کیامولاعلی رضی اللہ عنہ خلفائے ثلاثہ کے مقابل خودکو مستحق خلافت سمجھتے تھے،اور آپ نےحق خلافت کوان کے لئے ترک کیاتھا؟

کیامولاعلی رضی اللہ عنہ خلفائے ثلاثہ کے مقابل خودکو مستحق خلافت سمجھتے تھے،اور آپ نےحق خلافت کوان کے لئے ترک کیاتھا؟


ڈاکٹر سید شمیم احمد منعمی صاحب کی متنازعہ تقریرکے رد میں راقم الحروف نےتحریر شائع کی تھی کہ انھوں نے آیت کریمہ لن تنالوالبرحتی تنفقوامماتحبون کے تعلق سے یہ جوکہاہے کہ مولاعلی کی شان کولن تنالواالبرحتی تنفقوامماتحبون کے تناظر میں سمجھئے،کہ مولاعلی تین مرتبہ اس آیت کریمہ کے مصداق بنے،ایک بار جب حضرت ابوبکر صدیق خلیفہ بنے تھے،دوسری بار جب حضرت عمر فاروق خلیفہ بنے تھے،تیسری بار جب حضرت عثمان غنی خلیفہ بنےتھے،تینوں بار مولاعلی نے زبان حال سے کہاکہ تینوں حضرات کوخلافت کاشرف مبارک ہولیکن میں نے تولن تنالواالبرحتی تنفقواماتحبون پہ عمل کرتے ہوئے اپنی محبوب شے خلافت کوباری باری تینوں حضرات پہ خرچ(انفاق) کردیا۔یقیناً قرآن حکیم کی یہ ایسی تفسیر ہے جس سےاہل سنت کے اجماعی عقیدے کاانکار لازم آتاہے،لہذایہ تفسیر بالراے ہے جوحرام ہے۔اس تحریر کے شائع ہونے کے بعد کچھ چاپلوس اور درباری مولوی ابوالفیض اورفضلی کارول نبھاتے ہوئے منعمی صاحب کی اصلاح کرنے کے بجائے ان کی بے جاحمایت پہ اترآئےاورمجھےاور دیگر علماےاہل سنت کونشانہ بناتے ہوئے یہ لکھنے لگےکہ منعمی صاحب نے جوکچھ کہاہےوہ ایک علمی نکتہ ہے،اسے تفسیر بالرای کہنا’’کج فہمی‘‘ہے۔

منعمی صاحب کے مدرسے کے صدرالمدرسین مولانامحب اللہ مصباحی نام کے کوئی صاحب ہیں ،انھوں نےہمارے ایک عزیز حافظ عبدالباسط راج محلی صاحب(جوکبھی جامعہ منعمیہ کے استاذتھے)کے توسط سے منعمی صاحب کی صفائی دیتے ہوئے یہ تحریر بھیجی:

آیت کریمہ لن تنالوا البر ۔۔۔ کے تحت ترک حب کا معنی بیان کرنا تفسیر بالرائے ہے؟

آیت کریمہ میں "ما" کا لفظ عام ہے جو ہر چیز سے متعلق حب کو شامل ہے، چنانچہ مفتی احمد یار خان نعیمی رحمت اللہ علیہ فرماتے ہیں:" ما" سے مراد یا تو مال ہے یا مال، کمال، احوال سب مراد ہیں۔( تفسیر نعیمی،ج: 4،ص:5،مکتبہ رضویہ)بعدہ "تحبون" کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: "تحبون" حب سے بنا بمعنی پسندیدگی و میلان۔(ایضاً،ص:5) پھر آپ اسی آیت کے کریمہ کے ضمن میں حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: سید الشہداء امام حسین رضی اللہ عنہ کرب و بلا کے میدان میں اس آیت کی زندہ جاوید عملی تفسیر کرنے گئے تھے انہوں نے سب کچھ لٹا کر یار کو منا لیا، سب کچھ کھو کر سب کچھ پا لیا۔( ایضاً،ص: 8)ساتھ ہی انفاق کی وضاحت کرتے ہوئے آپ نے عبادت میں کوتاہی نہ کرنے، علماء کے لیے علم سکھانے اور دل کو دنیاوی فکروں سے الگ کرنے کو بھی انفاق قرار دیا ہے‌۔ چنانچہ اپ فرماتے ہیں:علماء اپنے علم سے خرچ کریں کہ لوگوں کو سکھائیں بتائیں۔ عابدین اپنی جان خرچ کریں کہ اللہ تعالی کی اطاعت میں کوتاہی نہ کریں اور عابدین اپنے دل کو خرچ کریں کہ اس دل کو دنیا کی گندگیوں کا گھورا (روڑی) نہ بنائیں بلکہ دنیاوی فکروں کو قلب میں نہ آنے دیں۔(ج:1،ص:126)لہذا مذکورہ بالا سطور سے یہ واضح ہوتا ہے کہ دل میں کسی چیز کی طرف اگر میلان پیدا ہو اور اس کا ترک کیا جائے تو یہ بھی انفاق میں داخل ہوگا نہ کہ صرف مال کا خرچ۔ اسی طرح انفاق کو آیت کریمہ "لن تنالوا البر" کے تناظر میں بیان کرنا جائز و درست ہوگا اور ہرگز تفسیر بالرائے نہ ہوگا۔قران کریم میں اس کی متعدد نظیر موجود ہیں۔ مثلا آیت کریمہ:وَلَا تَحْسَبَنَّ الَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَمْوَاتًا بَلْ أَحْيَاءٌ عِنْدَ رَبِّهِمْ يُرْزَقُونَ ( آل عمران،آیت: 169)کے شان نزول کے بارے میں متعدد اقوال ہیں۔ مثلا یہ کہ یہ آیت کریمہ شہدائے بدر کے بارے میں نازل ہوئی ، شہدائے احد کے بارے میں نازل ہوئی، وغیرہ؛ لیکن اگر سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت کو اس آیت کی روشنی میں بیان کیا جائے تو کیا یہ تفسیر بالرائے ہے؟ ہرگز نہیں۔ واللہ اعلم محب اللہ مصباحی صدر المدرسین جامعہ منعمیہ میتن گھاٹ پٹنہ۔۱۷جولائی ۲۰۲۶ء۔واٹس ایپ پہ یہ تحریر آئی تومیں نے اس پہ زیادہ تبصرہ کئے بغیررواروی میں ایک مختصر ساجواب لکھ دیاتاکہ کسی طرح منعمی صاحب اپنی غلط تقریر سے رجوع کرلیں ،میں نے جواب میں یہ لکھا: لیکن اس(آیت) کو خلافت مولا علی وخلافت خلفائے ثلاثہ سے کیا تعلق؟ کیا حضرت صدیق اکبر کو مولا علی نے خلافت دے کر محبوب شے کے انفاق کی فضیلت حاصل کی تھی یعنی خلافت مولا علی کی تھی لیکن انھوں نے صدیق اکبر کو سپرد کر دیاتھا... کیا یہ مولاعلی کے لئے استحقاق خلافت بلافصل کاقول نہیں ؟۔۔اسی کے ساتھ خانقاہ منعمیہ کی ایک شاخ گیا سے جو مضمون شائع ہواہے،جس میںصاف صاف مولاعلی کی خلافت بلافصل اور ان کی افضلیت کانظریہ پیش کیاگیاہے،اس کا لنک بھی محرر موصوف کوبھیجا اور اس کاجواب طلب کیا۔

اس جواب پہ محرر موصوف نے یہ لکھا:یہ استحقاق کا قول نہیں ،حب کا قول ہے،اور ترک حب کو انفاق بتایا گیا ہے۔کیا حب کا ترک انفاق میں داخل نہیں؟ اگر داخل ہے تو تفسیر بالرائے کیسے؟نیز خطیب نے کہیں نہیں کہا کہ حضرت علی خلافت کے مستحق تھے اور نہ خطیب کا یہ نظریہ ہے، لہذا استحقاق کا معنی پیدا کرنا کلام میں تحریف کرنا ہے۔

محب اللہ مصباحی

اس کے جواب میں ،میں نے یہ لکھا:

انھوں نے یہ کہاہے کہ حضرت علی نے تین مرتبہ دنیا کو طلاق دی ہے، اور وہ ہے خلافت.. یعنی جس دنیا کو مولاعلی نے تین طلاق دی ہے اسے تینوں خلفا نے قبول کیا ہے... ان کی پوری تقریر کا ماحصل یہی ہے کہ سیدنا صدیق اکبر کے خلیفہ بننے کے وقت ہی مولاعلی خلافت کے حق دار تھے جس کا انفاق ان کی طرف سے پایا گیاہے یہ شیعی عقیدہ ہے...ترتیب خلافت وافضلیت سے متعلق منعمی صاحب کا عقیدہ کیاہے اسے وہ واضح کیوں نہیں کرتے ؟اپنی تقریر کی وضاحت کیوں نہیں کرتے کہ جو تفسیر انھوں نے کی ہے اس کو کس معتبر تفسیر سے اخذ کیا ہے....؟ اگر بقول ان کے انفاق سے مرادحُب خلافت کاترک ہے تو اس حب کے ترک سے خلفاے ثلاثہ محروم رہے، پھر اگر حب خلافت کا الزام ان تینوں حضرات پہ درست ہے تو اس کا شرعی ثبوت کیاہے؟ جب کہ نصوص میں اس کا صراحتاً انکار موجود ہے.. اگر عقیدہ تفضیلیت سے منعمی صاحب بری ہیں تو اعلان کیوں نہیں کرتے...؟؟۔۔اسی کے ساتھ دوبارہ اسی شیعی عقیدے والی تحریر کالنک بھی میں نے بھیج دیا ۔۔

منعمی صاحب کے وکیل نے اس بار یہ جواب لکھا:

تین مرتبہ طلاق دیا یعنی ترک کیا،اس کے لیے روایات پر نظر ڈالنی چاہیے۔کیا یہ ترک کی بات خطیب نے اپنی جانب سے کی ہے یا اس کا کوئی ماخذ بھی ہے؟ اگر ماخذ ہے تو کیا ابن عساکر اور بلاذری بھی تفضیلی تھے ،جنہوں نے یہ روایات نقل کیں؟ آپ کا لزوم کیا وہاں عاید نہیں ہوتا؟ اگر نہیں تو صرف حب کے ترک کے حوالے سے بیان کرنا تفضیلیت کیسے ہوا؟اب رہی بات کہ ترک حب کی نعمت سے خلفاء ثلاثہ محروم رہے جو کہ آپ نے پیش کیا تو یاد رکھیے خطاب میں دونوں کو شرف قرار دیا گیا ہے۔ چنانچہ نتیجہ یہ نکلا کہ سب نے خیر کیا ،کسی نے قبول کرکے تو کسی نے ترک حب کے ذریعے حضرت ابو بکر کا ساتھ دے کر،کہ یہ ممکن نہیں کہ ہر کوئی ترک کرے ۔ اگر ایسا ہو جاتا تو امت کا نظام کیسے چلتا۔ باقی شیعی عقیدہ حضرت ابو بکر صدیق کے غصب کا ہے نہ کہ انفاق کا۔منعمی صاحب ترتیب خلافت کو حق جانتے ہیں اور جو اس کے خلاف کہے وہ خود اس کا ذمہ دار ہے۔ جیسا کہ ابھی اس بارے میں پوچھا گیا تو آپ نے مذمت کی اور انکار کیا ۔ناچیز نے بھی ایک شخص کو فیس بک پر لکھا کہ یہ خانقاہ منعمیہ میتن گھاٹ کا موقف نہیں۔محب اللہ مصباحی

اس جواب کے ساتھ محرر موصوف نےابن عساکر کی تاریخ دمشق کی جلد ۴۲سے ۴۳۴تا۴۳۹صفحات کااسکین بھی بھیجا۔ان صفحات میں مولاعلی رضی اللہ عنہ کی جانب منسوب کچھ اقوال نقل کئے گئے ہیں جن کاماحصل یہ ہے کہ’’مولاعلی تینوں خلفا سے زیادہ خود کومستحق خلافت سمجھتے تھے،لیکن امت کے مابین جنگ وجدال کوناپسند کرتے ہوئےاپنے حق سے دست برداری اختیار کرلی تھی‘‘۔۔ان روایات پہ کچھ کلام کئے بغیر میں نے اتنالکھا:

منعمی صاحب کو چاہیے کہ تحریرا اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کریں کہ میں موقف اہل سنت کے مطابق ترتیب خلافت راشدہ کو مانتا ہوں نیز اسی ترتیب کے مطابق افضلیت سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کا عقیدہ بھی رکھتا ہوں... خدا کے واسطے آپ اس کا اعلان کروا دیں.. ہم سب سادات کے وفادار ہیں، ہماری دلی خواہش ہے کہ منعمی صاحب کی ذات ہر قسم کی بدعقیدگی کے الزام سے بچے رہیں.. اللہ پاک ہم سب کو مشائخ چشت اہل بہشت کے عقائد پہ قائم رکھے..فضیلت صدیق اکبر پھر فاروق اعظم پھر سیدنا عثمان غنی پھر مولا علی رضی اللہ عنہ کا عقیدہ رکھتا ہوں، براہ کرم اتنا اعلان کروا دیں، باقی چیزیں دیکھ لی جائیں گی..اگر منعمی صاحب سے اتنا اعلان کروا دیں نیز تقریر کے ماخذ کی وضاحت کرادیں تو تقریر پہ علمی بحث تو ہوسکتی ہے لیکن ان کی ذات شیعیت کے الزام سے بری ہوجائے گی، اورایسا کروانے والوں کے لئے یہ بڑی خیر خواہی کی بات ہوگی.۔۔۔اس کےساتھ ہی میں نے یہ بھی لکھاکہ آپ کاکہناہے کہ منعمی صاحب کی انفاق سے مراد ترک استحقاق خلافت نہیں بلکہ ترک حب خلافت ہے،توآپ نے تاریخ دمشق کاجواسکین بھیجاہے اس میں تو یہ لکھاہے کہ مولاعلی خلفاے ثلاثہ کے مقابلے میں خود کوزیادہ مستحق خلافت سمجھتے تھے؟!اس کے بعد محرر موصوف کا اب تک کوئی جواب نہیں آیا۔۔۔

منعمی صاحب کے وکیل صفائی کی حیثیت سے ان کے مدرسے کے صدرالمدرسین نے جوکچھ لکھا،اس سے قارئین کرام بہ آسانی سمجھ سکتے ہیں کہ ان کے درباری مولویوں نے انھیں یہ اچھی طرح سمجھادیاہے کہ انھوں نے لن تنالواالبر کے تناظر میں جو بات کہی ہے وہ درست ہے تفسیر بالرای نہیں ہے اور دلیل کے لئے ابن عساکر کی تاریخ دمشق بھی کھوج لی ہے.. 

منعمی صاحب کے وکیل مولانامحب اللہ مصباحی کے بھیجے ہوئے اسکین سے یہ ظاہر ہوتاہے کہ وہ سیدنا علی مرتضی کرم اللہ وجہہ الکریم کواگر خلیفہ چہارم مانتے بھی ہیں تویہ ضرور مانتے ہیں کہ مولاعلی خلافت بلافصل کے زیادہ حق دار تھے،انھوں نے تین بار اپنے اس ’’محبوب حق‘‘ (حق خلافت )کوخلفاے ثلاثہ پرقربان کرکے لن تنالواالبر حتی تنفقوا مماتحبون کے مصداق بنے تھے،یہی وجہ ہے کہ ان کے وکیل صفائی نے اس کی دلیل میں ابن عساکر کی تاریخ دمشق کی روایت کوپیش کیاہے۔یقیناً یہ شیعی نظریہ ہے۔اگرچہ اس بیان میں صحابۂ کرام کوصراحتاً غاصب نہیں کہاگیاہےلیکن اس عقیدے کوماننے سے لازماً یہ مانناپڑے گاکہ تینوں خلفاے راشدین سمیت تمام صحابۂ کرام نے مولاعلی کوحق خلافت سے محروم کردیا ہے،اور یہ حق خلافت کاغصب نہیں تو اور کیاہے؟

منعمی صاحب کے وکیل صفائی کی جرات دیکھئے کہ منعمی صاحب کی اس بات کی وہ تائید کرتے ہیں کہ مولا علی نے تین بار دنیاکوطلاق دی یعنی حق خلافت کوتین بار ترک کیااس کامعنی یہ ہواکہ خلافت علی منھاج النبوۃ کودنیاسمجھ کر طلاق دے دی اوراسے خلفاے ثلاثہ نے قبول کرلیا،پھراس پہ یہ تضاد بیانی دیکھئےکہ خلافت کو’’شرف‘‘ بھی فرماتے ہیں،گویادنیاجسے طلاق دی گئی وہ ان کے نزدیک ’’شرف‘‘ بھی ہے!!اوراسی طلاق شدہ دنیاکو معاذاللہ مولاعلی نے پھر شرف سمجھ کر قبول بھی فرمالیا۔سچ ہے اگر تمام عقائد خبیثہ کوجمع کردیاجائے توشیعیت ورافضیت کاخمیر بنتاہے۔۔۔

مسئلہ خلافت میں ترتیب خلافت کے مطابق خلفاے راشدین کی افضلیت واحقیت خلافت کی ترتیب اہل سنت وجماعت کاقطعی اجماعی موقف ہے اس کاانکار گمرہی ہے،لہذااس پہ اب بحث کرنے اور اس کے خلاف تاریخی روایات پیش کرنے کی کوئی گنجائش نہیں ،لیکن روافض اپنی بدعقیدگی کوثابت کرنے کے لئے کچھ نہ من گھڑت وموضوع تاریخی روایتوں کاسہارالے کرکم علم سنیوں کوشک وشبہ میں ڈالتے ہیں اورانھیں شیعیت کے جال میں پھانسنے کی کوشش کرتے ہیں۔

یہ گمراہ کن نظریہ ہے کہ شیخین کریمین وسیدناعثمان غنی کے خلیفہ بننے کے وقت مولاعلی خلافت کی خواہش رکھتے تھے اور اس خواہش کوانھوں نے تینوں خلفا پہ قربان کردیاتھا۔منعمی صاحب کے وکیل صفائی نے اس کے ثبوت میں تاریخ دمشق کی جوروایت پیش کی ہے وہ صحیح روایتوں کے مقابلے میں روایۃ ً ودرایۃًمنکر ونامقبول ومردود ہے۔ابن عساکر کی روایت طویل ہے ،بطور اختصار اس کے متعلقہ حصے کو مع سند کے یہاں ذکر کیاجاتا ہے: أخبرنا أبو البركات الأنماطي أنا أبو بكر محمد بن المظفر أنا أبو الحسن العتيقي أنا يوسف بن أحمد أنا أبو جعفر العقيلي أنبأنا محمد بن أحمد الوراميني نا يحيى بن المغيرة الرازي نا زافر عن رجل عن الحرث بن محمد عن أبي الطفيل عامر بن واثلةالكناني قال أبو الطفيل كنت واقفا على الباب يوم الشورى فارتفعت الأصوات بينهم فسمعت عليا يقول بايع الناس لأبي بكر وأنا والله أولى بالأمر منه وأحق منه فسمعت وأطعت مخافة أن يرجع الناس كفارا يضرب بعضهم رقاب بعض بالسيف ثم بايع الناس عمر وأنا والله أولى بالأمر منه وأحق منه فسمعت وأطعت مخافة أن يرجع الناس كفارا يضرب بعضهم رقاب بعض بالسيف ثم أنتم تريدون أن تبايعوا عثمان إذا أسمع وأطيع وإن عمر جعلني في خمسة نفر أنا سادسهم لا يعرف لي فضلا عليهم في الصلاح ولا يعرفونه لي كلنا فيه شرع سواء وأيم الله لو أشاء أن أتكلم ثم لا يستطيع عربيهم ولا عجميهم ولا المعاهد منهم ولا المشرك أن يرد خصلة منها لفعلت الخ۔۔۔(تاریخ مدینۃ دمشق ج ۴۲ص ۴۳۴)

اس روایت کے متن کاخلاصہ یہ ہے کہ مولاعلی بیعت صدیق اکبروفاروق اعظم وعثمان غنی رضی اللہ عنہم کے وقت خودکو ان سے زیادہ مستحق خلافت سمجھتے تھے۔اب اس روایت کے بارے میں معتمد ناقدین علم حدیث کی آرا ملاحظہ کیجیے:

امام ابن حجر عسقلانی نے لسان المیزان میں یہ لکھاہے:وهو خبر منكر۔وہ منکرروایت ہے۔اس روایت کے راوی حارث کوامام ابن عدی نے مجہول قرار دیاہے،نیز جس "رجل" کاذکر سند میں ہے وہ بھی مجہول ہے۔(لسان المیزان ج ۲ص ۱۵۶)

مزید یہ تحریر فرمایا:فهذا غير صحيح وحاشا أمير المؤمنين من قول هذا۔یہ روایت صحیح نہیں،یہ قول امیرالمومنین سیدناعلی کاہرگز نہیں ہوسکتا۔اس روایت کی علت خفیہ کوذکر کرتے ہوئے فرمایا:قلت: ولعل الآفة في هذا الحديث من زافر۔شاید یہ آفت والی روایت زافر کی طرف سے آئی ہے۔یہی بات علامہ ذہبی نے بھی میزان الاعتدال میں لکھی ہے۔

حد تویہ ہے کہ اس طویل روایت کوذکر کرنے کے بعد خود ابن عساکر نے یہ تحریر فرمایاہے: وهذا الحديث لا أصل له عن علي وفي هذا الحديث ما يدل على أنه موضوع۔حضرت علی سے متعلق یہ حدیث بے اصل ہے،اس حدیث میں ایسی بات ہے جس سے پتہ چلتاہے کہ یہ موضوع(من گھڑت) ہے۔( تاریخ دمشق ج 42 ص 436 ناشر دارالفکر بیروت 1415ھ) لیکن منعمی صاحب کے وکیل موصوف نے ابن عساکر کی اس بات کوبالکل نظر انداز کردیااور اسے منعمی صاحب کی تقریر کی صحت کی دلیل کے طور پر پیش کردیا،یہ سراسر دھوکہ دہی نہیں تواور کیا ہے۔اب اس تضاد کوکوئی سلجھائے کہ منعمی صاحب کے وکیل ایک طرف تویہ کہتے ہیں’’نیز خطیب (منعمی صاحب )نے کہیں نہیں کہا کہ حضرت علی خلافت کے مستحق تھے اور نہ خطیب کا یہ نظریہ ہے، لہذا استحقاق کا معنی پیدا کرنا کلام میں تحریف کرنا ہے‘‘پھر دلیل میں ابن عساکر کی اس روایت کوپیش کرتے ہیں جس میں یہ لکھاہے کہ مولاعلی خود کوشیخین اور حضرت عثمان کے مقابلے میں مستحق خلافت سمجھتے تھے۔ اس سے توصاف ظاہر ہے کہ منعمی صاحب کے نزدیک مولاعلی شیخین کے مقابلے میں زیادہ خلافت کے حق دار تھے!

حق یہ ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے اپنے لئے کبھی استحقاق خلافت کی بات ہی نہیں کہی ہے تواس کے انفاق وترک کاکیاسوال پیداہوتاہے؟ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ نے نہ خود کوسیدنا صدیق اکبر سے افضل سمجھانہ ان کے مقابلے میں خود کومستحق خلافت تصور کیا۔ذراصحیح بخاری کی روایت کے ان الفاظ میں غور کیجیے:إِنَّا قَدْ عَرَفْنَا فَضْلَكَ وَمَا أَعْطَاكَ اللَّهُ وَلَمْ نَنْفَسْ عَلَيْكَ خَيْرًا سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْكَ،ہم آپ کی فضیلت کوجانتے ہیں اور اللہ تعالی نے آپ کوجونعمت دی ہے وہ بھی جانتے ہیں،ہم اس خیر میں آپ پہ حسد نہیں کرتے(آپ سے مقابلہ نہیں کرتے)جو اللہ نے آپ کے حوالے کی ہے۔

اس کی شرح میں امام ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں یہ لکھاہے:أَيْ لَمْ نَحْسُدْكَ عَلَى الْخِلَافَةِ۔یعنی اے ابوبکر ! خلافت کے معاملے میں ہم آپ سے حسد نہیں کرتے۔کیامولاعلی کی شان نیازی اوربے مثال بے نفسی کوجاننے کے باوجود کوئی خوش عقیدہ مسلمان یہ تصور کرسکتاہے کہ سیدنا صدیق اکبر کے مقابلے میں مولاعلی اپنے لئے استحقاق خلافت کے قائل تھے ؟اورصحابہ نے انھیں اس حق سے محروم کردیاتھا؟؟مولاعلی جس خلافت کوسیدنا صدیق کے حق میں نعمت الہی فرماتے ہیں،خیر فرماتے ہیں،اسے منعمی صاحب اور ان کے حامی دنیاکہہ کر یہ باور کراناچاہتے ہیں کہ مولاعلی نے تین مرتبہ اسے طلاق دی ہے۔استغفراللہ العظیم

منعمی صاحب کی گمراہ کن تقریر کاتفصیلی ردلکھاجائے توایک رسالہ تیار ہوسکتاہے۔فی الحال اسی پہ اکتفا کرتاہوں۔

رضاءالحق مصباحی

خادم دارالعلوم گلشن کلیمی پھول واریا راج محل 

وخادم مرکزی دارالافتاء والقضاء راج محل

۱۹جولائی ۲۰۲۶ء


ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے