شہرت کی چاہت
طلب شہرت عام انسانی فطرت ہے، ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ اسے قبولیت عامہ حاصل ہو ،ہر چہار جانب اس کے چرچے ہوں، ہر زبان میں اس کی مدح سرائی ہو.. انسان اپنی تعریف سن کر خوش ہوتا ہے اور مذمت سن کر دل میں تکلیف محسوس کرتاہے، لیکن اللہ کے مخصوص بندے ایسے ہوتے ہیں جن کے دل شہرت طلبی سے پاک ہوتے ہیں نہ وہ کسی کی مدح سرائی سے خوش ہوکر اتراتے ہیں نہ کسی کی مذمت سے رنجیدہ ہوکر جادہ حق سے دور ہوتےہیں، وہ اپنی تعریف سن کر اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں اور مذمت سن کر اپنے عیبوں کو تلاش کر کےانھیں دور کرنے کی کوشش کرتے ہیں، وہ ہرحال میں صبر وشکر کا دامن تھامے رہتے ہیں..
ایک مرد حق نےایک صدی پیشتر اپنی صداے دل یوں سنائی ہے :
نہ مرا نوش ز تحسیں نہ مرا نیش زطعن
نہ مرا گوش بمدحے نہ مرا ہوش ذمے
منم و کنجِ خمولی کہ نہ گنجد در وے
جزمن و چند کتابے و دوات و قلمے
یعنی :میں نہ تو اپنی تعریف کرنے والوں کی تعریف کی پرواہ کرتا ہوں, اور نہ اپنی برائی کرنے والوں کی باتوں پر کان دھرتا ہوں, بلکہ میں ہوں اور میرا گوشہء تنہائی جس میں چند کتابوں, قلم, دوات اور میری ذات کے سوا کوئی نہیں...
صوفیائے کرام کا مشہور قول ہے :الشھرۃ آفۃ والخمولۃ راحۃ... شہرت آفت ہے اور گم نامی راحت ہے.. شہرت ایک آزمائش ہے، اس کی بلندیوں پہ پہنچ کر خود کو سنبھال لینا کسی مجاہدہ سے کم نہیں... تاریخ میں ایسے بہت سے نامورلوگ گزرے ہیں جنھیں ان کے علمی تبحر ،دینی وملی خدمات کی بنیاد پر شہرت ملی، ان کے ذریعہ بہتوں کو راہ ہدایت بھی نصیب ہوئی لیکن ان پر شہرت پسندی کاایساعفریت مسلط ہواکہ اس نے انھیں ضلالت وگمرہی کی گہری کھائی میں گرادیا.. شیخ ابن تیمیہ کے تبحر علمی کا کون صاحب علم منکر ہوگا، ان کی شہرت جگ ظاہر ہے، علامہ ذہبی اور ابن کثیر جیسی مایہ ناز علمی شخصیتیں جن کے خوان علم کے خوشہ چیں رہی ہیں، جن کی تعریف میں علامہ ذہبی یہ کہتےنظرآیے ہیں کہ" میری آنکھوں نے ابن تیمیہ جیسا متبحر صاحب علم نہیں دیکھا" لیکن انھیں علماے اہل سنت نے ان کو ضال مضل کیوں کہا ؟ان کے گمراہ ہونے کاسبب کیا بنا؟ یہی نخوت علم ،پندار اجتہاد اور اسلاف پہ زبان درازی..ابن تیمیہ نےتین طلاق کے مسئلے میں اجماع امت کی مخالفت کی، روضہ رسول کی زیارت کے قصد سے شد رحال کو ناجائز کہا اور بہت سے مسائل ونظریات میں جمہور امت کی مخالفت کی، نتیجتاً گمراہی مقدر بنی، اور جو علماے حق ان کی تعریف میں رطب اللسان تھے وہی ان سے بیزاری ظاہر کرنے لگے.. علامہ صفدی متوفی 764ھ کے بیان کے مطابق قاضی القضاۃ ابن جملہ یوسف بن ابراہیم صالحی شافعی نے ہرچند کوشش کی کہ ابن تیمیہ زیارت روضہ رسول کے مسئلے میں توبہ ورجوع کرلیں لیکن انھوں نے رجوع نہیں کیا یہاں تک کہ قید کرلیے گئے، اور جب ابن تیمیہ کی وفات ہوئی تو علامہ صالحی شافعی نے ان کے جنازے میں شرکت تک نہیں کی... (الوافی بالوفیات ج29 ص 35)
الغرض! شہرت ایک ایسی خاردار وادی ہے جس سے سلامتی کے ساتھ گزرناکوئی آسان عمل نہیں ہے...
یہ حقیقت بھی مسلم ہے کہ آدمی کو سچی شہرت اس کے حسن عمل، اعلی اخلاق، علمی کمالات، دینی وملی خدمات کے سبب حاصل ہوتی ہے،جس کے لئے طویل ریاضت اورجہد مسلسل کی ضرورت ہوتی ہے، اور یہ انسان پہ بارگراں ہے لہذا وہ حصول شہرت کے لئے شارٹ کٹ راستہ تلاش کرتاہےجس میں محنت بھی نہ کرناپڑے طویل انتظار بھی نہ ہواور شہرت آسانی کے ساتھ حاصل ہوجائے، یہی ہے "سستی شہرت کی چاہت" اس مقصد کا حصول آج کے ڈیجیٹل دور میں بڑا آسان ہوگیاہے، سوشل میڈیا میں کوئی ایسی بات کردو جس سے ماحول میں ہلچل پیدا ہوجائے، کسی مسلم شخصیت پہ چھینٹا کشی کردو ،بڑی بے باکی کے ساتھ اپنے حریف کو برسر اسٹیج گالی گلوج کردو پھر دیکھو ایک گم نام بے مقدارشخص کو قوم راتوں رات فرش سے اٹھاکر شہرت کے عرش پہ کیسے بٹھاتی ہے..
جب سے سوشل میڈیا بھی لوگوں کے لئے کمائی کا ذریعہ بنا ہے سستی شہرت کا حاصل کرنا بہت آسان ہوگیا ہے... سیاسی طبقہ سے لے کر مذہبی لوگوں میں بھی سستی شہرت کی چاہت عام ہونے لگی ہے... کوئی عقائد ومعمولات اہل سنت اور جمہور کے خلاف بول کر شہرت بٹورناچاہتاہے تو کوئی ان کے رد وابطال کے نام پراپنے اور اپنے گروہ کے افراد کے سوا سب کے عقائد کوشک کے دائرے میں کھینچ لاتاہے، گویا اس کے نزدیک اپنے گروہ کے سوا کوئی صحیح العقیدہ مسلمان ہے ہی نہیں، سب کے سب خوش عقیدگی کاچولا پہنے ہوئے ہیں اور بس.. ایسے افراد کا مقصد سیاسی یامذہبی بساط میں اپنے آپ کو نمایاں کرناہے اور اپنے چینل کے ویورس اور سبسکرائبرس بڑھاکر پیسے کمانا ہے.. دونوں ہی قسم کے لوگ قوم، دین ومذہب ومسلک کی خدمت نہیں کررہے ہیں، بلکہ قوم ودین ومذہب کی خدمت کے نام پہ سستی شہرت کے خواہاں ہیں...

0 تبصرے