بٹیر ہاتھ نہ آیا تو زاغ لے کے چلے ۔

 بٹیر ہاتھ نہ آیا تو زاغ لے کے چلے ۔

عرس اعلیٰ حضرت فاضل بریلوی اپنے اختتام کو پہنچا اہل محبت و عقیدت نے اپنی اپنی روحانی اور جسمانی حاضری درج کرائی ۔ بزرگوں کی بارگاہ کا دستور رہا ہے کہ جو دل صاف، کدورتوں سے پاک اور بغص و حسد سے خالی ہو کر جھکتا ہے انہیں صاحب مزار کے فیضان سے حظ وافر ملتا ہے ۔ لیکن جو فتنے، فسادات اور اختلافات و انتشارات کو ہوا دینے کی غرض کے ساتھ حاضر ہو، اسے منھ کی کھانی پڑتی ہے اور زبان و بیان میں ایسی غلطی کر جاتا ہے جس سے رجوع کئے بغیر کوئی چارہ نہیں ۔

عرس مخدومی 2026 میں ایک حادثہ ہوا جس پر گرفت کی گئی اور صاحب معاملہ نے لائیو اپنے بات کی صفائی دی اور اپنی  باتوں سے رجوع کیا اور استغفار پڑھی، معاملہ ختم ۔۔۔  لیکن برا ہو  بغض و حسد کا جو انسان کو قعر ذلت میں ڈال دیتا ہے، اس حسد کی بنیاد ہی جہالت، بے مائیگی اور محرومی ہے ۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ سید جامی اشرف ہر وقت اس تلاش میں رہتے ہیں کہ خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں اور جامع اشرف کچھوچھہ شریف سے کوئی قضیہ نامرضیہ پیدا اور ہم اسے اپنے لیے اوسر (अवसर) بنالیں ، آتش حسد کو سرد کریں اور اپنی قلبی کوفتگی کی تسکین کر سکیں ۔بندہ تو بہت خوش تھا کہ جامع اشرف کے اسٹیج سے غلط بیانی ہوئی ہے، اپنی رائے سے آیت قرآنی کی تفسیر کی گئی ہے ، عقیدہ اہل سنت کو چوٹ پہنچائی گئی ہے ۔ ہمیں بہت بڑا ہتھیار مل گیا ہے، لیکن جب حضور صاحب سجادہ جانشین مخدوم اشرف سمنانی قائد ملت حضرت مولانا سید محمد محمود اشرف اشرفی جیلانی مد ظلہ العالی کی طرف اس بیان کی گرفت کی گئی تو صاحب بیان نے رجوع کر لیا اور استغفار وغیرہ کرکے معاملہ کو ختم کردیا ۔ اس معاملہ کو اگر کوئی اشارے کنائے میں بھی چھیڑتا ہے تو اسے مفسد اہل سنت ہی کہا جائے گا ۔ وہ اہل سنت کے لیے ناسور ہوگا ۔ خیر!  حضور قائد ملت کی گرفت اور صاحب معاملہ کے رجوع کرنے کی وجہ سے جناب کی "فکر ضرار " دم توڑنے لگی اور سوچا کہ اچھا موقع ہاتھ سے چلا تو گیا مگر اسے پھر بھی بھنانا ضرور چاہیے ۔ اس لیے عرس رضوی میں حضرت منانی میاں کے اسٹیج سے ایک بے تکی بات کو چیخ و پکار سے باوزن کرنے کی ناپاک کوشش کرتے ہوئے درج ذیل باتیں کہہ ڈالی ۔

ا۔ خانقاہوں میں اعلیٰ حضرت کا نام ہونا ضروری ہے ۔

2۔ عشق و محبت عشق و محبت کا نعرہ ضروری ہے ۔

3۔ ورنہ ممکن ہے کہ وہاں تفسیر بالرائے کی جائے گی ۔

4۔ ایسی خانقاہ کی گدی پر جاہل لوگ براجمان ہیں ۔

5۔اہل سنت کا عقیدہ ہے " حضور کے بعد سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق ہیں ۔ پھر عمر پھر عثمان پھر حیدر کرار ہیں 

6. مخدوم اشرف سمنانی کا یہی عقیدہ ہے ۔

~~~بٹیر ہاتھ نہ آیا تو زاغ لے کے چلے

قارئین کرام: کچھوچھہ شریف میں عرس مخدومی کے موقع پر غلط بولنے والے معنمی صاحب تھے مگر انصاف کے ان قاتلوں  نے انہیں کلین چٹ دے دی ۔ کیا بات ہے!!!! قاتل، پروانۂ بے گناہی کا حقدار ٹھہرا اور بیچارہ مقتول ہی کو تختہ دار پر چڑھا دیا گیا ۔ ایک لفظ ان پر نہیں بولا، نہ ہی تردید و تنکیر کی گئی ۔ 

اس لیے یہ بات مسلمہ اور مصدقہ معلوم ہوتی ہے کہ سید جامی اشرف بغض و حسد، عناد و کینہ سے مملو ہوکر خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں، جامع اشرف کچھوچھہ شریف اور جانشین مخدوم اشرف سمنانی قائد ملت حضرت مولانا سید شاہ محمد محمود اشرف اشرفی جیلانی سجادہ نشین آستانہ عالیہ اشرفیہ کچھوچھہ مقدسہ کے خلاف ہرزہ سرائی کرتے ہیں ۔ ورنہ ان کو چاہیے تھا کہ متکلم پر حملہ کرتا ،عقیدہ اہل سنت کے مخالفین پر کاری ضرب لگاتا۔ لیکن اس نے ایسا نہیں کیا۔ الٹا محافظ عقائد اہل سنت، حامی دین و سنیت،  یعنی حضور قائد ملت کے خلاف اس کا بھونکنا جہالت، حسد، بغض و عناد ہی تو ہے!!!!!

حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کا بیان کردہ مسئلہ خلافت و افضلیت کو  آسان لب و لہجہ میں عوام اہل سنت کے سامنے پیش کرنے کا بیڑا ماضی قریب میں سب سے پہلے جامع اشرف نے ہی اٹھایا کہ اس رسالہ قبریہ کا ترجمہ و تحشیہ پیش کیا ۔ چند سال قبل اسی عقائد حقہ کو بشکل اعلان موقف حضور قائد ملت مد ظلہ العالی نے پیش فرمایا اور اس اعلان کا اثر دنیا نے اپنے ماتھے کی آنکھوں سے دیکھ بھی لیا اور مستقبل میں بھی دیکھے گی ۔ 

اب ذرا عرس رضوی میں حضرت منانی میاں کے اسٹیج سے جاری جامی میاں کے بیان کا جائزہ لیجیے ۔

انہوں نے کہا: حضور (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم) کے بعد سب سے افضل حضرت ابو بکر صدیق ہیں ۔" اسے انہوں نے اولیاء و مشائخ اور علماء کی طرف منسوب کیا ۔ جبکہ واضح عقیدہ صرف حضور کے بعد نہیں بلکہ تمام انبیاء کے بعد حضرت ابو بکر صدیق کا افضل ہونا ہے۔ اگر کوئی اسے سبقت لسانی قرار دینا چاہے تو ان پر واضح رہے کہ اس نے چار بار،  چار مواقع اور چار مختلف احوال میں اِسی طرح بیان کیا ہے ۔ اس لیے یہ سبقت لسانی نہیں ہے ۔ اب یاتو اسے عقیدہ اہل سنت کے خلاف بیان قرار دیا جائے گا ۔ ایسی صورت میں حضرت منانی میاں صاحب اور ان کے دیگر ہم نشین علما سید جامی اشرف سے رجوع اور توبہ و استغفار کا مطالبہ کریں اور خود بھی اعلان براءت فرمائیں ۔ یا پھر اس بیان کو نادانی اور نا واقفی پر محمول کیا جائے۔ تب  تو جناب نے اپنی جہالت پر خود ہی مہر لگادی ۔ دوسروں کو جاہل بنانے کی فکر نے خود انہیں کو جاہل بنادیا ۔ صیاد خود اپنے ہی جال میں پھنس جائے اس سے بڑی حماقت و نادانی کیا ہو سکتی ہے ۔ لیکن تب بھی عقیدہ اہل سنت کی غلط پیش کش کی وجہ سے یہ بیان قابل گرفت ہے انہیں اس سے رجوع کرنا چاہیے ۔ 

جناب نے خانقاہوں میں عشق و محبت کے نعرہ بازی کی بات بھی بڑے زور و شور سے کی، تو یاد رکھیں!  یہ شو بازی کبھی عقیدت نہیں بن سکتی، کس پر خدا کی زمین وسیع ہونے کے باوجود جب تنگ ہونے لگتی ہے تو وہ اس طرح کلا بازی ، دکھاوا کرتا ہے تاکہ سامنے والا ہمیں اپنا سمجھے حالانکہ وہ ان کا اپنا نہیں ہوتا ۔ یہ سب روٹی بوٹی کا چکر ہے ۔ کسی بزرگ نے اپنے نام کا نعرہ لگانے کا پابند نہیں کیا بلکہ انہوں نے اپنی زندگی کا ہر ہر دقیقہ بندوں کے قلوب و اذہان میں عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کا چراغ روشن کرنے میں صرف کیا ہے ۔ نعرہ لگانے کا نام عقیدت و سنیت نہیں بلکہ بزرگوں کی تعلیمات پر عمل پیرائی کا نام سنیت ہے ۔ یہ ٹرینڈ تو غیروں کا ہے کہ جے جے کاری کرتے رہو پھر تم جو چاہو کرتے رہو سات نہیں ستر خون معاف ہے ۔ کہیں یہی پالیسی تو نہیں چل رہی ہے؟ ورنہ عرس رضوی میں وہ بھی بریلی شریف میں برسر اسٹیج غلط بیانی ہوتی رہی لوگ سنتے رہے، باریش صاحبان جبہ و دستار نے سماعت کی مگر کسی نے اب تک کوئی ردعمل پیش نہیں کیا ۔ ایسا تو ہم بھی نہیں کہتے ہیں کہ وہاں ٹوپیاں نالائق سروں پر تھیں ۔ 

تعلیمات اعلیٰ حضرت کو ان کی کتابوں سے نکال کر عوام الناس تک عام فہم زبان میں سب سے پہلے جنہوں پہنچایا وہ یہی خانوادہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں ہیں ۔ کیا نہیں معلوم کہ حسام الحرمین پر بحیثیت مشائخ اسی خانوادہ سرکار کلاں  کی عظیم شخصیات حضور سید اشرف حسین سجادہ نشین (بڑے حضرت)، اعلیٰ حضرت اشرفی میاں سجادہ نشین، حضور سید محی الدین اشرف (حضور اچھے میاں) ، حضور سید معین الدین اشرف ، حضور عالم ربانی سید محمد احمد اشرف اشرفی جیلانی اور حضور محدث اعظم ہند علیھم الرحمہ وغیرھم نے تائید و توثیق فرمائی تھی ۔ اور آج بھی دین و سنیت کی خدمت و اشاعت کے حوالے سے بات کی جاتی ہے تو انہیں حضرات کے خدمات جلیلہ کو پیش کیا جاتا ہے ۔ اور یہ سب حضور قائد ملت مد ظلہ العالی کے آباء و اجداد ہیں اور انہیں کے مشن کو حضور قائد ملت فروغ و استحکام بخش رہے ہیں ۔ آپ کے آباء و اجداد کے کیا خدمات رہی ہیں؟ کیسا رویہ اپنانا گیا ہے سب چَھپا ہوا ہے ۔ اس لیے تعلیمات اعلیٰ حضرت کو اپنانے، فروغ دینے کی انہیں نصیحت کرنا آپ جیسوں کو قطعی شوبھا نہیں دیتا ۔ افراد خانوادہ اشرفیہ بشمول شما اگر اپنے لیے سرمایہ افتخار بتانا ہو تو آج بھی انہیں مذکورہ بالا حضرات کے محتاج ہیں ۔ انہیں کی ردائے خدمات نے سایہ فگن کر رکھا ہے ۔ایسے آباء و اجداد کی امانتوں کے امین کو جاہل کہتے ہوئے شرم آنی چاہیے ۔ حضور شیخ اعظم علیہ الرحمہ کے قائم کردہ ادارہ اور حضور قائد ملت کی سربراہی میں اشاعت اسلام کا بیڑہ اٹھانے والے مدرسہ سے پڑھ کر انہیں کو جاہل کہتے ہو ، نمک خوری کا کچھ بھی تو پاس رکھتے، حضور شیخ اعظم سے خلافت ملی اس کا تو حق ادا کرلیتے، یہ تمہارے ابا نہیں قائد ملت کے پدر بزرگوار ہیں ۔ جنہیں اردو خوانی تک نہیں آتی ان کو مظہر کرامات غوث اعظم کہنے اور کہلوانے میں غوث اعظم کی شان کی تنقیص نظر نہیں آتی؟ حضور قائد ملت اور ان کے آباء و اجداد تو باضابطہ اور مستند عالم دین ہیں ، اہل سنت کی مسلمہ شخصیات ہیں۔ چٹکیاں بجانا ان کا کام نہیں ہے ۔ 

حسد کرنے لگے ہیں جو شہِ سمناں کے نائب سے 

ہوئے ہیں جا بجا رسوا فضیحت ہو تو ایسی ہو 

جناب نے ایک موقع پر کہا کہ جس محفل میں اہل بیت نہ ہو اس محفل میں مت جاؤ ۔ ۔ بتائیں یہ علم ہے یا جہالت؟

جناب نے قرآن مجید کی مشہور آیت: "یا ایتھ النفس المطمئنۃ اِرجعی الی ربِّکِ " کو "الی ربِّکَ " بفتح الکاف المعجمۃ پڑھتے دکھائی دے رہے ہیں ۔ اسے جہالت کے کس خانے میں رکھا جائے ۔ 

یہ بات اچھی طرح یاد ہے یہ خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکار کلاں اور جامع اشرف اسس علی التقوی کی بہترین مثال ہے، جس کے خلاف بیان بازی کرنے والے ہمیشہ اوندھے منھ گرے پڑے ملے ہیں، اور اچھے اچھوں کو لوہے کے چنے چبانے پڑے ہیں۔ اسی لیے کسی بھی شخص کو اس کے خلاف بولنے پر اچھی طرح سوچنا چاہیے ۔ 

محمد نذرالباری جامعی ۔ پورنیہ بہار

10 اگست 2026

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے