علم کی نسبت رکھنے والی جگہیں کبھی تنہا نہیں ہوتیں، آسمان خود ان کا حال پوچھنے آتا ہے
گزشتہ رات جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا منظر ایک بصری اتفاق نہیں تھا بلکہ آسمان اور زمین کے درمیان ایک خاموش مکالمہ تھا۔ جسے سننے کے لیے کان نہیں دل چاہیے تھا۔ چاند جب آہستگی سے اپنی منزل کی طرف بڑھ رہا تھا تو ایسا لگ رہا تھا جیسے وہ صدیوں پر محیط کسی وعدے کی تکمیل کے لیے اترا ہو۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کا گنبد اس لمحے صرف نقش و نگار کا مجموعہ نہیں رہا تھا بلکہ وہ ایک زندہ علامت بن گیا تھا۔ چاند کی سفید شفاف روشنی جب جامعہ اشرفیہ مبارک پور گنبد کے قریب پہنچی تو فضا میں ایک عجیب سی سنجیدگی اتر آئی۔ وہ روشنی شور نہیں مچاتی، وہ اعلان نہیں کرتی مگر جو کچھ کہہ جاتی ہے وہ لفظوں میں سمٹنے سے انکار کر دیتا ہے۔ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے گنبد نے اپنی پیشانی آسمان کی طرف اٹھا رکھی ہو اور آسمان نے شفقت کے ساتھ اپنا نور اس پر رکھ دیا ہو۔ جیسے کسی بزرگ کے سر پر دست شفقت رکھ دیا گیا ہو، جیسے کسی خاموش طالب علم کو غیر محسوس انداز میں سند عطا کر دی گئی ہو۔ اس لمحے یوں لگا کہ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے در و دیوار بھی جاگ رہے ہیں۔ شاید وہ رات کے سکوت میں اپنی تاریخ دہرا رہے تھے وہ تاریخ جس میں سحر کے وقت چراغوں کی مدھم لو میں کتابیں کھلتی ہیں، جس میں لفظوں سے فکر جنم لیتی ہے اور فکر سے کردار تراشا جاتا ہے۔ جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے گنبد پر ٹھہرا ہوا چاند گویا ان تمام چراغوں کی اجتماعی روشنی تھا جو دن بھر علم کی محفلوں میں جلتے ہیں اور رات کو دعا کی صورت آسمان کی طرف اٹھتے ہیں۔
جامعہ اشرفیہ مبارک پور کے طلبہ نے اس منظر کو موبائل فون میں قید ضرور کیا مگر سچ یہ ہے کہ کچھ مناظر کی اصل جگہ میموری کارڈ نہیں ہوتی بلکہ وہ دل کے اس گوشے میں محفوظ ہوتے ہیں جہاں وقت کی گرد نہیں پڑتی۔ یہ تصویر صرف ایک رات کی یاد نہیں بلکہ ایک احساس کی دستاویز ہے۔ اس احساس کی کہ علم کی نسبت رکھنے والی جگہیں کبھی تنہا نہیں ہوتیں بلکہ آسمان خود ان کا حال پوچھنے آتا ہے۔ ایسی راتیں کم نصیب ہوتی ہیں مگر جب نصیب ہو جائیں تو انسان کو خاموشی سے بہت کچھ سکھا جاتی ہیں۔ وہ یہ احساس دلا جاتی ہیں کہ روشنی کی تلاش میں ہمیشہ بلند فلک کی طرف دیکھنا ضروری نہیں۔ بعض اوقات فلک خود جھک کر زمین کی کسی مقدس پیشانی پر بوسہ دے دیتا ہے۔ گزشتہ رات جامعہ اشرفیہ کا گنبد اور چاند اسی بوسے کی گواہی دے رہے تھے۔ ایک ایسی گواہی جسے دیکھا بھی جا سکتا ہے اور محسوس بھی مگر بیان کرنا ہمیشہ ادھورا ہی رہتا ہے۔
✍️ (حافظ)افتخاراحمدقادری برکاتی،کریم گنج،پورن پور، پیلی بھیت
Copy paste

0 تبصرے