سلطان العارفین حضرت مخدوم شہباز محمد بھاگلپور علیہ الرحمہ کی حیات و خدمات
✒️ شمس الزماں خان صابری
اسلام کی تاریخ ایسے جلیل القدر اولیائے کرام ، محدثین ، فقہاء اور صوفیائے عظام سے مزین ہے جنہوں نے اپنے علم ، عمل ، تقویٰ اور روحانی فیضان سے نہ صرف اپنے عہد کو منور کیا بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے بھی رشد و ہدایت کے روشن مینار قائم کیے انہی نفوسِ قدسیہ میں ایک درخشندہ اور تابندہ نام سلطان العارفین حضرت مخدومنا ومولانا سید شاہ شہباز محمد بھاگلپوری علیہ الرحمہ کا ہے جنہیں اہلِ علم و تصوف نے اپنے غیر معمولی علمی کمال ، فقہی بصیرت ، روحانی عظمت اور اصلاحی خدمات کے باعث ہمیشہ عزت و توقیر کی نگاہ سے دیکھا ہے آپ کو اپنے دور میں "امام ابو حنیفہ ثانی" "سلطان العارفین" اور "مجددِ گیارہویں صدی ہجری" جیسے معزز القابات سے یاد کیا گیا جو آپ کے بلند علمی و روحانی مقام کی روشن دلیل ہیں ــــ
حضرت شہباز محمد قدس سرہ کی ذاتِ گرامی علم و عرفان ، شریعت و طریقت ، زہد و تقویٰ اور اخلاق و محبت کا حسین امتزاج تھی آپ نے ایک طرف قرآن و حدیث اور فقہ و تصوف کی خدمت انجام دی تو دوسری جانب اپنے کردار ، حلم ، تواضع اور حسنِ اخلاق سے ہزاروں دلوں کو دینِ اسلام کی محبت سے منور کیا آج بھی خانقاہِ شہبازیہ اہلِ محبت کے لیے روحانی سکون علمی فیضان اور اصلاحِ باطن کا مرکز بنی ہوئی ہے ـــــ
نسب اور خاندانی پس منظر
حضرت سلطان العارفین کا تعلق ساداتِ حسینیہ کے ایک معزز اور علمی گھرانے سے تھا آپ کے جدِ امجد حضرت سید خیر الدین حسینی بخاری قدس سرہ بخارا شریف کے معروف قصبہ جروحہ میں مقیم تھے وہاں کے ناموافق حالات کے باعث انہوں نے مکہ مکرمہ کی طرف ہجرت فرمائی دورانِ حج اور زیارتِ روضۂ اقدس کے موقع پر انہیں بارگاہِ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ مبارک بشارت عطا ہوئی کہ ان کے پوتے کی ولادت ہوگی جس کا نام "شہباز محمد" رکھا جائے اور یہی نورِ ولایت مستقبل میں سرزمینِ ہند کو اپنے فیضان سے منور کرے گا ـــ
اس بشارت کے بعد حضرت سید محمد خطاب قدس سرہ جو حضرت شہباز محمد کے والدِ گرامی تھے ہندوستان تشریف لائے کچھ عرصہ بنارس میں قیام فرمایا پھر صوبۂ بہار کے ضلع گیا کے قصبہ اساس دیورہ کو مستقل مسکن بنایا یہی وہ سرزمین ہے جہاں بعد میں حضرت سلطان العارفین کی ولادت ہوئی ــــــ
ولادتِ باسعادت اور بشارات
حضرت شہباز محمد قدس سرہ کی ولادت 956 ہجری میں قصبہ اساس دیورہ میں ہوئی اس وقت ہندوستان میں سوری خاندان کی حکومت تھی اور سلیم شاہ سوری کا دورِ حکومت جاری تھا ولادت کے وقت ہی آپ کا نام اس نبوی بشارت کے مطابق "شہباز محمد" رکھا گیا ـــ
اولیائے کرام کی روایات میں یہ بھی مذکور ہے کہ آپ کی آمد کی بشارت کئی بزرگوں کو پہلے ہی دی جا چکی تھی حضرت مخدوم الملک شیخ شرف الدین بہاری اور حضرت مخدوم شاہ علاء الحق پنڈوی کے درمیان ولایتِ بھاگلپور کے حوالے سے گفتگو کے دوران بارگاہِ رسالت سے یہ ارشاد منقول ہے کہ "بھاگلپور کی ولایت میرے فرزند شہباز ولی اللہ کے لیے مقدر ہو چکی ہے" اسی طرح حضرت بو علی شاہ قلندر پانی پتی سے بھی آپ کی آمد کی بشارت منقول ہے جو آپ کے روحانی مقام کی عظمت کو ظاہر کرتی ہے ــ
عہدِ طفولیت اور غیر معمولی ذہانت
حضرت سلطان العارفین بچپن ہی سے حسنِ صورت کے ساتھ حسنِ سیرت کے بھی جامع تھے آپ کے چہرۂ انور سے شرافتِ نسب ، ذہانت ، وقار اور نورانیت نمایاں تھی کم سنی ہی میں آپ کی فطری ذہانت اور غیر معمولی استعداد نے اہلِ علم کو حیرت میں ڈال دیا تھا ـــ
جب آپ کی عمر چار سال چار ماہ اور چار دن ہوئی تو حسبِ دستور بسم اللہ خوانی کے لیے ایک بزرگ عالمِ دین کی خدمت میں حاضر کیے گئے استاد نے فرمایا "بسم اللہ الرحمن الرحیم" پڑھو آپ نے فوراً سوال کیا اللہ کون ہے ؟ پھر فرمایا "علم کے معنی جاننا ہیں پھر ایسا علم کیا جسے پڑھا جائے مگر سمجھا نہ جائے "
بعد ازاں آپ نے خود فرمایا کہ اللہ سب سے بڑی ذات کا نام ہے اور رحمن و رحیم اس کی صفات ہیں ایک کم سن بچے کی زبان سے ایسی دقیق اور بامعنی گفتگو سن کر استاد حیران رہ گئے اور آپ کے والد سے فرمایا کہ اس بچے میں غیر معمولی صلاحیتیں موجود ہیں اس کی بہترین تعلیم و تربیت کی جائے ــــ
تعلیم و تربیت
چھ سال کی عمر میں آپ نے مکتب میں باقاعدہ تعلیم حاصل کرنا شروع کی ابتدائی ہی زمانے میں آپ کا ذوقِ علم اس قدر نمایاں تھا کہ اساتذہ بھی حیران رہ جاتے ایک مرتبہ استاد نے دیکھا کہ آپ کتاب کے بجائے مسلسل سورج کی طرف دیکھ رہے ہیں جب وجہ پوچھی تو آپ نے فرمایا
"میں سبق ہی دیکھ رہا ہوں، فرق صرف اتنا ہے کہ جس کا سبق آپ کتاب میں دیکھ رہے ہیں وہی سبق میں وہاں دیکھ رہا ہوں جہاں وہ لکھا ہوا ہے "
بعد ازاں آپ نے اپنے والدِ گرامی حضرت سید محمد خطاب قدس سرہ سے علومِ عقلیہ و نقلیہ کی تکمیل کی اور پھر قاضی القضاۃ حضرت مولانا مفتی قاضی محمد عباسی دیوری رحمہ اللہ سے بھی مختلف علوم و فنون حاصل کیے صرف پندرہ برس کی عمر میں آپ صرف ، نحو ، منطق ، فلسفہ ، تفسیر ، حدیث ، فقہ ، اصولِ حدیث ، معانی ، بیان ، ہیئت ، ہندسہ اور دیگر علوم میں نمایاں مقام حاصل کرچکے تھے یہاں تک کہ اکابر اہلِ علم بھی آپ کی علمی قابلیت کے معترف ہوگئے تھے ـــ
علمی اسفار اورحرمین شریفین میں تحصیل حدیث
حضرت سلطان العارفین شہباز محمد بھاگلپوری قدس سرہ العزیز کی علمی تشنگی ابتدائی تعلیم کی تکمیل کے بعد بھی ختم نہ ہوئی بلکہ جس قدر علوم و فنون میں مہارت حاصل کرتے گئے علم کا شوق اسی قدر بڑھتا گیا آپ اس حقیقت پر یقین رکھتے تھے کہ علم کا سمندر بـے کنار ہے اور طالبِ حق کو ہر لمحہ اس سے فیض حاصل کرتے رہنا چاہیے یہی وجہ تھی کہ والدین سے اجازت لے کر مزید علمی فیض کے حصول کے لیے وطن سے رختِ سفر باندھا
جون پور اور قنوج کا علمی سفر
اس دور میں جون پور اور قنوج برصغیر کے عظیم علمی مراکز شمار ہوتے تھے حضرت شہباز محمد قدس سرہ نے ان شہروں میں قیام فرما کر اکابر علماء سے استفادہ کیا اور شب و روز مطالعہ و تحقیق میں مشغول رہے غربت اور تنگ دستی بھی آپ کے عزم کے سامنے رکاوٹ نہ بن سکی روایت میں آتا ہے کہ جون پور میں ایک بقال کی دکان کی نگرانی اس شرط پر قبول فرمائی کہ رات میں چراغ روشن چھوڑ دیا جائے تاکہ اس کی روشنی میں مطالعہ جاری رکھ سکیں یہ واقعہ آپ کے بے مثال شوقِ علم اور علمی انہماک کا روشن ثبوت ہے ـــ
اسی طرح قنوج میں ایک مرتبہ ایک رئیس کی شادی کی بارات سرائے میں اتری جہاں پوری رات جشن اور شور و غل برپا رہا مگر حضرت سلطان العارفین کتابوں کے مطالعے میں ایسے مستغرق رہے کہ صبح لوگوں نے دریافت کیا تو فرمایا "میں نے تو کوئی آواز ہی نہیں سنی " یہ انہماکِ علمی اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ آپ کا دل دنیا کے ہنگاموں سے زیادہ علمِ دین کے نور سے وابستہ تھا ـــ
حرمین شریفین کا سفر اور تحصیلِ حدیث
970 ہجری میں آپ نے مزید علمی کمال کے لیے حرمین شریفین کا سفر اختیار کیا مکہ مکرمہ میں اس زمانے کے عظیم محدث علامہ ابن حجر مکی رحمہ اللہ کے حلقۂ درس میں حاضر ہوئے آپ کی غیر معمولی ذہانت ، ذوقِ علم اور اخلاص کو دیکھ کر علامہ ابن حجر مکی نے خصوصی شفقت فرمائی اور اپنے قریب جگہ عطا کی تقریباً تین برس تک آپ مسلسل احادیثِ نبویہ ، علومِ حدیث اور معارفِ دین کا اکتساب کرتے رہے جب تعلیم مکمل ہوئی تو استادِ محترم نے نہایت محبت کے ساتھ آپ کو راس المحدثین ، قوت الیقین اور فقیہ الاسلام جیسے القابات سے نوازا سندِ حدیث عطا فرمائی اور بابِ کعبہ کے قریب کھڑے ہو کر یہ تاریخی جملہ ارشاد فرمایا:
اے بابِ کعبہ! تو گواہ رہنا کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی امانت، اس کے امین تک پہنچا دی ــ
یہ اعزاز اس بات کی دلیل تھا کہ حضرت سلطان العارفین کو اپنے عہد کے ممتاز محدثین میں شمار کیا جانے لگا تھا بعد میں یہی سندِ حدیث آپ اپنے خلفاء اور تلامذہ کو بھی عطا فرمایا کرتے تھے ـــ
بیعت خلافت اور روحانی تربیت
ظاہری علوم میں کمال حاصل کرنے کے بعد آپ نے باطنی تربیت کے لیے حضرت سید یٰسین سامانی جوناگڑھی قدس سرہ کی خدمت میں حاضری دی دونوں بزرگوں کے درمیان نہایت روح پرور گفتگو ہوئی حضرت شہباز محمد قدس سرہ نے حضرت سید یٰسین سامانی کے دستِ حق پرست پر بیعت کی حضرت سید یٰسین سامانی نے آپ کو تمام سلاسلِ طریقت میں خلافت و اجازت عطا فرمائی اور آپ کے روحانی کمالات کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے اہلِ خاندان تک کو آپ سے وابستہ ہونے کی تلقین فرمائی اس طرح شریعت اور طریقت کا حسین امتزاج آپ کی ذات میں نمایاں ہوگیا اور آپ کی خانقاہ رشد و ہدایت کا مرکز بن گئی ــــــ
علمی خدمات اور تدریسی مقام
حضرت سلطان العارفین علیہ الرحمہ نے بھاگلپور پہنچ کر ایک عظیم علمی درسگاہ قائم فرمائی جہاں دور دور سے طلبہ علمِ دین حاصل کرنے آتے تھے آپ کی مجلسِ درس میں فقہ ، حدیث ، تفسیر ، اصول ، منطق اور دیگر علومِ اسلامیہ پڑھائے جاتے تھے آپ کے تلامذہ بعد میں برصغیر کے مختلف علاقوں میں دین کی اشاعت کا ذریعہ بنے ــ
روایات میں آتا ہے کہ آپ کے زیرِ تربیت سیکڑوں طلبہ تعلیم حاصل کرتے تھے اور آپ کے متعدد شاگرد بعد کے علمی کارناموں میں نمایاں مقام رکھتے تھے آپ کی فقہی بصیرت ، حدیث پر گہری نظر اور اجتہادی صلاحیتوں کی بنا پر اہلِ علم نے آپ کو اپنے زمانے کا "امام ابو حنیفہ ثانی" قرار دیا ــــ
آپ کے شاگرد حضرت علامہ مفتی درویش محمد علیہ الرحمہ نے اپنے استاذ کے علمی مقام کو ان الفاظ میں بیان کیا:
ہمارے استاذ فقہ میں نعمان بن ثابت اور حدیث میں ابن حجر عسقلانی ہیں ـــ
اسی طرح بعض روایات میں بادشاہِ وقت عالمگیر کی طرف یہ قول بھی منقول ہے کہ: حضرت شہباز محمد ہمارے دور کے ابو حنیفہ ہیں ــــ
یہ تمام اقوال اس حقیقت کی غمازی کرتے ہیں کہ حضرت سلطان العارفین نہ صرف ایک صاحبِ کرامت ولی تھے بلکہ اپنے عہد کے عظیم فقیہ محدث اور معلم بھی تھے ـــ
مرشد کی نسبت کا احترام
حضرت سلطان العارفین شہباز محمد بھاگلپوری قدس سرہ العزیز کی شخصیت کا سب سے روشن پہلو ان کا ادب تواضع اور حسنِ اخلاق تھا آپ نے پوری زندگی اس حقیقت کو عملاً ثابت کیا کہ علم کی زینت ادب ہے اور ولایت کی روح تواضع و انکساری میں مضمر ہے آپ کی مجلس میں آنے والا ہر شخص صرف علمی عظمت ہی نہیں بلکہ اخلاقِ کریمانہ کا عملی نمونہ بھی دیکھتا تھا ــــ
ادبِ شیخ کا بـے مثال نمونہ
حضرت سلطان العارفین کے پیر و مرشد حضرت سید یٰسین سامانی قدس سرہ سے آپ کی محبت اور ادب اپنی مثال آپ تھا روایت میں آتا ہے کہ ایک مرتبہ آپ کے مرشد کے بھتیجے حصولِ علم کے لیے آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے اگرچہ آپ ان کے استاد تھے لیکن چونکہ انہیں اپنے شیخ سے نسبت حاصل تھی اس لیے آپ نے انہیں معلم کی جگہ بٹھایا اور خود متعلم کی جگہ تشریف فرما ہوئے ــ
مزید حیرت انگیز بات یہ تھی کہ دورانِ درس جب ان کی توجہ دلانا مقصود ہوتا تو آپ ان کا نام لے کر مخاطب نہ کرتے بلکہ اپنا نام لیتے ہوئے فرماتے شہباز ! سنو ــ
جب اس غیر معمولی طرزِ عمل کی وجہ پوچھی گئی تو فرمایا انہیں میرے شیخ سے نسبت حاصل ہے اور شیخ سے نسبت رکھنے والے کا ادب بھی میرے لیے باعثِ سعادت ہے ـ
یہ واقعہ اس حقیقت کا آئینہ دار ہے کہ اولیائے کرام کے نزدیک نسبتِ شیخ کا احترام بھی ایمان و محبت کا حصہ تھا یہی ادب بعد میں آپ کی روحانی عظمت اور مقبولیت کا سبب بنا ــــ
علم اور عمل کا حسین امتزاج
حضرت شہباز محمد قدس سرہ نے کبھی علم کو محض درس و تدریس تک محدود نہیں رکھا بلکہ اسے اپنے کردار میں بھی نمایاں فرمایا آپ کی زندگی زہد ، تقویٰ ، اخلاص ، قناعت اور خدمتِ خلق کا عملی نمونہ تھی ـــ
آپ کی خانقاہ میں امیر و غریب ، بادشاہ و فقیر ، عالم و عامی سب یکساں محبت اور شفقت پاتے تھے روایتوں کے مطابق اس دور کے حکمران بھی آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر دعا اور روحانی فیض حاصل کرتے تھے جبکہ ہزاروں طالبانِ علم آپ کے علمی چشمے سے سیراب ہوتے تھے ـــ
خانقاہِ شہبازیہ علم و روحانیت کا مرکز
حضرت سلطان العارفین نے بھاگلپور کو صرف اپنی قیام گاہ نہیں بنایا بلکہ اسے علم و عرفان کا ایک عظیم مرکز بنا دیا آپ کی خانقاہ میں قرآن و حدیث ، فقہ ، تصوف اور اخلاق کی تعلیم دی جاتی تھی یہیں سے ایسے علماء فقہاء اور مشائخ تیار ہوئے جنہوں نے برصغیر کے مختلف علاقوں میں دینِ اسلام کی خدمت انجام دی ــــ
آپ کی تعلیمات کا بنیادی مقصد انسان کو اللہ تعالیٰ کی معرفت ، سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع ، شریعت کی پابندی اور حسنِ اخلاق سے آراستہ کرنا تھا اسی لیے آپ کی خانقاہ آج بھی اہلِ محبت اور طالبانِ حق کے لیے مرکزِ عقیدت بنی ہوئی ہے ـــ
روحانی فیضان
حضرت سلطان العارفین قدس سرہ کی زندگی کا ہر پہلو اللہ تعالیٰ کی رضا اور رسولِ اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت سے عبارت تھا آپ کی مجالس میں ذکرِ الٰہی ، تلاوتِ قرآن ، تعلیمِ حدیث اور اصلاحِ نفس کا ایسا ماحول قائم رہتا تھا کہ حاضر ہونے والوں کے دل بدل جاتے تھے
آپ کی ذات سے ہزاروں افراد نے علمی ، روحانی اور اخلاقی فیض حاصل کیا اور آپ کے خلفاء و تلامذہ نے اس فیضان کو پورے برصغیر میں عام کیا یہی وجہ ہے کہ صدیوں بعد بھی آپ کا آستانہ اہلِ محبت کے لیے مرجعِ خلائق بنا ہوا ہے ـــ
حضرت سلطان العارفین مخدومنا ومولانا شہباز محمد بھاگلپوری قدس سرہ العزیز کی حیاتِ طیبہ اس حقیقت کا روشن ثبوت ہے کہ جب علم ، عمل ، تقویٰ ، محبتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم ، ادبِ مشائخ اور خدمتِ خلق ایک شخصیت میں جمع ہو جائیں تو وہ زمانے کی رہنما بن جاتی ہے ــــ
آپ نے اپنی پوری زندگی شریعت و طریقت کی خدمت ، علومِ نبویہ کی اشاعت ، طالبانِ علم کی تربیت ، بندگانِ خدا کی اصلاح اور اخلاقِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم کے فروغ میں صرف فرمائی آپ کا کردار آج بھی اہلِ علم ، طلبہ ، مشائخ اور سالکین کے لیے مشعلِ راہ ہے ــ
اللہ تعالیٰ ہمیں حضرت سلطان العارفین شہباز محمد بھاگلپوری قدس سرہ العزیز کے علم ، تقویٰ ، اخلاص ، ادبِ شیخ ، حسنِ اخلاق اور خدمتِ دین سے فیض حاصل کرنے اور ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق عطا فرمائے ـــ
(حوالہ جات ـ کائنات تصوف ، سلطان العارفین ، حضرت مولانا شہباز محمد بھاگلپوری )

0 تبصرے