بہت بڑی خبر مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ سے سرکاری 12/ اور 6/ غیر سرکاری مدرسوں کی مانیتا رد

 بہت بڑی خبر مدرسہ تعلیمی بورڈ لکھنؤ سے 

سرکاری 12/ اور 6/ غیر سرکاری مدرسوں کی مانیتا رد 

لکھنؤ  : اتر پردیش مدرسہ تعلیمی بورڈ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے 18 مدارس کی منظوری (مان्यता) معطل کر دی ہے۔ اس فیصلے کے بعد ان مدارس میں زیرِ تعلیم ہزاروں طلبہ و طالبات اور اساتذہ کے سامنے سب سے بڑا سوال یہ پیدا ہو گیا ہے کہ فروری میں ہونے والے بورڈ امتحانات اور مستقبل کا کیا ہوگا۔

اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی پر روک

 ان مدارس میں کام کرنے والے اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی فی الحال روک دی گئی ہے۔ اس صورتِ حال میں طلبہ کی تعلیم، امتحانات اور آئندہ انتظامات کو لے کر غیر یقینی کیفیت پیدا ہو گئی ہے۔ ان مدارس میں منشی، مولوی اور عالم جیسی جماعتوں میں پڑھنے والے ایک ہزار سے زائد طلبہ اس وقت تعلیمی سیشن کے آخری مرحلے میں ہیں اور فروری میں ان کے بورڈ امتحانات متوقع ہیں۔

طلبہ امتحانات میں شریک ہوں گے

اس معاملے پر اتر پردیش مدرسہ ایجوکیشن کونسل کی رجسٹرار انجنا سیروہی نے کہا کہ جب تک کسی مدرسے کو مکمل طور پر ختم نہیں کی جاتی، تب تک وہاں زیرِ تعلیمی طلبہ پہلے کی طرح امتحانات میں شریک ہوں گے معطل ہونے کا اثر صرف اساتذہ کی تنخواہوں کی ادائیگی پر پڑے گا، تعلیمی سرگرمیاں اور امتحانی عمل معمول کے مطابق جاری رہے گا۔

جلد امتحانی پروگرام جاری ہوگا

رجسٹرار نے بتایا کہ ان مدارس سے وابستہ تمام طلبہ فروری میں ہونے والے بورڈ امتحانات میں بغیر کسی رکاوٹ کے شامل ہو سکیں گے۔ امتحانات کی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں اور جلد ہی امتحانی پروگرام کا اعلان کر دیا جائے گا۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ بورڈ کی جانب سے طلبہ کو کسی بھی طرح کی پریشانی نہیں ہونے دی جائے گی اور ہر سطح پر تعاون فراہم کیا جائے گا۔

تنخواہوں کو لے کر اساتذہ پریشان:

اساتذہ کے درمیان تنخواہوں کو لے کر تشویش پائی جا رہی ہے۔ مدرسہ بورڈ کا کہنا ہے کہ فی الحال تنخواہوں کی ادائیگی حکومتی سطح پر روکی گئی ہے، لیکن اگر معاملہ حل ہو جاتا ہے اور مانیتا بحال ہو جاتی ہے تو تنخواہوں کی ادائیگی کا عمل دوبارہ شروع کیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ چند دنوں میں مسلسل مدرسوں کی مانیتا معطل کی جا رہی ہے۔

مختلف وجوہات کی بنیاد پر مدرسہ بورڈ یہ کارروائی کر رہا ہے۔ 

جن مدارس کی مانیتا معطل کی گئی ہے، ان کے نام درج ذیل ہیں:

مدرسہ تعلیم القرآن، سلیم پور، پریاگ راج

مدرسہ اہلِ سنت معراج العلوم، دہلی دروازہ، ایودھیا

مدرسہ عربیہ حشمتیہ معراج العلوم، بھدوکھر بازار، سدھارتھ نگر

مدرسہ الجامعۃ الاصلاحیہ، محمد نگر کٹھیلا، اٹوا، سدھارتھ نگر

مدرسہ دارالعلوم غوثیہ، بیروا بنکٹوا، کھوریا بازار، مہاراج گنج

مدرسہ دارالعلوم عربیہ حمیدیہ اہلِ سنت، پنیرہ خاص، مہاراج گنج

مدرسہ جامعہ اسلامیہ، مدم پورہ، وارانسی

مدرسہ لطفیہ عربیہ، علی گڑھ

مدرسہ انجمن اسلامیہ فیض العلوم، دھنوجی خرد، فاضل نگر، کوشینگر

دارالعلوم اہلِ سنت مدرسہ اشرفیہ مصباح العلوم، مبارک پور

مدرسہ حنفیہ ضیاء القرآن، شاہی مسجد، بڑا چند گنج، لکھنؤ

مدرسہ رشید العلوم، سرائیہ، وارانسی

فی الحال مدرسہ بورڈ کی یقین دہانی سے طلبہ کو کچھ راحت ضرور ملی ہے، لیکن اساتذہ کی تنخواہوں اور مانیتا کی بحالی کو لے کر تشویش برقرار ہے۔ ان مدارس کی انتظامی کمیٹیوں نے عدالت سے رجوع کرنے کی تیاری کر لی ہے اور مدرسہ بورڈ کے فیصلے کو عدالت میں چیلنج کیا جائے گا۔

Copy paste 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے