حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ علم ، فقاہت ، تدریس اور اخلاص کا ایک درخشاں باب

 حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ

علم ، فقاہت ، تدریس اور اخلاص کا ایک درخشاں باب

✒️ شمس الزماں خان صابری جامعی

بعض شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں صرف دیکھا نہیں جاتا بلکہ محسوس کیا جاتا ہے ان کی مجلس سے صرف علم حاصل نہیں ہوتا بلکہ فکر کو جِلا دل کو نور اور شخصیت کو وقار نصیب ہوتا ہے وہ اپنی ذات میں ایک ادارہ اپنی زندگی میں ایک درسگاہ اور اپنے کردار میں ایک مکمل نصاب ہوتے ہیں ایسے ہی نابغۂ روزگار اساتذۂ کرام میں میرے محترم استاذ حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کا نام ہمیشہ عزت و احترام کے ساتھ لیا جائے گا ـــــ

            تعلیم و تعلم 

حضرت کا تعلق بہار کے ضلع بھاگلپور کے معروف گاؤں ماچھی پور سے تھا ابتدائی تعلیم کے بعد آپ نے اپنی علمی پیاس بجھانے کے لیے جامع اشرف کچھوچھہ شریف کا رخ کیا جہاں علم و فضل کے سرچشموں سے فیض یاب ہوکر فراغت حاصل کی فراغت کے بعد اسی مادرِ علمی نے آپ کو اپنے دامن میں جگہ دی اور آپ جامع اشرف کچھوچھہ شریف کے معزز اساتذہ میں شامل ہوگئے یہ اعزاز ہر کسی کے حصے میں نہیں آتا کہ جس درسگاہ سے تعلیم حاصل کرے وہی درسگاہ اس کی صلاحیتوں کو پہچان کر اسے اپنے اساتذہ کی صف میں کھڑا کردے ــــ

آپ کی علمی زندگی کا ایک نہایت روشن پہلو یہ بھی ہے کہ تدریسی ذمہ داریوں کی ادائیگی کے دوران ہی آپ نے حفظِ قرآن کریم کی سعادت بھی حاصل کی یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ علم کی کوئی منزل آخری منزل نہیں ہوتی سچا عالم ہمیشہ طالبِ علم رہتا ہے اور حضرت کی پوری زندگی اسی حقیقت کی جیتی جاگتی تصویر تھی ـــ

جامع اشرف کچھوچھہ شریف میں آپ تادمِ حیات صدر شعبۂ افتاء رہے اور شیخ الحدیث کے منصب پر بھی فائز رہے خصوصیت کے ساتھ صحیح بخاری کو سطر بہ سطر مکمل پڑھانے کا جو اعزاز آپ کو حاصل تھا وہ آپ کی علمی مہارت ، دقتِ نظر اور حدیث فہمی کی روشن دلیل ہے الحمد للہ مجھے بھی یہ سعادت نصیب ہوئی کہ میں نے آپ ہی سے مکمل صحیح بخاری پڑھی اس کے علاوہ الاشباہ والنظائر اور المحرر جیسی دقیق علمی کتابیں بھی آپ ہی سے پڑھنے کا شرف حاصل کیا بلکہ افتاء سالِ دوم میں بعد ششماہی مشقِ افتاء کی سعادت بھی آپ کی نگرانی میں حاصل ہوئی ایک شاگرد کے لیے اس سے بڑی خوش نصیبی اور کیا ہوسکتی ہے کہ اسے ایسے استاذ کی صحبت میسر آئے جس کی ہر بات علم کی خوشبو سے معطر ہو ــــــــ

شان فقاہت 

حضرت مفتی شہاب الدین علیہ الرحمہ کی شخصیت کا سب سے نمایاں وصف یہ تھا کہ آپ صرف فقیہ نہیں تھے بلکہ صاحبِ تفقہ تھے فقہِ حنفی کے جزئیات آپ کو اس طرح ازبر تھے کہ جب کوئی مسئلہ دریافت کیا جاتا تو فوراً فرماتے کہ فتاویٰ ہندیہ کی فلاں جلد میں یہ مسئلہ موجود ہے اور چند لمحوں میں مطلوبہ عبارت سامنے رکھ دیتے یہ محض حافظے کی قوت نہیں تھی بلکہ فقہ کے ساتھ عمر بھر کی رفاقت اور مسلسل علمی ریاضت کا نتیجہ تھا ــــــ

آج کے دور میں بہت سے اہلِ فتویٰ صرف نقل پر اکتفا کرتے ہیں مگر حضرت مفتی شہاب الدین علیہ الرحمہ کا انداز اس سے یکسر مختلف تھا وہ محض ناقل مفتی نہیں تھے بلکہ حقیقی معنوں میں صاحبِ بصیرت مفتی تھے کسی بھی مسئلے کے حل میں سب سے پہلے قرآنِ کریم پھر احادیثِ نبویہ اس کے بعد اجماع اور قیاس کی روشنی میں غور کرتے اور فقہ کے مسلم اصولوں کے مطابق مسئلے کا استنباط فرماتے ان کی فقاہت میں وسعت بھی تھی اور گہرائی بھی ، احتیاط بھی تھی اور بصیرت بھی ان کی فکر جمود کا شکار نہیں تھی بلکہ وہ آفاقی سوچ کے حامل تھے اس لیے ان کے فتاویٰ میں اعتدال ، تحقیق اور زمانے کی صحیح فہم نمایاں نظر آتی تھی ـــــ

شان خطابت

خطابت کے میدان میں بھی حضرت کا انداز نرالا تھا ان کی تقریر صرف جذبات کا طوفان نہیں ہوتی تھی بلکہ قرآن و حدیث اور اسلامی تاریخ کے مضبوط دلائل سے مزین ہوتی تھی سننے والا محسوس کرتا کہ علم بول رہا ہے ، تاریخ گویا ہے اور دلائل اپنی زبان میں حق کی گواہی دے رہے ہیں جامع اشرف کے زمانۂ طالب علمی میں جب بھی کسی علمی یا دینی محفل کے لیے مقرر منتخب کرنے کی بات آتی تو اکثر ہم طلبہ جامع اشرف کی اولین خواہش یہی ہوتی کہ حضرت مفتی شہاب الدین علیہ الرحمہ خطاب فرمائیں اساتذۂ جامع اشرف بھی اچانک پیش آنے والی کسی مجلس میں اکثر حضرت ہی کو دعوتِ خطاب دیتے کیونکہ وہ جانتے تھے کہ جہاں مفتی شہاب الدین بولیں گے وہاں علم کی بہار ضرور آئے گی ـــــ

حضرت پر اکثر ایک خاص روحانی اور جذبی کیفیت طاری رہتی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ اسی کیفیت میں بھی جب حالاتِ حاضرہ پر گفتگو فرماتے تو ایسا محسوس ہوتا کہ دنیا کے سیاسی ، سماجی اور فکری حالات پر ان کی نہایت گہری نظر ہے یہی وجہ تھی کہ طلبہ آپ کی اس جامع شخصیت پر حیران رہ جاتے کہ ایک طرف تصوف کی کیفیت اور دوسری طرف عصرِ حاضر کی نبض پر کامل گرفت ــــــ

عبادت و ریاضت 

عبادت و ریاضت میں بھی حضرت اپنی مثال آپ تھے نماز کی پابندی ان کی زندگی کا ایسا وصف تھا جس میں کبھی فرق نہیں آیا سردی ہو یا گرمی ، آندھی ہو یا بارش وہ ہمیشہ حتی المقدور تکبیرِ اولیٰ کے ساتھ نماز ادا کرنے کی کوشش کرتے ہمارے زمانۂ طالب علمی میں اکثر جمعہ کی نماز بھی حضرت ہی پڑھاتے تھے اور ان کی امامت میں ایک خاص روحانی سکون محسوس ہوتا تھا ــــ

وقت کی پابندی اور افہام تفہیم

وقت کی پابندی ان کی زندگی کا مستقل عنوان تھی درس کی گھنٹی بجتے ہی وہ درسگاہ میں موجود ہوتے اور مقررہ وقت پورا ہوتے ہی درس اختتام پذیر فرماتے ان کے نزدیک وقت کی حفاظت بھی علم کی حفاظت کا حصہ تھی ان کا طریقۂ تدریس نہایت سہل ، واضح اور دلنشیں تھا مشکل سے مشکل عربی عبارت کو اس روانی سے اردو میں منتقل کرتے کہ یوں محسوس ہوتا جیسے اصل کتاب اردو ہی میں لکھی گئی ہو حدیث پڑھاتے تو محسوس ہوتا کہ کسی جلیل القدر محدث کے سامنے بیٹھے ہیں اور فقہ پڑھاتے تو ایسا لگتا کہ فقہِ اسلامی کے کسی امام کی مجلس میں حاضر ہیں ـــــ

یہی وجہ تھی کہ اگر کبھی جامعہ کے دیگر اساتذہ کو کسی دقیق عبارت یا پیچیدہ فقہی مسئلے میں مزید تحقیق کی ضرورت محسوس ہوتی تو حضرت مفتی شہاب الدین علیہ الرحمہ سے رجوع کیا جاتا ان کا علمی مقام صرف طلبہ ہی کے نزدیک مسلم نہیں تھا بلکہ اساتذۂ کرام بھی ان کے علم و فضل کے معترف تھے ـــ

تصنیف و تالیف 

حضرت نے تدریس و افتاء کے ساتھ ساتھ تصنیف و تالیف کے میدان میں بھی گراں قدر خدمات انجام دیں۔ متعدد علمی کتابیں تصنیف فرمائیں۔ ہم طلبہ جامع اشرف کی فرمائش پر وہابیوں کے بنیادی عقائد کے موضوع پر ایک مستقل کتاب تحریر فرمائی اور لاؤڈ اسپیکر کے شرعی استعمال پر بھی تحقیقی رسالہ لکھا چند اہم فتاوے بھی آپ کی شاہکار ہے ان کی ہر تحریر میں تحقیق اعتدال اور علمی وقار نمایاں دکھائی دیتا ہے ــــ

میرے نزدیک حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کی سب سے بڑی عظمت یہ تھی کہ وہ علم کو صرف پڑھاتے نہیں تھے بلکہ اسے پیلاتے بھی تھے ان کا ہر عمل ، ہر گفتگو اور ہر فیصلہ اس بات کی گواہی دیتا تھا کہ علم جب اخلاص کے ساتھ جمع ہوجائے تو انسان خود ایک زندہ کتاب بن جاتا ہے ـــــ

آج اگرچہ حضرت ہمارے درمیان ظاہری طور پر موجود نہیں ہیں مگر ان کی پڑھائی ہوئی کتابیں ، ان کے بیان کردہ اصول ، ان کے صادر کردہ فتاویٰ ، ان کے تربیت یافتہ شاگرد اور ان کی علمی یادیں آج بھی ان کی حیاتِ جاوداں کی گواہی دے رہی ہیں ایسے اہلِ علم کا وصال درحقیقت پوری علمی دنیا کا نقصان ہوتا ہے لیکن ان کی خدمات ہمیشہ زندہ رہتی ہیں اور آنے والی نسلوں کی رہنمائی کرتی رہتی ہیں ـــــ

اللہ تعالیٰ حضرت مفتی شہاب الدین اشرفی علیہ الرحمہ کی کامل مغفرت فرمائے ان کے درجات بلند فرمائے ان کی قبر کو جنت کے باغوں میں سے ایک باغ بنائے اور ہمیں ان کے علم ، تقویٰ ، اخلاص ، وقت کی پابندی اور حق گوئی کی راہ پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ـــــــــ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے