امام احمد رضا بریلوی کا سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے قول سے استدلال و استشہاد
( از : طفیل احمد مصباحی )
لوگ چن لیں جس کی تحریریں حوالوں کے لیے
زندگی کی وہ " کتابِ معتبر " بن جائیے
غوث العالم ٬ تارک السلطنت حضرت سید مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ ( متوفیٰ : ۸۰۸ ھ ) کی ذاتِ گرامی ایمان و یقین اور رشد و ہدایت کی وہ کتابِ معتبر تھی ٬ جس کی تحریروں کو عوام و خواص ٬ علما و مشائخ اور اصفیا و اتقیا نے حوالے کے طور پر چنا اور اپنی دنیا و آخرت کو سجانے اور سنوارنے کا دانش مندانہ کام انجام دیا ۔ سرکار سیدنا مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی کے اقوال و ارشادات کو حرزِ جان بنانے والے خوش بخت افراد و اشخاص میں چودھویں صدی ہجری کی عبقری شخصیت مجددِ اسلام ٬ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان محدث بریلوی علیہ الرحمہ ( متوفیٰ : ۱۳۴۰ ھ ) کی ذات بھی ہے ۔ آپ کو حضورِ مخدومِ سمناں سے بے پناہ لگاؤ اور قلبی محبت تھی ۔ اس کی دو بڑی وجہیں تھیں : ( ۱ ) حضرت مخدوم پاک کی سیادت ( ۲ ) آپ کی بے مثال ولایت و روحانیت ۔ امام احمد رضا بریلوی پوری زندگی ساداتِ کرام اور اولیائے ذی احترام کی عظمتوں کا قصیدہ پڑھتے رہے ۔ ساداتِ کچھوچھہ اور بالخصوص خانوادۂ اشرفیہ کے شہزادگان کی تعظیم و توقیر فرماتے رہے ۔ شیخ المشائخ حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ جب بریلی شریف تشریف لے جاتے تو آپ ان کو قدموں کو بوسہ دیتے اور اپنی مسند پر بٹھاتے ۔ اسی طرح آپ کے صاحب زادے سلطان الواعظین حضرت علامہ احمد اشرف اشرفی الجیلانی اور نواسے حضرت محدثِ اعظم ہند کچھوچھوی علیہما الرحمہ کے ساتھ غایت درجہ محبت و اکرام کا معاملہ فرماتے ۔
بہرکیف ! اب میں اصل موضوع کی طرف آتا ہوں ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی کے مفید ٬ گراں قدر اور معلومات افزا رسائل میں سے ایک اہم رسالہ " مقال العرفاء " ہے ۔ رسالے کا پورا تاریخی نام " مقال العرفاء باعزازِ شرع و علماء " ہے یعنی علمائے کرام اور شریعت کی افضلیت پر اہلِ معرفت کا کلام ٬ جس سے سن ہجری ۱۳۲۷ ھ بر آمد ہوتا ہے ۔ اس رسالے میں آپ نے ایک جگہ حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس کی کتابِ مستطاب " لطائفِ اشرفی " کا حوالہ پیش کیا ہے ٬ جو حضرت مخدومِ سمناں کی عظمت پر دال ہے ۔ اپنی نوعیت کا یہ منفرد اور دلچسپ رسالہ دس مختلف سوالات کے جوابات پر مشتمل ہے ۔ یہ استفتا کہاں سے آیا تھا اور اس کا مستفتی کون ہے ٬ راقم کو اس کا علم نہیں ہو سکا ۔ استفتا کا مضمون کچھ اس طرح ہے :
کیا فرماتے ہیں علمائے دینِ متین و وارثانِ انبياء و مرسلین صلوات الله و سلامہ علی نبینا و علیھم اجمعین اس مسئلہ میں کہ زید کہتا ہے کہ حدیث شریف : العلماء ورثة الانبیاء ( علما ٬ انبیا کے وارث ہیں ) میں علمائے شریعت و طریقت دونوں داخل ہیں اور جو جامعِ شریعت و طریقت ہیں ٬ وہ وراثت کے رتبۂ اعظم و ابجل و درجۂ اتم و اکمل پر فائز ہیں اور عمرو کا بیان ہے :
( 1 ) شریعت نام ہے چند فرائض و واجبات و سنن و مستحبات و چند مسائلِ حلال و حرام کا ، جیسے صورتِ وضو و نماز و غیره ۔
( 2 ) اور طریقت نام ہے وصول الی اللہ تعالیٰ کا ۔
( 3 ) اس میں ( طریقت ) حقیقتِ نماز وغیرہ منکشف ہوتی ہے ۔
( 4 ) یہ ( طریقت ) بحرِ نا پیدا کنار و دریائے زخار ہے اور وہ ( شریعت ) بمقابلہ اس دریا کے ایک قطرہ ہے ۔
( 5 ) وراثتِ انبیا کا یہی وصول الیٰ الله مقصود و منشا اور یہی شانِ رسالت و نبوت کا مقتضائے خاص ٬ اسی کے لیے وہ مبعوث ہوئے ۔
( 6 ) بھائیو ! علمائے صوری و قشری کسی طرح اس وراثت کی قابلیت نہیں رکھتے ۔
( 7 ) نہ وہ علمائے ربانی کہے جا سکتے ہیں ۔
( 8 ) ان کے دامِ تزویر سے اپنے آپ کو دور رکھنا ۔ العیاذ بالله ! یہ شیطان ہیں ۔
( 9 ) منزل اصلی طریقت کے سد راہ ہوتے ہیں ۔
( 10 ) یہ باتیں میں اپنی طرف سے نہیں کہتا ٬ بہت سے علمائے حقانی و اولیائے ربانی نے اپنی اپنی تصانیف میں ان کو تصریح سے لکھا ہے ٬ الیٰ آخر الہذیانات ۔
التماس یہ ہے کہ ان دونوں میں کس کا قول صحیح اور اس مسئلہ کی کیا تنقیح ہے ۔ اگر عمرو غلطی پر ہے تو اس پر کوئی شرعی تعزیر بھی ہے یا نہیں ؟ وہ ( عمرو ) کہتا ہے میری غلطی جب ثابت ہوگی کہ میرے اقوال کا ابطال اولیا کے اقوالِ ہدایت مآل سے کیا جائے ٬ ورنہ نہیں ۔ بينوا بالتفصيل التام توجروا یوم القيام ۔
مذکورہ سوال میں زید کا موقف جائز و درست اور قرآن و حدیث کے عین مطابق ہے ٬ جب کہ عمرو کا قول باطل و فاسد ہے ۔ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا بریلوی نے قرآن و حدیث اور بالخصوص صوفیا و مشائخ اور علمائے طریقت کے اقوال و ارشادات کی روشنی میں مذکورہ سوال کے تمام گوشوں کا مفصل و مدلل جواب عنایت فرمایا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ :
زید کا قول حق و صحیح اور عمرو کا زعم ( خیال / دعویٰ ) باطل ٬ قبیح و الحادِ صریح ہے ۔ اس کے کلامِ شیطنت نظام میں دس فقرے ہیں ٬ ہم سب کے متعلق مجمل بحث کریں گے کہ ان شاء اللہ الکریم مسلمانوں کو مفید و نافع اور شیطانوں کی قالع و قامع ہوگی و بالله التوفيق ۔ عمرو کا قول کہ شریعت چند احکام فرض و واجب و حلال و حرام کا نام ہے ٬ محض اندھا پن ہے ۔ شریعت تمام احکامِ جسم و جان و روح و قلب و جملہ علومِ الہٰیہ و معارفِ نامتناہیہ کو جامع ہے ٬ جن میں سے ایک ٹکڑے کا نام " طریقت و معرفت " ہے ۔ لہٰذا باجماعِ قطعی جملہ اولیائے کرام ٬ تمام حقائق کو شریعیت مطہرہ پر عرض کرنا فرض ہے ۔ اگر شریعت کے مطابق ہوں ( تو وہ ) حق و مقبول ہیں ٬ ورنہ مردود و مخذول ۔ تو یقیناً قطعاً شریعت ہی اصل کار ہے ، شریعت ہی مناط و مدار ہے ، شریعت ہی محک و معیار ہے ۔ شریعت " راہ " کو کہتے ہیں اور شریعتِ محمدیہ علی صاحبہا افضل الصلوة و التحيۃ کا ترجمہ " محمد رسول الله صلى الله تعالیٰ علیہ و آلہ و سلم کی راہ " یہ قطعاً عام و مطلق ہے ٬ نہ کہ صرف چند احکام جسمانی سے خاص ۔ یہی وہ راہ ہے کہ پانچوں وقت ہر نماز بلکہ ہر رکعت میں اس کا مانگنا اور اس پر ثبات و استقامت کی دعا کرنا مسلمان پر واجب فرمایا ہے کہ اھدنا الصراط المستقیم ۔ ہم کو محمد ﷺ کی راہ چلا ٬ اُن کی شریعت پر ثابت قدم رکھ ۔
( مقال العرفاء باعزازِ شرع و علماء ٬ ص : 523 )
اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے سوال میں مذکور عمرو کے بکواس اور ہذیان کو متعدد طرق سے باطل قرار دیتے ہوئے طریقت کے مقابلے میں شریعت اور علمائے شریعت کی بالا دستی کو بزرگانِ دین ٬ صوفیائے کرام اور مشائخ امت کے ساٹھ ( 60 ) اقوال سے ثابت کیا ہے اور دو ٹوک الفاظ میں لکھا ہے کہ شریعت اصل ہے اور طریقت اس کی فرع ہے ٬ شریعت بنیاد ہے اور طریقت اس پر قائم رہنے والی عمارت ہے ۔ شریعت کے بغیر طریقت کوئی معنی نہیں رکھتی ۔ اپنے موقف کی تائید میں آپ نے اولیائے کرام و صوفیائے عظام کے جو ساٹھ اقوال نقل کیے ہیں ٬ ان میں قول نمبر : 54 غوث العالم ٬ تارک السلطنت ٬ محبوبِ یزدانی حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ العزیز کا ہے ٬ جو حسبِ ذیل ہے :
حضرت قطبِ ربانی ٬ محبوبِ یزدانی مخدوم اشرف جہانگیر چشتی سمنانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سردارِ سلسلہ چشتیہ اشرفیہ فرماتے ہیں :
خارقِ عادت اگر از ولی موصوف باوصافِ ولایت ظاہر بود کرامت گویند و اگر از مخالفِ شریعت صادر شود استدراج حفظنا الله و ایاکم ۔
( لطائفِ اشرفی ٬ لطیفہ پنجم ٬ جلد اول ٬ ص : 126 ٬ ناشر : مکتبہ سمنانی ٬ کراچی )
*ترجمہ* : اگر اوصافِ ولایت والے ولی سے خارقِ عادت ظاہر ہو تو وہ " کرامت " ہے اور اگر مخالفِ شریعت سے صادر ہو تو " استدراج " ہے ۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اور آپ کو اس سے محفوظ فرمائے ۔
راقم الحروف کی محدود معلومات اور ناقص مطالعہ کے مطابق رسائلِ امام احمد رضا میں " مقال العرفاء " وہ واحد رسالہ ہے جس میں آپ نے حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کے قول کا حوالہ نقل فرمایا ہے ۔ اس کے علاوہ اور کہیں آپ کا نام یا حوالہ امام موصوف کی کتابوں میں نظر نہیں آتا ۔ اس کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ آپ کا خصوصی میدان فقہ تھا ۔ امام احمد رضا جیسے مایۂ ناز عالم و مفتی اور محتاط مجدد و مصلح کا حضرت مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی قدس سرہ کو " قطبِ ربانی " محبوبِ یزدانی " اور سردارِ سلسلہ چشتیہ اشرفیہ " کہنا اور آپ کی مایۂ ناز تصنیف " لطائفِ اشرفی " کے قول اور عبارت کو اپنے موقف کی تائید میں پیش کرنا ٬ اس بات کی مضبوط دلیل ہے کہ امام احمد رضا کے دل میں حضرت مخدومِ سمنانی کی ولایت و روحانیت اور آپ کے عالمانہ و صوفیانہ مقام و مرتبہ کی بڑی قدر و منزلت تھی ۔ امام موصوف نے نہ صرف لطائفِ اشرفی کا حوالہ پیش کیا ہے ٬ بلکہ حضور مخدوم اشرف کی قطبیت ٬ غوثیت ٬ محبوبیت اور روحانی بادشاہت کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا اظہار بھی فرمایا ہے ۔
اک مجدّد کو بھی تسلیم ہے تیری عظمت
واہ کیا بات ہے مخدومِ کچھوچھہ تیری

0 تبصرے