شیرِ بہار سلسلۂ رضویہ کے نیرِ تاباں
مفتی شمس الزماں خان صابری
کچھ شخصیات ایسی ہوتی ہیں جنہیں دیکھ کر انسان کو کتابوں میں پڑھی ہوئی بزرگانِ دین کی زندگیاں یاد آجاتی ہیں ان کی ہر ادا علم کا درس دیتی ہے ان کی ہر گفتگو اخلاص کی خوشبو بکھیرتی ہے اور ان کا ہر عمل اتباعِ سنت کی عملی تفسیر بن جاتا ہے حضرت شیرِ بہار حضرت مفتی اسلم صاحب قبلہ علیہ الرحمہ بھی انہی نفوسِ قدسیہ میں سے تھے ــــــ
میری سعادت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے حضرت کو قریب سے دیکھنے سننے اور ان کی صحبت سے فیض یاب ہونے کا موقع عطا فرمایا میں نے ان کی زندگی کا جو پہلو دیکھا وہ کمال ہی کمال تھا علم میں یگانۂ روزگار ، عمل میں پیکرِ اخلاص ، تقویٰ میں کوہِ استقامت ، اخلاق میں سراپا شفقت ، تحریر میں محقق ، تقریر میں سحر آفریں اور تدریس میں بے مثال مربی تھے ـــــــ
علم کا آفتاب
ابتدائی تعلیم والدۂ محترمہ کی آغوش اور علاقائی مکتب سے حاصل کی بعد ازاں کچھ عرصہ دیوبند کے ایک ادارے میں بھی تعلیم حاصل کی مگر اللہ تعالیٰ کو کچھ اور ہی منظور تھا چچا محترم اشرفی فیض یافتہ شیرِ گجرات حضرت علامہ اسحاق علیہ الرحمہ کی توجہ اور اہلِ خاندان کے اصرار پر بریلی شریف حاضر ہوئے ـــ
بریلی کی سرزمین پر جب حضور مفتی اعظم ہند علیہ الرحمہ کی نگاہِ ولایت پڑی تو قسمت کا ورق بدل گیا حضرت نے اپنے مرید و شاگرد کو علم و عرفان کے ایسے جواہر عطا فرمائے کہ آگے چل کر یہی شاگرد "شیرِ بہار" کے لقب سے پوری دنیا میں پہچانا گیا ــــ
فراغت کے بعد آپ نے حضور مفتی اعظم ہند کے علمی فیضان کو عام کرنے کا عزم کیا بریلی شریف ، سلطان پور ، چھپرہ اور جامعہ قادریہ مقصودپور جیسی عظیم درسگاہوں میں برسوں تدریسی خدمات انجام دیں ـــ
جامعہ قادریہ مقصودپور میں آپ کی بخاری شریف کی درسگاہ اہلِ علم کے لیے مرکزِ فیض بن گئی فقہ و افتا میں آپ کی بصیرت ایسی تھی کہ بڑے بڑے اہلِ علم آپ کی رائے کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے تھے ــــ
حضرت جلال الدین اشرف اشرفی جیلانی المعروف قادری میاں مدظلہ العالی نے راقم سے فرمایا کہ حضرت شیرِ بہار ہر سال جامعۃ الاشرفیہ کے امتحانات لینے تشریف لاتے تھے اور مجھے کئی مرتبہ ان کے سامنے امتحان دینے کا شرف حاصل ہوا ـــ
تصنیف و تالیف میں بھی آپ نے علمی یادگاریں چھوڑیں فتاویٰ برکاتِ نوری آپ کی فقہی بصیرت کی روشن دلیل ہے جبکہ شرح اصول الشاشی آپ کے تدریسی ذوق اور تحقیقی مہارت کا زندہ ثبوت ہے ـــــ
تدریس کا منفرد انداز
حضرت کا درس محض الفاظ کی تشریح نہ ہوتا تھا بلکہ دلوں کی تربیت کا ذریعہ ہوتا تھا مشکل سے مشکل مسئلہ اس سادگی سے سمجھاتے کہ طالب علم کے ذہن پر ہمیشہ کے لیے نقش ہوجاتا ـــ
وہ صرف کتاب نہیں پڑھاتے تھے بلکہ کتاب کے ساتھ کردار بھی تعمیر کرتے تھے سبق کے ساتھ ادب سکھاتے علم کے ساتھ عمل کی تلقین فرماتے اور فقہ کے ساتھ خوفِ خدا بھی دلوں میں اتارتے تھے جامعہ قادریہ مقصودپور میں آپ تا دم زندگی اونچی جماعت کی بڑی بڑی کتابیں پڑھاتے رہے ــــــ
آج ملک و بیرونِ ملک ہزاروں علماء مفتیان ائمہ اور خطباء ان کے فیضانِ تدریس کے امین ہیں اور یہی ان کے لیے صدقۂ جاریہ ہے ـــــ
عمل کا روشن مینار
مجھے جامعہ قادریہ کے شعبۂ حفظ میں داخلے کی سعادت ملی حضرت نے میرے دادا حضرت علامہ حافظ عبدالحئی خان علیہ الرحمہ سے خصوصی محبت کی بنا پر بغیر کسی فیس کے میرا داخلہ فرمایا یہ ان کے حسنِ اخلاق اور اہلِ علم سے محبت کی ایک حسین مثال تھی ــ
چار سے پانچ سال تک حضرت کی نگرانی میں رہنے کا موقع ملا مگر کبھی نماز میں سستی نہیں دیکھی تہجد ان کی زندگی کا مستقل معمول تھا سردی ہو یا گرمی اکثر صبح سویرے غسل فرما کر اپنے رب کے حضور کھڑے ہوجاتے ـــ سفر میں بھی وقتِ نماز آجاتا تو فوراً فرماتے
گاڑی روک دو پہلے اپنے رب کا حق ادا کرلیں ـ یہ جملہ آج بھی میرے کانوں میں گونجتا ہے ــــ
تقویٰ اور طہارت
حضرت کا تقویٰ بناوٹ سے پاک تھا خلوت اور جلوت دونوں میں یکساں تھے طہارت کا ایسا اہتمام کہ ہر وقت باوضو رہنے کی کوشش فرماتے سنتوں کی معمولی معمولی باتوں کا بھی غیر معمولی اہتمام کرتے ــ نگاہ میں حیا ، زبان میں احتیاط ، دل میں خوفِ خدا اور زندگی میں اتباعِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نمایاں تھی ــ
ذکر و عبادت
نمازِ مغرب کے بعد اکثر پرانی عمارت کی چھت پر ٹہلتے ہوئے تسبیح ہاتھ میں لیے ذکرِ الٰہی میں مشغول رہتے کبھی ہم قدم دباتے رہتے اور حضرت کی زبان مسلسل اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا میں مصروف رہتی ـــ کبھی فرماتے کوئی نعتِ رسول سناؤ جوں ہی کوئی طالب علم نعت پڑھنا شروع کرتا حضرت کی آنکھیں اشکبار ہوجاتیں اور چہرے پر عشقِ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی کیفیت نمایاں ہوجاتی ـــ
صبر اور قناعت
میں نے کبھی حضرت کو دنیا کی آسائشوں کا شکوہ کرتے نہیں دیکھا سادگی ان کی زینت تھی ، قناعت ان کا سرمایہ تھا اور صبر ان کا شعار تھا آزمائشوں کو اللہ کی رضا سمجھ کر قبول کرتے اور ہمیشہ شکر کے کلمات زبان پر رہتے ــــ
خدمتِ خلق
حضرت کی خانقاہ اور گھر دونوں حاجت مندوں کی پناہ گاہ تھے کوئی طالب علم آیا تو اس کی تعلیم کی فکر کی ، کوئی غریب آیا تو اس کی ضرورت پوری کی کوئی پریشان حال آیا تو اس کی دلجوئی کی ــ جیسا بھی پریشان حال آتا اس کی پریشانی کو سمجھ کر اس کو دم ، دعا اور تعویز دیتے اللہ تعالی نے آپ کی تعویز اور دعا میں اتنی شفا رکھی تھی کہ ہر شخص یہی کہتا کہ حضرت کی دعا سے میرا یہ کام ہوگیا میرا وہ کام ہوگیا ، تعویز پہنا تو مرض ٹھیک ہوگیا حضرت یہ کام بس خدمت خلق سمجھ کر کرتے کسی سے ایک روپیہ بھی طلـــب نہیں کرتے ـــ
بسا اوقات اپنی ذاتی ضرورت کو مؤخر کرکے دوسروں کی ضرورت پوری فرماتے یہی وہ وصف تھا جس نے انہیں لوگوں کے دلوں کا محبوب بنادیا ــــ
اخلاق اور شفقت
حضرت کے اخلاق کی سب سے بڑی خوبی یہ تھی کہ ہر شخص یہی سمجھتا تھا کہ حضرت مجھ سے سب سے زیادہ محبت کرتے ہیں ــ چہرے پر ہمیشہ تبسم ، زبان پر نرمی ، گفتگو میں مٹھاس اور مزاج میں انکساری تھی کسی کی دل آزاری گوارا نہ کرتے چھوٹوں پر شفقت اور بڑوں کا احترام ان کی فطرت تھی ـــ مجھے بھی حضرت کی بے شمار شفقتیں نصیب ہوئیں اور یہ میرے لیے زندگی کا عظیم سرمایہ ہیں ـــ
افتا اور دینی بصیرت
حضرت کے فتاویٰ صرف فقہی جزئیات کا مجموعہ نہیں تھے بلکہ قرآن و سنت اور فقہِ حنفی کی گہری بصیرت کا مظہر تھے آپ تحقیق کے بغیر قلم نہیں اٹھاتے تھے اور ہر مسئلہ میں احتیاط کو مقدم رکھتے تھے آپ تادم زندگی جامعہ قادریہ مقصودپور میں فتوی دیتے رہے آپ کو فقہہ حنفی کے جزئیات اس قدر یاد تھے کبھی کبھی ایسا ہوتا کہ سائل استفتا لیکر آتا آپ اسی وقت فتوی لکھ کر دیتے اور سائل مطمئن ہوکر چلا جاتا ـ آپ کے کچھ فتاوے کا مجموعہ فتاوی برکات نوری نام کے نام سے منظر عام پر ہے ــــ
تحریر اور تقریر
قلم اٹھاتے تو دلائل کی روشنی بکھر جاتی اور زبان کھولتے تو سامعین کے دل ایمان کی حرارت سے معمور ہوجاتے آپ کی تحریر میں استدلال تھا اور تقریر میں اخلاص اسی لیے آپ کی ذات دونوں یکساں مؤثر تھیں میں اس بات کا گواہ ہوں کہ کبھی کبھی حضور شیر بہار اعلی حضرت فاضل بریلوی علیہ الرحمہ کے نعتیہ دیوان کے صرف ایک شعر پر گھنٹوں تقریر کرتے ـــ
آج حضرت شیرِ بہار علیہ الرحمہ اگرچہ ہماری نگاہوں سے اوجھل ہیں مگر ان کا علم آج بھی زندہ ہے ان کے شاگرد آج بھی زندہ ہیں ان کی تصانیف آج بھی زندہ ہیں ان کے فتاویٰ آج بھی رہنمائی کررہے ہیں اور ان کی دعائیں آج بھی ان کے متعلقین کی زندگیوں میں اثر دکھا رہی ہیں ــ
اللہ تعالیٰ حضرت شیرِ بہار مفتی اسلم صاحب قبلہ علیہ الرحمہ کی قبرِ انور کو نور سے بھر دے ان کے درجات بلند فرمائے ان کے علمی و روحانی فیوض کو قیامت تک جاری رکھے اور ہمیں بھی اخلاص تقویٰ علم عمل اور خدمتِ دین کے اسی مبارک راستے پر چلنے کی توفیق عطا فرمائےـــــ
0 تبصرے