سربراہانِ ادارہ کے نام ایک مخلصانہ پیغام

 سربراہانِ ادارہ کے نام ایک مخلصانہ پیغام


     بحمدہ تعالیٰ کئی جگہ کسی نہ کسی بڑی شخصیت کے زیر سرپرستی چل رہے ادارےمیں، دینی خدمات انجام دیتے آرہا ہوں اور کئی سالوں سے کچھ باتوں کو میں دیکھتا چلا آ رہا ہوں ۔جن باتوں کو میں نےقریب سے دیکھا ہے۔ ان میں سے کچھ یہاں آپ کے سامنے رکھنے کی کوشش کر رہا ہوں ۔

      یاد رہے کہ یہ میری تحریر کسی پیر یا کسی سربراہ ادارہ کو تنقیص بنائے بغیرتحریر کیا ہے۔ زیرسرپرستی چل رہے ادارہ کی کچھ خارجی و داخلی امور ہوتے ہیں جن کی وجہ سے وہ ادارہ ترقی کرتا ہے ۔اور انہی اسباب کی وجہ سے وہ ادارہ کامیاب یا ناکامیاب ہوتا ہے۔ یہ بات ہرشخص بخوبی جانتا ہے۔ کوئی بھی ادارے کا ذمہ دار شخص اس کے داخلی و خارجی امور کوبذات خود انجام نہیں دے سکتا۔ اس کےلیے کئی لوگ ہوتے ہیں۔ یعنی اس ادارے کے لیے ایک ٹیم کی ضرورت پڑتی ہے ۔جس ادارے کی جتنی اچھی ٹیم ہوگی وہ ادارہ اتنا ہی ابھرتا چلا جائے گا۔ اس ٹیم کے اندر کئی طرح کے لوگ ہوتے ہیں اور ہر کسی کی ذمہ داری بھی الگ الگ ہوتی ہے۔ کوئی اس کے داخلی امورکو انجام دیتے ہیں تو کوئی اس کے خارجی امور کو انجام دیتے ہیں۔ 

       ہر کوئی اپنےمقام و مرتبہ کے مطابق اپنی پوری ذمہ داری کوانجام دیتےرہتے ہیں ۔ہر کسی کی خبر گیری اس ادارے کے ذمہ دار لیتے رہتے ہیں۔ یہیں پر ایک چھوٹی سی غلطی یا عدم الفرصت کی وجہ سے بذات خود ان چیزوں کا معائنہ نہیں کر پاتے ہیں۔ اور اپنے کسی یا چند معتمد افراد سے ادارے کی مکمل معلومات حاصل کر لیتے ہیں اور مطمئن ہو جاتے ہیں۔ کہ" میرا ادارہ بحمد ہی تعالی بہت اچھا چل رہا ہے اور ادارے کے تعلق سے سارے فیصلے انہی کچھ خاص افراد کے معلوم شدہ خبر کی بنیاد پر کرتے رہتے ہیں"۔ ادارےکے جتنے بھی متعلقین یا اس ادارے کے کارکنان ہیں۔ ہر کسی کی رسائی اس ادارے کے ذمہ دارشخص سے نہیں ہوتی ہے، یا ہر کسی کی کارگردگی ان تک صحیح طور پر نہیں پہنچ پاتے ہیں۔ کہ کون کیا کر رہا ہے ؟ کونسا کام کس طرح انجام پارہا ہے؟ کون ایمانداری سے انجام دیتا ہے؟ کون نہیں دیتا ہے وغیرہ۔ تمام باتیں اپنے کچھ خاص لوگوں ہی سے معلوم کر لیتے ہیں۔

      مذکورہ باتیں ادارے کے ذمہ دار کو معلوم ہونا بے حد ضروری ہے۔ اب اس بات کو جاننا انتہائی ضروری ہے کہ کون کس طرح کی معلومات فراہم پیش کرتا ہے؟ ان میں سے کچھ افراد کسی کی حمایت میں بات کرتے ہیں اور کچھ خلاف میں بات کرتے ہیں۔ مذکورہ دونوں باتوں کی تصدیق یا تکذیب کے اعتبار سے غیر جانبدارانہ فیصلہ کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔ یہی وہ باتیں ہیں جن سے ادارے کی ترقی یا تنزلی کا سبب ہوتا ہے۔ اگر آپ صرف انہی لوگوں کی باتیں سن کر بغیر تفتیش کے، کسی بھی امور یا باتوں کے تعلق سے خوش فہمی یا غلط فہمی میں مبتلا ہونا انتہائی نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔

     انہیں میں کچھ ایسے بھی لوگ ہوتے ہیں کہ میں کس طرح اپنے( پیر یا سربراہ اعلی ) سے قربت حاصل کرسکوں؟ اس چیز کا بھوت ان کے ذہن و دماغ میں سوار ہوتا ہے۔اب حصول قربت کے لیے ادارے کے تمام ترقی کےراہوں کو پس پشت ڈالنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔ چاہے اس کے مخالف شخص کتنے ہی ادارے کے لیے مفید ہو۔ اس کا وہ بالکل بھی پرواہ نہیں کرتا ہے۔ وہ صرف یہی چاہتا ہے کہ میرا آقا (سربراہ اعلی) مجھ سے کس طرح خوش ہوں؟ اورکس طرح ہم اپنے آقا (سربراہ اعلی )کو خوش رکھ سکیں۔ حصول قربت کے لیے وہ جس حد تک جانا چاہیں وہ جا سکتے ہیں۔

    ایسے وقت میں ذمہ دار شخص کو چاہیے کہ ہر بات کی تفتیش ضرور کریں ورنہ یہ آپ کا خوبصوت باغ کبھی بھی ان فیصلوں کی وجہ سے نیست و نابود ہو سکتا ہے۔ اس بات کوہروہ شخص جانتا ہے کہ اس میں کتنی پریشانیوں کو جھیلنا پڑتا ہے۔ اس بات کا احساس وہی شخص کرسکتا ہے، جو اس پر پیج راہوں سے گزرا ہو۔ اس لیے میں اخیر میں ایسے تمام ذمہ داران کی بارگاہ میں دست بستہ عریضہ پیش کرتا ہوں کہ آپ کویہ اشخاص آسمان کی بلندیوں تک پہنچا بھی سکتے ہیں اوروہاں سے گرا بھی سکتے ہیں۔ تو اس لیے ہر فرد کی اس کی لیاقت وہ صلاحیت کی بنیاد پر ان کی قدر و منزلت کا خیال رکھا جائے۔ ہر کسی کی قربانی کو اس کے محنت کے حساب سے اجر دینے کی کوشش کریں۔ اللہ تعالی آپ کو بہتر جزا دے گا۔آمین۔

 بجاہ سید المرسلین صلی اللّٰہ علیہ وسلم ۔


محمد معظم قادری جامعی

8934042348

خادم التدریس: مدرسہ الجامعہ الاسلامیہ اشرف المدارس کانپور 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے