قسیم جام عرفان اے شہ احمد رضا تم ہو

 قسیم جام عرفان اے شہ احمد رضا تم ہو

بقلم: محمد رہبر جامی یٰسینی 

خادم: جامعہ امام احمد رضا 

٢٥, صفر المظفر / ١٤٤٨هـــــ    

        بریلی کے تاجدار ، علوم دیں کے بحر بے کراں مختلف فنون کے کوہ گراں، علم حدیث کے سیل رواں،فقہ و فتاوی کے انسائیکلو پیڈیا، فقاہت و علمیت میں یکتائے زمانہ ، اہل سنت و جماعت کا عظیم و  بے بہا سرمایہ  ، فکرو نظر کا مخزن ، تقویٰ و طہارت کا پیکر ، جود و نوال کا منبع ، حسن و جمال کا مجسم ، جاہ و جلال  کا محور۔ علمی عبقریت میں کامل، اوراد و وظائف کے حامل ، شریعت و طریقت کے عالم ، درس و تدریس کے ماہر ، شعر و سخن اور تصنیف و تالیف کے طبیب حاذق ، قرآن و حدیث کے رمز شناس ، فن آشنا ، انقلاب آفریں ، عہد ساز و شخصیت ساز ، قوم و ملت کے نبض شناس، تحریر و تقریر کے بے تاج بادشاہ ، خاندانی وجاہت و شرافت میں فائق و برتر ، بر صغیر پاک و ہند میں اسلام کے پرچم کو لہرانے والا، قاطع نجدیت ، ماحی کفر و ضلالت، شاہ علی رضا کا نور نظر ، نقی علی خان کا لخت جگر شاہ احمد رضا  10 , شوال المکرم,    1272ھ  بمطابق 14 ,جون /1856 ء سپہر علم و فن کا آفتاب عالم تاب بن کر معرفت و آگہی کے افق اعلی پر خوب چمکا، تاریک و بے نور وادیاں روشن و منور ہوگئیں، ظلمت و کثافت کے منڈلاتے بادل کافور ہوگئے، اسلام کے اس بطل جلیل کی آمد سے ایوان نجدیت و رافضیت تھرتھرا اٹھے ، باطل کا دبیز پردہ چاک ہوگیا ، آنکھوں سے گمراہیت کی پٹی اتر گئی ، اس مرد قلندر  نے لوگوں کے قلوب و اذہان میں عشق رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کی شمع فروزاں کر کے صراطِ مستقیم کی طرف لوگوں کا رخ موڑ دیا ، لاکھوں گم گشتگان راہ  و متلاشیان حق خوش آمدید کہتے ہوئے حق آشنا کیا ، اسلام کے انفس و آفاق میں ہزاروں تشنگان علوم و معرفت کو علم و آشنائی کی جام پلا کر دین متین و شریعت غرا کا متوالا بنا دیا ، اپنی درسگاہ علم و فیض سے ایسے ایسے جیالوں کو جنم دیئے جو کہکشاں کی حیثیت رکھتے ہیں اور آج دنیا ان  کے کارہائے نمایاں کو دیکھ کر محو حیرت  ہے۔  راقم السطور کےاندر وہ بساط کہاں کہ   آپ کی ہمہ گیر و ہشت پہلو ذات ستودہ صفات کو احاطہ تحریر میں لاسکے ، آپ کی متنوع شخصیت اور زندگی کے شب و روز قید تحریر میں لانے کے لیے کثیر دفاتر درکار و مطلوب ہیں۔

        میرے رضا کی علمی کھنک کیا ہے ؟  ارباب بست و کشاد و اصحاب علم و قلم سے  دریافت کرو  تو شبہات کا ازالہ ہو جاۓ گا اور قلوب و اذہان کے دریچے  واہ  ہو جائیں گے ۔ بے شمار تذکرہ و سیر نویسوں و سوانح نگاروں نے لکھا ہے کہ جب امام احمد رضا المختار کی عمر کے ماہ و سال اور ایام چار سال ، چار ماہ چار دن کو پہنچے تو آپ رسم بسم اللہ خوانی کرائی گئی، اس شیر خوارگی کی عمر میں بھی لوگ آپ کی ذہانت و فطانت ، قابلیت و صلاحیت ،  فہم و فراست ، قوت ادراک و ذکاوت ، زیرکی و ہوشیاری ، عقلمندی و دانشمندی اور دانائی و بینائی کو دیکھ کر ورطہ حیرت میں ڈوب گئے ۔ علماء لکھتے ہیں کہ استاد نے بسم اللّٰہ کے بعد  حروف تہجی پڑھانا شروع کیا اور  احمد رضا بھی پڑھتے گئے لیکن لا الف پر رک گئے لوگ پریشان ہیں کہ ان کو کیا ہوگیا کہ استاد کے پڑھانے سے بھی نہیں پڑھتے ہیں  آپ کے جد مکرم شاہ رضا علی خان رحمۃ اللہ فراست ایمانی و باطنی سے جان لیے کہ گویا بچہ کہنا چارہا ہے کہ بحث تو مفرد کی ہے لیکن مرکب کہاں سے آ گیا آپنے اپنے نور نظر کو جواب دیتے فرمایا کہ آغاز میں جو تو نے پڑھا ہے وہ الف نہیں بلکہ ہمزہ ہے اور یہ ہمزہ نہیں بلکہ الف ہے۔  الف چونکہ ساکن ہوتا ہے اور ساکن حرف تنہا پڑھا نہیں جاتا ہے  اب  اعلیٰ حضرت کی طباعی و اعلیٰ ظرفی دیکھو! گویا ہوۓ کہ الف کا تلفظ تو کسی بھی حرف کے ساتھ ہوسکتا ہے لام کی کیا حاجت ؟ دادا جان بھی علم و فن کے شہسوار تھے ، یگانہ روزگار و صاحب کشف و کرامات تھے تو پھر کس بات کی دیر ۔ والہانہ محبت و وارفتگی اور زبان و بیان کی شیفتگی و شائستگی کے ساتھ سخن آرا ہوۓ کہ جان پدر ! در حقیقت الف کو لام سے اور لام کو الف سے سیرتاً و صورتاً ایک گونہ علاقہ و نسبت حاصل ہے۔ صورتاً یہ ہے کہ دونوں کی صورت اور شکل ایک جیسی ہے دیکھو! لا۔ اور سیرتاً یہ ہے کہ تلفظ کرتے وقت  لام کا قلب الف ہے اور الف کا قلب لام ہے۔ اس واقعہ اور دلآویز  جواب سے جہاں ایک طرف جد مکرم کی فضیلت و بزرگی ، ژرف نگاہی و باریک بینی اور روشن خیالی و  حاضر جوابی دلنشیں ہیں وہیں دوسری طرف نوخیز و نو نہال پوتےکے  باریک و دقیق سوال سے خدا داد بصارت و بصیرت اور فضل و شرف کا علم ہوتا ہے۔ 

بالاے سرش ز ہوشمندی

می تافت ستاره بلندی

        یقیناً نوعمری ہی سے ممدوح مکرم کے مہر جبیں پر رفعت و بلندی کے آثار ہویدا تھے یہی وجہ ہے کہ جب آپ چھ سال کی عمر کو پہنچے تو میلاد کے عنوان پر کمال برجستگی و شائستگی کے ساتھ فصاحت و بلاغت کے ہیرے جواہرات لٹاتے رہے۔  علمی جلالت اور قلمی و فنی لیاقت کا عالم یہ تھا کہ ابھی آٹھ سال کے ہی تھے کہ فن نحو کی مشہور زمانہ و مقبول  عامہ علما کتاب ”ھدایۃ النحو“ کی بزبان عربی شرح لکھ کر امت کے علما و طلبا کو گراں مایہ ارمغان علم و حکمت پیش فرمایا۔ تقریباً چودہ سال کی عمر میں جملہ علوم مروجہ و متداولہ سے فارغ التحصیل ہوئے اور  پہلے ہی سال میں پہلا فتویٰ مسٔلہ رضاعت پر لکھا جس کی تصدیق خاتم المحقق ن پدر بزرگوار علامہ نقی علی خان علیہ الرحمہ نے فرمائی ۔ ایک عظیم والد نے اپنے ولد سعید کی تعمق نظری  و تبحری علمی کو دیکھ کر والہانہ الفت و وارفتگی کے ساتھ گلے لگایا اور فقہ و افتاء کی باگ ڈور ان کے ہاتھ میں تھما دیا۔ فقیہ فقید المثال  احمد رضا خان محدث بریلوی نے فقہ و فتاویٰ کی دنیا کو انفرادی جہت سے متعارف کرایا ، آپ کے فتاویٰ میں الفاظ کی ندرت ، معانی کی زیادت،  زبان کی لطافت ، اوقات و حالات کی نزاکت، مضامین کی جدت ، دلائل و براہین کی کثرت ، حوالہ جات کی بہتات ، گنجینہ علم و حکمت اور بے شمار تحقیقات و تدقیقات کی جلوہ گری ہے۔ آپ کے رہوار قلم کی رفتار ، سرعت تحریر ، وسعت مطالعہ اور زود نویسی کا عالم یہ تھا کہ آپ نے  جس فن پر بھی قلم کو جنبش دی علم و تحقیق کی گنگا بہا دئیے ، عشق و رسالت و نبوت میں سرشاری اور سرمستی و وارفتگی کا یہ حال تھا کہ نشست و برخاست ، قول و فعل ،نظم و نثر ، شعر و سخن اور تصنیف و تالیف ہر جولان سے گاہ میں محبت رسول کی خوشبوئیں پھوٹ رہی ہیں ، فقط فتاویٰ رضویہ کو دیکھ لیں جو بارہ ہزار اوراق و صفحات پر مشتمل ہے کہ جب چشمہ عشق میں ابال آیا تو آپ نے فتاویٰ رضویہ نام نہیں رکھا بلکہ ” العطایا النبویہ فی الفتاوی الرضویہ “ رکھا یعنی نبی کی عطا فتاویٰ رضویہ میں ہے۔ آپ کے فتاویٰ میں ہزارہا حقائق و  دقائق کے گنجہاۓ گراں مایہ اور بحر علم و فضل کے آبدار و چمکدار موتیاں موجود ہیں ، فتاویٰ رضویہ اپنے دامن میں کئی علوم و فنون سمیٹے ہوۓ ہے۔ایسا فقہی شاہکار ہے جس اپنے بیگانے سبھی لوگ استفادہ کرتے ہیں ، یہ ایسا قدیم و جدید فتاویٰ کا مجموعہ ہے کہ جس نے بہت سے علما کو مفتی بنا دیا۔ آپ نے صدر الشریعہ علامہ مفتی امجد علی اعظمی رحمۃ اللہ علیہ کے پیہم اصرار سے جب ترجمہ قرآن حکیم کے لیے قلم اٹھایا تو کنزالایمان کی شکل و شباہت میں امت مسلمہ کو قلمی و ایمانی ہدیہ پیش فرمایا ، آپ کے ترجمہ کو تمام اردو تراجم پر فوقیت و فضیلت حاصل ہے کہ جس میں جامعیت ، آفاقیت ،معنویت اور وسعت و اکملیت کے گوہر بکھرے ہوۓ ہیں ،  اس کی فصاحت و بلاغت اعجاز کی سرحدوں کو چھوتی نظر آ رہی ہے ۔ امام احمد رضا خان محدث بریلوی کا ہم اہل سنت و جماعت پر بے پایاں احسان ہے کہ انہوں نے نہ صرف قرآن کا ادبی و بامحاورہ ترجمہ کیا بلکہ شان الوہیت اور عظمت رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم کا بھر پور پاس و لحاظ کر کے عشق و وارفتگی کی آگ لگا دیئے، ترجمہ نگاری ہزاروں نے کی تاہم آپ کی ترجمہ نویسی جیسی لذت بخش و مسرت آمیز کسی کی بھی نہیں ، آپ نے اپنے محتاط قلم سے حسن ادب و صحت عقائد کو جس طرح ملحوظ خاطر رکھا ، اس کی نظیر نہیں ملتی ہے ،  ۔ آپ کی شہرہ آفاق تصانیف میں سے ایک تصنیف جلیل ” الدولۃ المکیہ “  ہے جو علم غیب مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر مشتمل ہے ۔ اس گراں قدر تصنیف سے باطل کے پرخچے اڑ گئے خصوصاً نجدیت و وہابیت لرزہ براندام ہوگئی ۔ آپ کی تہ دار شخصیت کو تمام علوم و معارف پر عبور و کمال حاصل تھا ، یہی وجہ ہے کہ ہزار سے زائد کتابیں لکھ کر امت کے نذر کردیں لیکن بہت سارے علمی و قلمی سرمایے ضائع ہوگئے ، علمی دنیا حیران و ششدر رہ گئی ہے کہ جس فن پر بھی قلم برداشتہ ہوۓ دلائل و براہین کے انبار لگا دیئے، ہر فن میں مہ کامل و مہر منیر نظر آۓ،  اورآپ کی تصانیف کا یہ امتیازی وصف ہے کہ چھوٹی، بڑی تمام کتابوں میں اعجاز قرآن و روح قرآن کے جلوے نظر آتے ہیں ۔

    اللہ جل مجدہ الکریم ہمیں بھی وسعت مطالعہ ، کثرت کتب بینی کی توفیق ، حضور کے تلاطم خیز بحر علم و معرفت سے چند قطرے عطا کرے!

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے