لن تنالوالبرحتی تنفقوا مما تحبون" کی تفسیر بالراے کا تنقیدی جائزہ

 #لن تنالوالبرحتی تنفقوا مما تحبون" کی تفسیر بالراے کا تنقیدی جائزہ#

اس سال عرس مخدومی کے موقع پر اہل سنت وجماعت کی مرکزی خانقاہ ،خانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں کے صحن میں مرکزی درسگاہ جامع اشرف کے جلسہ دستار بندی میں محترم ڈاکٹر سید شمیم احمد منعمی صاحب خانقاہ منعمیہ متن گھاٹ پٹنہ کا خطاب ہوا،اس کا ایک ویڈیو کلپ سوشل میڈیا پہ عام ہوا، منعمی صاحب نے اپنے خطاب میں آیت کریمہ لن تنالو البر حتی تنفقوا مما تحبون کے معنی ومراد کے ضمن میں جو کچھ بیان کیاہے وہ نہ صرف تفسیر بالراے ہے بلکہ اس سے ترتیب خلافت کے تعلق سے اہل سنت وجماعت کے اجماعی عقیدہ اورصاحب عرس سیدنا مخدوم اشرف سمنانی قدس سرہ سمیت تمام اسلاف اہل سنت علما وصوفیہ بلکہ خود خانقاہ اشرفیہ سرکارکلاں کے موجودہ سجادہ نشین حضرت قائد ملت سید محمود اشرف اشرفی جیلانی دام ظلہ نیز اس وقت کے جملہ اکابرعلماومشائخ خانوادہ اشرفیہ کے عقیدہ سے متصادم ہے، لیکن علما ومشائخ اور جامع اشرف کے اساتذہ کی جانب سے اس بیان کی بروقت تردید نہ کرنا بلکہ بعض کم علم وغیر ذمہ دار افراد کا اس زور خطابت پہ کلمات تحسین پیش کرنا اور نعرے لگانایقینا تشویش پیدا کرنے والی بات ہے..انصاف اور خیر خواہی کا تقاضا تو یہ تھا کہ اس غیرذمہ دارانہ بیان پہ خوش اسلوبی کے ساتھ ذمہ دار افراد سے استفسار ہوتا، اس پہ مناسب انداز میں تنبیہ ہوتی لیکن ایسا نہیں ہوا، سوشل میڈیا پہ تضلیل وتذلیل اور دشنام طرازی کا ایک طوفان برپا کردیا گیا جو دینی واخلاقی اعتبار سے درست نہیں، خصوصاً جب کہ اس وقت ہندوستانی مسلمانوں کے دینی تشخص اورمذہبی شعارکے تحفظ کا مسئلہ ہم سب کے لئے سب سے اہم مسئلہ بناہوا ہے...محترم سید شمیم احمد منعمی صاحب بہار کی ایک قدیم تاریخی خانقاہ کے ذمہ دار ذی علم فرد ہیں ان کی طرف سے ایسا خطاب یقیناً خوش عقیدہ سنی مسلمانوں کے لئے تشویش وتشکیک کا باعث ہے، انھیں چاہیے کہ اپنے بیان پہ یاتو ٹھوس شرعی دلیل پیش کریں یا اس کی وضاحت پیش کرتے ہوئے ترتیب خلافت کے تعلق سے اپنے موقف کا اعلان کرکے پیداہونے والے شکوک وشبہات کو دور کریں... کیوں کہ مذکورہ بیان سے یہ لازم آتاہے کہ معاذاللہ سیدنا صدیق اکبر وفاروق اعظم اور عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنھم خلافت کے خواہش مند تھے اور خلافت ان کی محبوب شے تھی، یہ جب انہیں حاصل ہوئی تو انھوں نےبخوشی قبول کرلی جب کہ سیدنا صدیق اکبر کے خلیفہ بنتے وقت ہی مولا علی مرتضٰی شیرخدا کرم اللہ وجہہ الکریم خلافت کے حق دار تھے اور اس حق کو صحابہ نے غصب کرکے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو دے دیا تھا اور مولا علی نے اپنی اس محبوب شے (خلافت) کو ترک کرکے بقول ان کے "لن تنالوا البر حتی تنفقوا مما تحبون" پہ عمل پیرا ہوئے تھے، اگر سوچا جائے تو اس بیان سے خود مولا علی شیر خدا کی ذات پہ یہ الزام عائد ہوتاہے کہ خلافت آپ کی محبوب شے تھی جسے آپ نے صدیق اکبر، پھر فاروق اعظم، پھر عثمان غنی رضی اللہ عنہم کے سپرد کر کے عظیم نیکی (البر) حاصل کی تھی، یعنی منعمی صاحب کے بیان سے یہ لازم آتاہے کہ مولا علی بھی معاذاللہ خلافت کے خواہش مند تھے اور خلافت ان کے نزدیک محبوب شے تھی،جو انھوں نے یہ کہتے ہوئے سیدنا صدیق اکبر، پھر عمر فاروق پھر عثمان غنی کو دے دی تھی کہ "آپ کو خلافت مبارک ہو" ہم تو فرمان باری تعالی "حتی تنفقوا مما تحبون پہ عمل پیرا ہیں" تعجب کی بات ہے موصوف نے اسے فضائل مولا علی میں کیسے شمار کیا؟!

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ مولاے کائنات سمیت خلفائے ثلاثہ کا دامن بھی حصول خلافت کی محبت وخواہش کے داغ سے پاک تھا.. ان نفوس قدسیہ نے توخلافت کو امت مسلمہ کی صلاح وفلاح کافریضہ سمجھ کر قبول فرمایاتھا،اللہ تعالیٰ نے ان کے قلوب کوخشیت وخوف الہی کامنبع بنادیاتھا،احساس مسئولیت کے بوجھ سے وہ ہمیشہ لرزاں رہتے تھے... حب جاہ ومنصب سے ان کے دل پاک تھے..چناں چہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ جب خلیفہ بنائے گئے تو صحابہ کرام کو خطاب کرتے ہوئے حمد وثنا کے بعد فرمایا :ان اکیس الکیس التقوی واحمق الحمق الفجور الا وان الصدق عندی الامانۃ والکذب الخیانۃ الا وان القوی عندی ضعیف حتی آخذ منہ الحق والضعیف عندی قوی حتی آخذ لہ الحق الا وانی قد ولیت علیکم ولست باخیرکم قال الحسن ھو واللہ خیر ھم غیر مدافع ولکن المؤمن یھضم نفسہ ثم قال :ولوددت انہ کفانی ھذاالامر احدکم... الی آخرہ.. کیا خلیفہ بننے کے بعد سیدنا صدیق اکبر نے جو خطبہ دیاتھا اس کے کسی جملے سے یہ ظاہر ہوتاہے یاکوئی ایک مستند روایت ایسی ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہوکہ سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ خلافت کے خواہش مند تھے اور یہ آپ کو محبوب تھی،آپ نے تو بڑے واشگاف انداز میں یہ فرمایاتھا"میری یہ خواہش ہے کہ میری جگہ پہ آپ میں سے کوئی خلیفہ بن جائے، کیوں کہ میں آپ لوگوں سے بہتر نہیں ہوں" آپ کے اس متواضع انداز کو ذکر تے ہوئے سیدنا حسن بصری نے فرمایا :یہ تو آپ کاتواضع وانکسار تھا اور مومن متواضع ومنکسر المزاج ہوتاہے ،ورنہ حق یہ ہے کہ ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ بلا کسی اختلاف کے سب صحابہ سے افضل تھے" (السنن الکبری للبیہقی ج 6 ص 574)

سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے خلیفہ بننے کے بعد خطبہ دیتے ہوئے یہ فرمایا تھا :اما بعد فقد ابتلیت بکم وابتلیتم بی... یعنی خلافت میرے لئے آزمائش وامتحان ہے... (تاریخ الخلفاء ج 1ص 114)

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے بھی خلیفہ بننے کے بعد دنیا کی بے ثباتی اور اس سے بے رغبتی اختیار کرنے سے متعلق نہایت بلیغ خطبہ ارشادفرمایاتھا...تاریخ طبری وغیرہ کی مستند روایات اس پہ شاہد ہیں...

 الغرض مولاے کائنات کرم اللہ وجہہ الکریم سمیت جملہ خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کے بارے میں کسی مسلمان کے دل میں یہ وہم بھی پیدا نہیں ہونا چاہیے کہ ان کے دلوں میں خلافت حاصل کرنے کی خواہش تھی اور خلافت ان کی محبوب شے تھی.. آیت کریمہ لن تنالوالبرحتی تنفقوا مما تحبون کا حوالہ دے کر یہ باور کرانا کہ تینوں خلفاے راشدین نے خلافت کو محبوب شے سمجھ کر قبول کرلیاتھا لیکن مولا علی نے اپنا یہ حق تینوں خلفا کو دے دیاتھا، تفسیر بالراے کے ساتھ ساتھ صرف خلفاے ثلاثہ ہی پہ نہیں بلکہ سیدنا علی مرتضی رضی اللہ عنہ کی ذات پہ بھی سوالیہ نشان قائم کرنے کا راستہ ہموار کرتاہے اور یہ انداز بیاں تفضیلیت کی طرف لے جانے والا ہے جو رافضیت کی پہلی سیڑھی ہے... مولا تعالی ہمیں صراط مستقیم پر قائم رکھے آمین...

رضاء الحق اشرفی مصباحی

راج محل جھارکھنڈ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے