عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا
اس شعر سے متعلق شرعی حکم کیا ہے؟
سوال:کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان عظام مسئلہ ذیل کے بارے میں کہ آج کل سوشل میڈیا پر ایک شعر مشق بحث بنا ہوا ہے وہ شعر یہ ہے:
عاشقوں کے واسطے کعبہ در مخدوم ہے
صورت اشرف میں ہم کو رب ہمارا مل گیا۔
مفتی صاحب قبلہ مدظلہ العالی والنورانی سے گزارش راہنمائی فرمائیں کہ یہ شعر درست ہے یا نہیں شرعی اعتبار سے نیز یہ بھی واضح کریں کہ در مخدوم کو شعر میں کعبہ کہا گیا یا نہیں اگر ہاں تو کیا ایسا کہنا درست ہے اور یہ بھی واضح کریں کہ مخدوم پاک کو رب کہا گیا یا نہیں شعر میں؟ مدلل و مفصل جواب عنایت فرمائیں نوازش ہوگی۔
سائل ابو الفیض راج محلی۔
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔۔
الجواب بعون اللہ الوھاب۔۔
ہر زبان کے کلام کا اپناخاص اسلوب ومعنی ہے،کسی زبان میں کوئی لفظ کلمہ تعظیم ہے اور وہی کسی دوسری زبان میں کلمہ تنقیص ہے،پھر نثری اسلوب اور ہے،شعری اسلوب اور۔شعر میں ایجاز واختصار ہوتاہے،کبھی دقیق معانی کواستعاراتی اور تشبیہی انداز میں پیش کیاجاتاہے،لطیف اشارات،تمثیلات،ترشیحات،نادر تراکیب شعری محاسن میں سے ہیں جب کہ نادر تراکیب،مشکل اشارات وتمثیلات نثر نگاری کے عیوب میں سے ہیں۔جس مضمون کو کئی صفحات میں بیان کیاجاتاہے اسے ایک شعرمیں سمیٹ دیاجاتاہے۔لہٰذا ہمیشہ کسی شعر کے ظاہری معنی ومفہوم کولے کر ، شاعر کی حیثیت وحالت سےصرف نظر کرتے ہوئے حکم شرع بیان کرناغلط ہوگا۔۔
مثلاً امام اہل سنت اعلی حضرت قدس سرہ کے قصیدہ ٔ معراجیہ کایہ شعر:
حجاب اٹھنے میں لاکھوں پردے ہر ایک پردے میں لاکھوں جلوے
عجب گھڑی تھی کہ وصل وفرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے۔
اول وہلہ میں ذہن اس معنی سو کی طرف جاتاہے کہ شب معراج رسول خدا ﷺ کی جو ملاقات رب تبارک وتعالی سے ہوئی تھی اسے شاعرنےجنم جنم کے بچھڑے ہوئے دو دوستوں کی ملاقات سے تعبیر کی ہے،جوکہ شان الوہیت ورسالت کے منافی عقیدۂ تجسیم کی طرف مشیر ہے۔لیکن اس شعرکے معنی میں دقیق نظر ڈالی جائے تو اس میں ایک لطیف عارفانہ نکتے کی طرف اشارہ ہے،وہ یہ ہے کہ رسول خدا ﷺ صفت رسالت وعبدیت سے متصف ہیں اور آپ کی یہ دونوں صفتیں منتہاے کمال پہ ہیں،آپ جیسا کوئی رسول نہیں اور آپ جیساکوئی ’’عبد‘‘ نہیں۔دونوں صفتوں کے الگ الگ تقاضے بھی ہیں،صفت عبدیت مولا کا قرب ووصل چاہتی ہے اور صفت رسالت بعد وفرقت،اگردربار مولاسے مخلوق کی طرف آنا اور مخلوق کے ساتھ رہنا نہ ہوگا تومقصد رسالت فوت ہوگا،عبدیت چوں کہ قرب ووصل چاہتی ہے اسی لئے جب رب تبارک وتعالیٰ نے اپنے رسول کو معراج کراکر اپنے پاس بلایا تو یوں فرمایا: سبحن الذی اسری بعبدہِ۔اسری برسولہِ نہیں فرمایا،حالاں کہ صفت رسالت بھی وہاں موجود ہے۔جب رسول پاک ﷺ رب تبارک وتعالی کے قرب خاص مقام دنیٰ میں پہنچے توآپ کے ساتھ صفت رسالت بھی تھی اور صفت عبدیت بھی اوردونوں صفتوں کے تقاضے وصل (تقاضاے عبدیت)اورفرقت (تقاضاے رسالت) بھی ساتھ ساتھ تھے،حالاں کہ وصل و فرقت دونوں متضاد چیزیں ہیں،یہ دونوں لفظ جنم جنم کے بچھڑے ہوئے تھے لیکن شب معراج مقام دنیٰ میں دونوں آپس میں گلے مل رہے تھے۔’’عجب گھڑی تھی کہ وصل وفرقت جنم کے بچھڑے گلے ملے تھے‘‘اس ایک مصرعے میں ایک جہان معانی کو سمو دیا گیا ہے جس کی تفصیل ایک مصرعے میں ممکن نہیں۔
مجاز وتشبیہات صرف عام بول چال کاحصہ نہیں بلکہ شرعی احکام میں بھی ان کا اعتبار کیا گیا ہے،اگر شریعت کے دامن کو اس سے خالی کردیا جائے تو کوئی شخص کفر وحرام کے فتوے سے بچ نہیں سکے گا۔کثیر مقامات ایسے ہیں جہاں الفاظ کے حقیقی معانی متروک ہوچکے ہیں حقیقت مجاز،مجاز متعارف حقیقت مہجورہ وغیرہ ابحاث صرف درسگاہوں میں پڑھنے پڑھانے کے لئے نہیں ہیں،جسے ان مصطلحات کو سمجھنے اور کلام الناس وکلام شارع میں منطبق کرنے کاسلیقہ نہیں اسے فقہ وافتا کے ابجد کاعلم نہیں۔لفظ یزداں کاحقیقی معنی پارسیوں کے عقیدے کے مطابق خالق خیر ہے جو اہرمن خالق شر کی ضد ہے یہ معنی شرکیہ ہے،لیکن اہل اسلام اسے اللہ تعالیٰ کے لئے استعمال کرتے ہیں۔انبت الربیع البقل (موسم ربیع نے سبزیاں اگائیں) یہ جملہ کوئی منکر الہٰ بولے تویہ کلمہ شرک ہے لیکن کوئی مسلمان بولے تو اس مجازی معنی مراد متعین ہونے کے سبب کلمہ شرک نہیں۔لفظ صنم کاحقیقی معنی بت ہے لیکن محبوب ومعشوق کے معنی میں مسلم صوفی شعرا کے یہاں رائج ومستعمل ہے، ایسی سینکڑوں مثالیں ہیں۔
لفظ کعبہ وقبلہ کو اردو نظم ونثر میں مجازاً مرکز عقیدت،منبع فیوض وبرکات،مہبط انوار وتجلیات وغیرہ معانی میں استعمال کرنا عام ہے۔
حضور اعلی حضرت قدس سرہ سے کئی بڑے علما نے قبلہ وکعبہ سے خطاب کرکے سوالات کئے ہیں اور اعلی حضرت قدس سرہ نے بھی اس کارد وانکار نہیں فرمایا ہے،چناں چہ فتاوی رضویہ ج۵ ص ۳۱۶ میں ملک العلماء علامہ سید ظفر الدین بہاری علیہ الرحمہ کا اعلی حضرت علیہ الرحمہ سے ایک سوال یوں شروع ہواہے:بحضور اعلی حضرت عظیم البرکت،قبلہ وکعبہ دام ظلہ الاقدس،السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔۔اعلی حضرت قدس سرہ نے جواب یوں شروع فرمایاہے:ولدی الاعز جعلہ اللہ کاسمہ ظفر الدین المتین آمین، السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔
سوال میں مذکور شعر کے پہلے مصرعے میں کوئی شرعی قباحت نہیں یہ عام علما کے لئے بھی ظاہر ہے،رہی بات دوسرے مصرعے کی تو ہوسکتا ہے اس میں کوئی کم پڑھا لکھا انسان شک میں پڑجائے لیکن اہل علم کے نزدیک یہ مصرع بھی بے غبار ہے،بلکہ حدیث رسول ﷺ کی ترجمانی ہے۔حدیث نبوی سے ثابت ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ولیوں کے دیدار سے اللہ تعالیٰ یاد آجاتا ہے اور ولیوں کی صحبت کو لازم پکڑنے سے رب تبارک وتعالی کاقرب حاصل ہوتاہے،لہٰذا ولی اللہ سے عقیدت رکھنے والا کوئی شخص اگر یہ کہے کہ میں قرب باری تعالی سے محروم تھا،رب تعالی کے ذکر سے غافل تھا، میں نے فلاں ولی اللہ کی صورت دیکھی، ان کا دیدار نصیب ہوا تومجھے میرا رب مل گیا یعنی رب کی رحمت مل گئی ،غفلت دور ہوگئی ،اور رب یاد آگیا تو اس میں کوئی شرعی قباحت نہیں،اور اسی معنی کے لحاظ سے کوئی اہل اللہ یہ کہے ’’ صورت اشرف میں ہم کورب ہمارامل گیا‘‘توحرام یاشرک کیوں کر ہوگا؟
شاعر کا مسلمان سنی صحیح العقیدہ ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ یہاں عقیدہ ٔ تجسیم مراد نہیں،جیساکہ انبت الربیع البقل (موسم بہار نے سبزے اگائے)بولنے والے مسلمان کا مسلمان ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ موسم ربیع کو سبزہ اگانے کا مؤثر حقیقی نہیں مانتا بلکہ اسےسبب ظاہرمانتا ہے۔تو جس طرح یہاں موسم بہار کوسبزے اگانے کا مؤثر حقیقی ماننے کے احتمال کو احتمال ناشی عن غیر دلیل ہونے کی وجہ سے نامعتبر قرار دیاگیاہے اسی طرح شاعر کاصحیح العقیدہ مسلمان ہونا ہی اس بات کی دلیل ہے کہ اس کی مراد یہ نہیں ہے کہ معاذاللہ مخدوم اشرف سمنانی علیہ الرحمہ کی صورت میں اللہ کی ذات حلول کی ہوئی ہے ،یہاں بھی معنی تجسیم کااحتمال ناشی عن غیر دلیل ہے جونامعتبر ہے۔
جس حدیث پاک کے تناظر میں شعر مذکور کودیکھناچاہئےوہ سنن ابن ماجہ میں مع سند کے یوں ہے:
حَدَّثَنَا سُوَيْدُ بْنُ سَعِيدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ ابْنِ خُثَيْمٍ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ يَزِيدَ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: أَلَا أُنَبِّئُكُمْ بِخِيَارِكُمْ، قَالُوا: بَلَى، يَا رَسُولَ اللَّهِ قَالَ: خِيَارُكُمُ الَّذِينَ إِذَا رُءُوا، ذُكِرَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ۔
ترجمہ:حضرت اسماء بنت یزید رضی اللہ عنہاسے مروی ہے،انھوں نے رسول اللہ ﷺ کوفرماتے ہوئے سنا:کیامیں تمہیں نہ بتاؤں تم میں نیک اوراچھے لوگ کون ہیں؟صحابہ نے عرض کیا،ہاں یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم !فرمایا:نیک اوراچھے لوگ وہ ہیں جن کے دیدار سے اللہ عزوجل یاد آئے۔
حدیث مذکور سنداً حسن ہے،اورمتعدد کتب احادیث میں منقول ہے۔حلیۃ الاولیاء میں ان خیار الناس کی یہ صفات بھی مذکور ہیں:
وَإِذَا تَكَلَّمُوا كَانَ كَلَامُهُمْ لِعِزِّ الْإِسْلَامِ وَنَجَاةِ النُّفُوسِ وَصَلَاحِهَا لَا لِعِزِّ النُّفُوسِ وَطَلَبِ الدُّنْيَا وَقَبُولِ الْخَلْقِ وَكَانُوا لِعِلْمِهِمْ مُسْتَعْمِلِينَ وَلِرَأْيِهِمْ مُتَّهِمِينَ وَلِسَبِيلِ أَسْلَافِهِمْ مُتَّبِعِينَ وَبِكِتَابِ اللَّهِ وَسُنَّةِ نَبِيِّهِ مُتَمَسِّكِينَ، الْخُشُوعُ لِبَاسُهُمْ وَالْوَرَعُ زِينَتُهُمْ وَالْخَشْيَةُ حِلْيَتُهُمْ، كَلَامُهُمُ الذِّكْرُ وَصَمْتُهُمُ الْفِكْرُ، نَصِيحَتُهُمْ لِلنَّاسِ مَبْذُولَةٌ وَشُرُورُهُمْ عَنْهُمْ مَخْزُونَةٌ وَعُيُوبُ النَّاسِ عِنْدَهُمْ مَدْفُونَةٌ، وَرَّثُوا جُلَّاسَهُمُ الزُّهْدَ فِي الدُّنْيَا لِإِعْرَاضِهِمْ وَإِدْبَارِهِمْ عَنْهَا، وَرَغَّبُوهُمْ فِي الْآخِرَةِ لِإِقْبَالِهِمْ وَحِرْصِهِمْ عَلَيْهَا۔
یعنی اللہ کے ان نیک بندوں کی شان یہ ہے کہ جب بولتے ہیں تو اس سے اسلام کی عزت بڑھتی ہے،نفس کی اصلاح ہوتی ہے،نفسانی خواہشوں ،طلب دنیا اور مخلوق کی چاہت سے نجات ملتی ہے۔وہ اپنے علم پہ عمل کرتے ہیں،اپنی راے کونہیں بلکہ اسلاف کو پیروی کے لائق سمجھتے ہیں،قرآن وسنت کومضبوطی سے تھامے ہوئے ہوتے ہیں،خشوع ان کالباس،ورع ان کی زینت،خشیت الہیٰ ان کازیور ہے،ان کی بات ذکر اللہ،ان کی خاموشی فکر عقبی،وہ لوگوں کے ساتھ خیر خواہی کرتے ہیں،ان کے ساتھ برائی نہیں کرتے،لوگوں کے عیوب چھپاتے ہیں،ان کی مجلس میں بیٹھنے والے دنیاسے بے رغبت ہوکر دنیاسے منہ پھیر لیتے ہیں اور آخرت کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔
سیدنا اعلیٰ حضرت قدس سرہ سے ایک سوال ہواکہ’’کوئی درویش کہتاہے کہ پیر کی شکل میں متشکل ہوکر خداوند تعالیٰ مرید سے ملاقات کرتاہے اور دلیل کتاب انتباہ شاہ ولی اللہ صاحب کی لاتاہے،مضمون کتاب ہذا یہ ہے: حضرت سلطان الموحدین وبرہان العاشقین حجۃ المتکلمین شیخ جلال الحق مخدوم مولانا قاضی خاں صاحب یوسف ناصحی قدس سرہ العزیز چنین می فرمودن کہ صورت مرشد کہ ظاہرًا دیدہ می شود مشاہدہ حق سبحانہ وتعالٰی است بے پردہ آب وگل، کہ ان ﷲ خلق اٰدم علٰی صورۃ الرحمٰن ومن راٰنی فقدرأی الحق ؎گرتجلی ذات خواہی صورت انساں ببیں۔۔ذات حق راآشکارا اندروخنداں۔اکثرعلماء دریں عبارت مذبورا مخالف ہستند،بادلیل معتبرہ عندالشرع شریفہ ہرچہ حق باشد۔بیّنواتوجروا۔
یعنی حضرت شخ جلال الحق قدس سرہ نے فرمایاہے کہ مرشد کی صورت جوظاہر میں نظر آتی ہے اس میں حق سبحانہ وتعالیٰ کامشاہدہ ہوتاہے،اور وہ مشاہدہ بے آب وگل کے ہے،جیساکہ اللہ تعالی کافرمان ہے اللہ تعالی نے حضرت آدم علیہ السلام کو رحمٰن کی صورت(صفت)پر پیدا کیا،اور جس نے مجھے دیکھا اس نے حق کودیکھا۔اگر ذات باری تعالی کی تجلی دیکھناچاہتاہے تو انسان کی صورت کودیکھ،اس ہنستے ہوئے انسان میں تو ذات حق کامشاہدہ کروگے۔
اعلیٰ حضرت قدس سرہ نے سوال مذکور پر یہ جواب تحریر فرمایا:
قول مذکور گستاخی اوردریددہنی ہے،اورعبارت انتباہ سے اس پر استدلال غلط فہمی۔
اعلی حضرت علیہ الرحمہ نے یہ جواب نہیں دیا کہ شاہ ولی اللہ علیہ الرحمہ کا قول اورشعر غلط ہے،یہ شرکیہ وکفریہ قول اور شعر ہے،بلکہ قائل کی توضیح کوغلط قرار دیااور فرمایاکہ حضرت شاہ ولی اللہ کے قول کی توضیح میں قائل نے جوکہاوہ گستاخی ودریدہ دہنی ہے،پھر شاہ صاحب کے قول وشعر کی صحیح توضیح کرتے ہوئے یہ تحریر فرمایا:
عبارت (صورت مرشد کہ ظاہرا دیدہ می شود مشاہدۂ حق سبحانہ وتعالیٰ است بے پردۂ آب وگل)یعنی مرشد کی صورت جوظاہر میں دکھائی دیتی ہےاس میں حق سبحانہ تعالیٰ کامشاہدہ ہے بغیر آب وگل کے پردے کے،یعنی بغیر جسم ومادہ کے،اس کامطلب یہ ہے:مظہراول واعظم واجل واتم واکمل کہ مظہر ذات ہے، ذات اقدس حضور انور سیدالکائنات علیہ افضل الصلوات واکمل التحیات ہے، باقی تمام عالم حسب استعداد اس پرتو اصلی کا پرتو درپرتو بواسطہ ووسائط ہے۔شیخ جس میں حضور پرنورسیدالمرسلین صلی ﷲ تعالٰی علیہ وسلم کانوربصفت ہدایت وارشاد وتربیت متجلی ہے اور عالم ملکوت عالم ملك سے ازکٰی واصفیٰ واجلی وابہٰی واحلٰی ہے،تو اس سے مشاہدہ ایك زیادہ صاف ومجلی آئینہ سے مشاہدہ ہے ورنہ متجلی شکل وتشکل سے منزہ ومتعالٰی ہے۔
(فتاوی رضویہ ج ۲۶ ص ۵۶۱)۔
اعلی حضرت قدس سرہ نے شاہ صاحب علیہ الرحمہ کی عبارت کی صرف تائید وتوضیح نہیں کی بلکہ اس کی تقویت کے لئے جواب کے شروع میں علامہ عبدالغنی نابلسی قدس سرہ کی الحدیقۃ الندیہ کی یہ عبارت بھی نقل کی:
مارایت شیئا الا رأیت اللہ فیہ۔(میں نے کوئی چیز نہیں دیکھی مگر اس میں اللہ کادیدار کیا)اعلیٰ حضرت علیہ الرحمہ نے شاہ ولی اللہ محدث دہلوی کی عبارت کی جو توضیح پیش کی ہے اس کو آسان انداز میں یوں سمجھایاجاسکتاہے کہ شیخ کامل کے اندر واسطہ درواسطہ نور مصطفی ﷺ ہادی ومربی ہوکر جلوہ گر ہے اوررسول خدا ﷺ کی ذات ذات خدا کا مظہر اول واکمل ہے توجب مرید صادق پیر کامل کادیدار کرتاہے تو اس کی ذات میں واسطہ بواسطہ رسول پاک ﷺ کے واسطے سے وہ جلوہ حق تعالیٰ کامشاہدہ کرتاہے،یہاں ذات حق کی جلوہ گری ہوتی ہے،لیکن بے شکل وصورت کے۔
اس عارفانہ نکتے کوعارف باللہ جانشین مخدوم سمناں سیدی ومرشدی مخدوم المشائخ مولانا مفتی سید شاہ محمد مختار اشرف قدس سرہ متوفی۱۹۹۶ء نے ایک مختصر سے جملے میں واضح فرمایاتھاکہ ’’پیر کامل آئینۂ رسول نما ہیں،اور رسول آئینۂ خدا نما ہیں‘‘۔ان تفصیلات کوسامنے رکھتے ہوئے اگر آپ شعر مذکور کودیکھیں گے توذوق عرفان کے حامل کسی شاعر کا’’ صورت اشرف میں ہم کورب ہمارامل گیا‘‘ کہنا شریعت وطریقت کے لحاظ سے غلط نہیں ہے۔ہاں یہ ضرور ہے کہ اس قسم کے اشعار چاہے کسی کے ہوں عام لوگوں کے سامنے پڑھنے سے بچنا چاہئے کیوں کہ تصوف کی باریکیاں سمجھنے سے وہ قاصر ہیں تو ہو سکتاہےغلط فہمی میں مبتلا ہوکر اہل اللہ پہ معترض ہوں اور اپنی عاقبت خراب کرلیں،جیساکہ ایمان وعرفان سے عاری صوفیہ کے کلام پہ معترض ہوتے ہیں اور ان کی شان میں گستاخیاں کرتے ہیں۔ شعر مذکور میں حضور مخدوم سمنانی قدس سرہ کو’معاذ اللہ‘ رب نہیں کہا گیاہے۔
واللہ اعلم
کتبہ:(مفتی)رضاء الحق مصباحی اشرفی راج محلی(صدر مفتی و قاضی شرع)مرکزی دارالافتاء والقضاء راج محل وسابق شیخ الحدیث وصدرمفتی جامع اشرف کچھوچھہ شریف و موجودہ صدر المدرسين و صدر افتا دارالعلوم گلشن کلیمی راج محل۔
شائع کردہ:- *مرکزی دارالافتاء و القضاء راج محل*"زیرِ اہتمام:تنظیم علمائے اہل سنت راج محل،صاحب گنج،جھارکھنڈ۔
*ضروری نوٹ*!کوئی بھی تحریر میں حذف و اضافہ نہ کرے، تحریر کو من و عن شیرینگ کرسکتا ہے۔۔ہاں جواب میں کچھ کمی نظر آئے توضرور مطلع کریں اور مزید شرعی سوالات کے تحقیقی جوابات کے لئے سوال سائل کے نام پتہ کے ساتھ لکھ کر واٹس ایپ کریں!
9572683333
776699399
0 تبصرے