دہلی سمینار یا افتاء کی عدالت ؟

 دہلی سمینار یا افتاء کی عدالت ؟

دہلی میں علامہ ارشد القادری جیسی عبقری شخصیت پر ایک سمینار کے بعد کسی نے "پروفیسرز" اور "ڈاکٹرز" کی گفتگو کو سراہا تو کسی نے مفتی ازہار احمد امجدی ازہری صاحب کی تقریر کو احقاق حق و ابطال باطل کا کارنامہ قرار دیا- دونوں طرف اپنے اپنے دلائل ہیں- 

 ان دلیلوں سے قطع نظر راقم کا موقف یہ ہے کہ سمینار میں جب ڈاکٹرز پروفیسرز اور علماء ایک ہی چھت کے نیچے جمع ہوں تو ہراز اختلاف کے باوجود سمینار کےخطاب کا ہدف تفہیم اور علمی تبادلہ خیال ہوتا ہے- ایسے ماحول میں علمی اختلاف تو سمینار کی روح ہوتی ہے، مگر اس اختلاف کا حسن اس کے اسلوب اظہار میں پوشیدہ ہوتا ہے- 

سمینار میں "ڈاکٹرز" اور "پروفیسرز" کی تقریروں میں جہاں بعض باتیں محل نظر تھی تو وہیں مفتی ازہار احمد امجدی ازہری صاحب کی گفتگو میں علمی نکات قابل توجہ تو ضرور تھے لیکن مجموعی طور پر ان کا لہجہ کسی علمی سیمینار کے مقرر سے زیادہ مسند افتاء پر بیٹھے ہوئے مفتی کا محاسبہ کرنے والا لہجہ محسوس ہوا- ایسا جیسے کہ سامنے بیٹھے ہوئے guests اہل علم نہیں بلکہ ایسے افراد ہوں جنہیں اپنے اپنے موقف کی صفائی پیش کرنے کے لئے قاضی شہر کے کٹہرے میں کھڑا کیا گیا ہو- 

جناب ازہار امجدی صاحب پروفیسر اور ڈاکٹر کی باتوں کی تردید کرتے وقت یہ بھی کہہ سکتے تھے کہ "فلاں نکتے سے مجھے اتفاق نہیں- میری فہم میں اس کی تعبیر کچھ اور ہے-" یا "اس مسئلے میں صحیح حدیث کے الفاظ کے معنی کچھ اس طرح سے ہیں"- یا پھر "اگر محترم فلاں کی مراد یہ ہے تو یہ محل نظر ہے اور اگر مراد وہ ہے جو ان کے الفاظ سے ظاہر ہوتی ہے تو اس پر مزید وضاحت ضروری ہے-" وغیرہ وغیرہ 

اس طرح کی زبان نہ عقیدے کو کمزور کرتی ہے نہ ہی ان جملوں سے اپنے موقف یا مسلک سے دست برداری ثابت ہوتا ہے- بلکہ اس طرح کے جملے عصری تنقید میں مروج ہیں اور اس طرح کے جملے تنقید کو وقار اور اختلاف کو تہذیب عطا کرتے ہیں-

لیکن اس کے برخلاف جب علمی اختلاف کے جواب میں بار بار "آپ قرآن و حدیث کا مطالعہ کریں"، "من مانی سمجھنے کی کوشش نہ کریں"، "صحیح طور پر مطالعہ کریں" وغیرہ جیسے ہدایتیں زبان سے صادر ہونے لگیں تو ایک مقرر دوسرے مقرر کے مقابل ممتحن بن بیٹھتا ہے- گفتگو میں استدلال کی جگہ ایک ایسی عمودی کیفیت پیدا ہو جاتی ہے جس میں ایک فریق خود کو "میزان" اور دوسرے کو" موزون" سمجھنے لگتا ہے- یہ کیفیت مدرسے کی درس گاہ میں شاید کسی حد تک قابل قبول ہو مگر ایک علمی سیمینار میں جہاں ہر مقرر اپنی علمی شناخت کے ساتھ مدعو کیا گیا ہو، وہاں خود ناقد کے علمی قد کو بونا کر دیتا ہے- یہاں سوال یہ نہیں کہ مفتی صاحب کو اعتراض کرنے کا حق تھا یا نہیں تھا- حق تو ضرور تھا- لیکن سوال یہ ہے کہ اعتراض کس لہجے میں کیا گیا-

قبلہ ازہار امجدی صاحب نے خود فرمایا کہ "آمنے سامنے فیس ٹو فیس بیٹھ کر بات کئے بغیر بات مکمل نہیں ہو سکتی-" جناب امجدی صاحب کے اس جملے میں بڑی خوبصورت علمی شعار موجود ہے- وہ شعار یہ ہے کہ کسی کی بات کا جواب دینے سے پہلے اس کی مراد سمجھ لینا، کسی کی تعبیر پر حکم لگانے سے پہلے اس کے سیاق کو دیکھ لینا، اور کسی علمی شخصیت کی فکر پر نقد کرتے ہوئے اس کے عزت نفس اور مجلس کے آداب کا خیال رکھنا یہ سب علم ہی کا حصہ ہیں- کاش اپنے اسی اصول کا اطلاق قبلہ ازہار امجدی صاحب اپنی تقریر کے پورے مزاج اور لہجے پر بھی کر لیتے- 

رئیس القلم علامہ ارشد القادری پر منعقدہ محفل میں شاید سب سے خوب صورت منظر یہ ہوتا کہ ایک طرف مفتی صاحب کی مسلکی وابستگی پوری پختگی کے ساتھ موجود رہتی اور دوسری طرف علامہ ارشد القادری کے لہجے میں ادبی شائستگی کی فراوانی بھی زبان پر ہوتی- کاش امجدی صاحب کا اختلاف اپنی پوری شدت کے ساتھ موجود رہتا مگر انکا لہجہ ان کی اس شدت کا اسیر نہ ہوتا! 

مسلک کی حفاظت صرف احقاق حق اور ابطال باطل کے نام پر خشک لہجے میں فکری مخالف کو رد کرنے سے نہیں ہوتی- کبھی کبھی اپنے موقف کو خوب صورت زبان، مضبوط دلیل اور وسیع القلبی کے ساتھ پیش کرنا بھی مسلک کی بہترین خدمت ہوتا ہے- اور امجدی صاحب جیسے صاحب علم سے تو یہی توقع زیادہ ہوتی ہے کہ وہ مسند افتاء سے فتوی دینے کی علمی قوت اور ہنر کے ساتھ سیمیناروں میں اختلاف کو ادب میں ڈھالنے کا ہنر بھی دکھائیں- اور یہاں قبلہ امجدی صاحب کے لئے خود علامہ ارشد القادری کی ادبی روایت ہی ان کو سب سے زیادہ سبق دیتی ہے- یہ علامہ ارشد القادری کے زبان و بیان کا حسن اسلوب ہی ہے جو انکو عام رضوی اور بعض ازہری علماء سے ممتاز کرتا ہے- 

(فیروز قادری)

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے