مسئلۂ افضلیت اور اہل سنت و جماعت
کہتے سمندر میں طوفان آنے کا پیش خیمہ اس کا پرسکون ہونا ہے ۔ شاید یہ تخیل اہل سنت کی بساط پر بھی صادق آتا ہے کہ اس میں نقل و حرکت نہ ہونا کسی بڑے بھونچال کی آمد کا سائرن ہے ۔
کچھ دنوں سے ماحول تھوڑا تھوڑا پرسکون لگ رہا تھا کہ اچانک ایک مضطرب ہلچل ہوئی اور ایک مسلمہ عقیدہ کے خلاف ایموشنلی انداز میں بول گئے کہ حضرت صدیق اکبر سب سے افضل ہیں مگر ہم افضلیت مولا علی بیان کرنے والے کو رافضی نہیں کہتے ہیں ۔ ایسا نظریہ رکھنا بھی ہمیں منظور ہے ۔
سوال یہ ہے کہ کیا مولا علی کو سب سے افضل ماننا رافضیت ہے یا نہیں ؟
اس کا سیدھا جواب ہے کہ حضرت علی کو شیخین پر فضیلت دینا رافضیت ہی نہی بلکہ غالی شیعیت ہے ۔
علامہ ذہبی نے لکھا ہے ۔
والأفضل منهما بلا شك أبو بكر وعمر ، من خالف في ذا فهو شيعي جلد ، ومن أبغض الشيخين واعتقد صحة إمامتهما فهو رافضي مقيت ، ومن سبهما واعتقد أنهما ليسا بإمامي هدى فهو من غلاة الرافضة ، أبعدهم الله .
اور ان دونوں (عثمان وعلی) سے افضل بلاشک و شبہ حضرت ابو بکر اور حضرت عمر ہیں۔ جو شخص اس کے خلاف ہو وہ غالی شیعہ ہے۔ جو شیخین ( ابوبکر و عمر) کی امامت کو صحیح جانے مگر ان سے بغض رکھے تو وہ سخت رافضی ہے اور جو انہیں سب وشتم کرے اور انہیں امام ہدیٰ نہ تسلیم کرے وہ غالی رافضی ہے۔ اللہ تعالی نے ان لوگوں کورحمت سے دور کردیا۔
(سیر اعلام النبلاء ج16ص 458)
اب یہ کہنا کہ حضرت علی کرم اللہ وجہہ الکریم کو سب سے افضل قرار دینا درست ہے ، ایسا کہنے والا ہمیں قبول ہے ، ہمارا دل بڑا ہے ۔ کیسے صحیح ہو سکتا ہے ۔ کیا اس میں اپنی طبیعت کی مانی جائے گی ؟
اور اگر افضلیت مولا علی سے مراد حضرت عثمان غنی سے افضل ہونا ہے تو اس مسئلہ میں اختلاف ہے کچھ حضرات نے افضل مانا ہے جبکہ اس میں بھی جمہور نے حضرت عثمان غنی ہی کو افضل قرار دیا ہے ۔
علامہ ذہبی نے لکھا ہے ۔
وقال الدارقطني : اختلف قوم من أهل بغداد ، فقال قوم : عثمان أفضل ، وقال قوم : علي أفضل ، فتحاكموا إلي ، فأمسكت ، وقلت : الإمساك خير ، ثم لم أر لديني السكوت ، وقلت للذي استفتاني : ارجع إليهم ، وقل لهم : أبو الحسن يقول : عثمان أفضل من علي باتفاق جماعة أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم ، هذا قول أهل السنة ، وهو أول عقد يحل في الرفض .
ترجمہ :۔ امام دارقطنی نے فرمایا کہ بغداد والوں میں اختلاف تھا کوئ کہتا تھا عثمان افضل ہیں کوئ کہتا تھا علی افضل ہیں ۔ لوگ میرے پاس فیصلہ کے لیے آۓ۔ میں نے جواب نہیں دیااور کہاکہ خاموشی بہتر ہے ۔ پھر مجھے خاموش رہنا مناسب نہ لگااور میں نے مستفتی سے کہا۔ جاکرلوگوں سے کہوکہ ابوالحسن (دارقطنی)کہتاہے کہ باتفاق صحابہ رضی اللّٰہ عنہم عثمان، علی سےافضل ہیں اوریہی اہل سنت کاکہنا ہے۔ اور سب سے پہلے یہی عقیدہ(علی افضل ہیں عثمان سے) رافضیوں میں داخل ہوتا ہے۔
علامہ ذہبی نے مزید لکھا ہے ۔
قلت : ليس تفضيل علي برفض ولا هو ببدعة ، بل قد ذهب إليه خلق من الصحابة والتابعين ، فكل من عثمان وعلي ذو فضل وسابقة وجهاد ، وهمامتقاربان في العلم والجلالة ، ولعلهما في الآخرة متساويان في الدرجة ، وهمامن سادة الشهداء رضي الله عنهما ، ولكن جمهور الأمة على ترجيح عثمان على الإمام علي وإليه نذهب -
میں نے کہاکہ تفضیل علی(عثمان پر) نہ رفض ہے نہ بدعت۔ بلکہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت اس کا قائل ہے ۔ دونوں(عثمان وعلی) حضرات صاحب فضل اور سابقین اور مجاہدین میں سے ہیں۔ اور علم مرتبہ میں قریب قریب ہیں۔ امید ہے کہ آخرت میں بھی درجہ میں برابر ہوں گے ۔ دونوں سادات شہداء میں سے ہیں۔ البتہ جمہور امت اس بات کےقائل ہیں کہ عثمان کو علی پرترجیح حاصل ہے اور یہی ہمارا موقف ہے ۔
(سیر اعلام النبلاء ج16ص 457)
کہیں ایسا تو نہیں کہ صاحب بیان نے صرف "لیس تفضیل علی برفض و لا ببدعۃ" پر ہی قناعت کرلی اور مزید آگے دیکھنے کی زحمت نہیں فرمائی ۔ ایسا ہی اس قبل ایک صاحب نے بھی کیا تھا ۔
اس معاملے میں رسالہ قبریہ میں موجود قدوۃ الکبری محبوب یزدانی سلطان سید اشرف جہانگیر سمنانی رحمۃ اللہ علیہ کا قول ہماری رہنمائی کے لیے کافی و وافی ہے ۔
محمد نذرالباری جامعی پورنیہ بہار
6 جنوری 2026
16 رجب 1447
0 تبصرے