصل تھی

ماہنامہ غوث العالم کا سرکار کلاں نمبر ج ٣شمارہ ٧ ص ٢١٨ 

مولانا عارف اللہ فیضی استاد مدرسہ عربیہ فیض العلوم رقم کرتے ہیں کہ حضرت سرکار کلاں  کی نظر فقہی  قواعد و جزٸیات کو حاوی اور حالات زنانہ سے پوری طرح آگاہ ہے وہ آپ نہات سادہ اور واضح انداز میں شرعی مصادر مراجع کی روشنی میں ساٸل کو مطمئن کرتے ہیں 

سرکار کلاں نمبر ج ٣ ص ٩٤ 

حضرت  مخدوم المشاٸخ فقہ و افتا میں ید طولی رکھتے تھے جزٸیات پر کامل عبور تھا محققانہ فتاوی قلم بند فرماتے  تھے کتب فقہ کے حوالوں سے مسائل شرعیہ کو محقق و منقح فرماتے تھے آپ کی حیثیت ایک مقبول مفتی کی تھی آپ جس فتوی پر دسخط کر دیتے وہ فتوی قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا آپکا قول قول فیصل ہوتا آپکا فیصلہ سب کو قابل تسليم ہوتا  

حضرت مولانا مفتی عبد الجلیل اشرفی فقہ و افتا میں آپ کی فقیہانہ بصیرت اور وسعت علم کا انکشاف کرتے ہوٸے رقمطراز ہیں کہ سرکار کلاں مخدوم المشاٸخ کی علمی صلاحیت و رعب و دبدبہ ایسا تھا کہ جامع اشرف سے جو بھی فتاوی دٸے جاتے تھے موصوف کے زمانہ  میں بغیر آپ کی تصدیق کے نہ بھیجے جاتے تھے جب میں کسی بھی سوال کا جواب لکھتا تو پہلے حضرت کی بارگاہ بھجواتا حضرت جب تصدیق فرمادیتے تب میں جواب روانہ کرتا لیکن صاحب سجاد ہ کا جو انداز ہوتا وہ قابل غور ہے جو کہ آپ کے ماہر مفتی ہونے پر قوی دلیل ہے ہوتا یوں کہ جب سوالات مع جوابات سرکار کلاں کی بارگاہ میں پیش کٸے جاتے تو پہلے آپ اپنے مخصوص انداز میں سوالات کو بآواز بلند پڑھتے تھے اور سارے لوگ صاف صاف سنتے تھے جب پورا سوال پڑھ لیتے تو سامعین کی طرف متوجہ ہوکر خود ہی جواب عنایت کرتے اور فرماتے آپ لوگوں نے جواب سنا ? حاضرین کہتے جی حضور ! اس کے بعد سرکار کلاں فرماتے جیسا جواب میں نے بتایا ہے اگر مفتی صاحب نے ایسا ہی جواب دیا ہے تو میں اس کی تصدیق کروں گا ورنہ نہیں پھر مفتی صاحب کا جواب ویسا ہی ہوتا جیسا کہ پہلے حضرت صاحب سجادہ زبانی بیان کر  چکے ہوتے نیز فتاوی میں جو حوالجات ہوتے کتاب نکال کر دیکھتے تاکہ کسی قسم کا شک و شبہ باقی نہ رہے پھر تصدیق کرتے اور مہر لگا دیتے تھے جو مدتوں پہلے افتا و درس نظامی کی خدمت انجام دے رہا تھا سوال پڑھتے ہی بغیر کتاب دیکھے جواب زبانی ارشاد فرمارہا ہے چاہے وہ طلاق کا مسٸلہ ہو یا امامت کا مسٸلہ ہو چاہے جیسا سوال ہو نہایت ہی تحقيق کے ساتھ جواب عنایت فرماتے تھے یقینا ایسی صفت اسی کی ہو گی جو رسول اللہ ﷺ کا سچا ناٸب اور فنا فی اللہ اور عارف  باللہ ہو نیز فقہ اسلامی کے تما م جزٸیات پر کامل عبور رکھتا ہو 

سرکار کلاں نمبر ج ٣ ص ١٧٤ 

تقوی و پرہيزگاری 

تقوی و پرہيز گاری انسان کی ایک اعلی صفت ہے کیونکہ ارشاد باری تعالی ﷻ ہے ان اکرمکم عند اللہ اتقکم 

اور  تاجدار کاٸنات ﷺ نے فرمایا ان اولی الناس بی المتقون من کانوا بحیث کانوا  

جب ہم مخدوم الشاٸخ کی حیات کا جاٸزہ لیتے ہیں تو ہم اس نتیجہ پر پہونچے کہ یقینا مخدوم المشاٸخ قول خدا و مصطفی ﷻ و ﷺ کے مصداق تھے صرف ایک اقتباس قارئين کی ضیافت طبع کی خاطر پیش خدمت ہے جس سے آپ کے تقوی و طھارت اور پاکیزگی کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے

حضور شیخ الاسلام والمسلیمن حضرت العلام سید شاہ مدنی اشرف اشرفی الجیلانی دام فیضہ تحریر فرماتے ہیں اپنا شہر چھوڑ کر باہر سب متقی بن سکتے ہیں ہم عالم کا ڈھونگ بھی رچا سکتے ہیں نہ جانے کیا کیا القاب ہم خود ایجاد کرکے پھیلا سکتے ہیں کچھ بھی کر سکتے ہیں مگر گھر والوں کو نہیں منوا سکتے کیونکہ گھر والا ہمارا بچپن بھی دیکھتا ہے ہماری جوانی بھی دیکھ چکا ہے ہماری صبح و شام بھی دیکھ چکا ہے گھر والوں کو جھکانا بس کی بات نہیں اسلۓ نبی کریم صلی اللہ علیہ و الہ وسلم کی سچائی کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے کہ سب سے پہلے ایمان لانے والی ان کی بیوی سب سے پہلے ایمان لانے والا ان کا بھاٸی سب سے پہلے ایمان لانے والا ان کا ساتھی جو قریب تھا وہ لپک گیا 

تو حضرت مخدوم المشاٸخ کی ولایت کی سب سے بڑی دلیل یہ ہے ان کے خاندان کا ہر بڑا بوڑھا انھیں کا مرید ہے 

(شیخ الاسلام کا خراج عقیدت بارگاہ سرکار کلاں میں )

میں نے ایسے لوگوں کو دیکھا جو کل تک گروہی تعصب اور دنیاوی مفاد کی خاطر آپ سے کوسوں دور تھے لیکن جب جنازہ اٹھا تو ایک بار کاندھا دینے کے لۓ مار کاٹ کر رہے تھے 

اور آپکے بہت سے معاندین کو یہ کہتے سنا کہ آج اہلسنت و جماعت کی انجمن سونی ہو گٸ اکابر کی آخری یادگار کا سایہ ہم سے اٹھ گیا الفضل ما شھدت بہ الاعدا ٕ

تعلیمی اداروں کی سر پرستی 

حضور سرکار کلاں نے جس  جہان علوم و معارف کے ماحول میں آنکھیں کھولی تھیں وہاں ہر درو دیوار سے علم و فضل تقوی و طہارت علم و بردباری کا ہمہ وقت چشمہ رواں تھا کیوں رواں نہ ہو جن کا گھرانہ صدیوں سے اپنے علم و فضل شرف نسب تقوی و طہارت اسلامی تہذیب و ثقافت سے بر اعظم کے تمام مہادیب و بلاد و قریات میں متعارف تھا جو ایسے پاور ہاٶس کی حیثیت سے افق عالم پر چھایا تھا جہاں سے پوری ملت اسلاميہ اکتساب فیض کر رہی تھی اور جہاں صاحبان علم و فضل اپنی جبین عقیدت جھکاتے ہوتے نظر آتے تھے اور اپنی علمی روحانی تشنگٸ بجھاتے تھے اپنے قلوب و اذھان کے لۓ وہاں نسخٸہ کیمیا پاتے تھے تو جس سرکار کلاں نے ایسے علمی روحانی ماحول میں آنکھیں کھولی ہوں اسکی عظمت علم و حلم  و شان جلال و جمال قدر و منزلت کا کون اندازہ لگا سکتا ہے یہی وجہ واغظ و نصیحت تبلیغ و ہدایت کے ساتھ ساتھ دینی ادارے قاٸم فرماتے رہے نیز دینی مراکز کی سرپرستی فرماتے رہے

یہی وجہ ہے کہ ھند و پاک کے بہت سارے مدارس عربیہ کے منتظمين نے آپ کو اپنے ادارہ کا سرپرست اعلی بنانا اور ادارہ کے عروج ارتقا معیار تعلیم کی بلندی کے لۓ آپکے مشوروں اور مفید آراء کو نیک فال کا سبب جانا اور آپکی طرف ادارہ کو منسوب کرنا کامیابی کی ضمانت سمجھا 

وصال پر ملال

آخر کار جس عظیم البرکت عظیم المرتبت شخصيت ہر گام پر ملت کی رہنمائی فرمائی درد و الم مصائب و آلام اٹھا کر صحیح راہ پر گامزن کیا آپ نے پوری زندگی اعلاۓ کلمة الحق عقائد و اصلاح نصرت مدد  کے لۓ وقف کردی  آہ صد بار آہ وہ وقت بھی قریب آ گیا جس کی نشاندہی آپنے اپنے وصال سے قبل ہی فرمادی تھی آخر اس ذات والا صفات نے اپنے مالک حقیقی سے ملنے کے لۓ رخت سفر باندھ لیا یعنی 9 رجب المرجب 1417 ھ 21 نومبر 1996 ٕ کو اس عارف حق آگاہ نے اپنے پیچھے ان گنت انمٹ یادوں کا ایک طویل سلسلہ چھوڑ کر اپنے خالق و مالک سے ملنے کے لۓ داعی اجل کو لبیک کہا یہ آسمان ولایت کا نیر تاباں ماہ درخشاں ہماری نگاہوں سے روپوش ہو گیا 

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ

ابر رحمت ان کے مرقد پر گہر باری کرے 

حشر تک شان کریمی ناز برداری کرے 



از مُحَمَّد  قاسم القادری اشرفی غفرلہ شیش گڑھ بریلی شریف خادم غوثیہ دار الافتا کاشی پور اتراکھنڈ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے