مدرسہ اشرفیہ مبارکپور (اعظم گڑھ) کی عالیہ سطح کی منظوری معطل

 **مدرسہ اشرفیہ مبارکپور (اعظم گڑھ) کی عالیہ سطح کی منظوری معطل

سرکاری حکم کے بعد تعلیمی و انتظامی حلقوں میں تشویش اور بحث**

اعظم گڑھ (اتر پردیش):

اتر پردیش مدرسہ تعلیمی کونسل نے ایک اہم انتظامی فیصلے کے تحت دارالعلوم اہلِ سنت، مدرسہ اشرفیہ مبارکپور (اعظم گڑھ) کی عالیہ سطح کی مستقل منظوری کو معطل کر دیا ہے۔ اس سلسلے میں کونسل کی رجسٹرار محترمہ انجنا سیروہی نے حکم نامہ نمبر 2462 مؤرخہ 09 جنوری 2026 جاری کیا ہے۔

مدرسہ اشرفیہ مبارکپور کو ریاست کے قدیم اور معروف دینی تعلیمی اداروں میں شمار کیا جاتا ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق اس ادارے کو 28 ستمبر 1948ء کو مستقل منظوری حاصل ہوئی تھی اور یہ طویل عرصے تک عربی و اسلامی تعلیم کا ایک اہم مرکز رہا ہے۔

رجسٹرار کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے میں بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ دستیاب سرکاری دستاویزات، محکمانہ جانچ، درج شدہ ایف آئی آرز اور اے ٹی ایس (انسدادِ دہشت گردی اسکواڈ) کی جانب سے فراہم کردہ رپورٹ کے مطالعے کے بعد کیا گیا۔ حکم میں کہا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران مدرسے کے انتظامی اور مالی معاملات میں بعض ایسی بے ضابطگیوں کی نشاندہی ہوئی ہے جو کونسل کے ضوابط کے مطابق قابلِ اعتراض قرار دی گئی ہیں۔

سرکاری حکم کے مطابق ان مبینہ بے ضابطگیوں کا تعلق مالی امور، سروس قواعد اور منظوری کی شرائط سے ہے۔ کونسل کا کہنا ہے کہ یہ معاملات

اتر پردیش غیر سرکاری عربی و فارسی مدارس منظوری، انتظام و خدمات ضابطہ 2016ء

کے تحت جانچے گئے، جن کی بعض دفعات کی خلاف ورزی کا ابتدائی طور پر اندیشہ ظاہر کیا گیا ہے۔

تحقیقات کے دوران مدرسے سے وابستہ ایک سابق سینئر فرد شمس الہدیٰ خان کے معاملات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ سرکاری موقف کے مطابق ان سے متعلق طویل غیر حاضری، طبی رخصت، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ اور اس کے بعد تنخواہ، پنشن اور دیگر واجبات کی ادائیگی کے طریقۂ کار کی جانچ کی گئی ہے۔ ان تمام امور کو فی الحال تحقیق کے دائرے میں بتایا گیا ہے اور ان پر حتمی فیصلہ تفتیش کے بعد ہی متوقع ہے۔

اسی معاملے میں مدرسے کے منیجر سرفراز احمد، پرنسپل محمد احمد مصباحی اور ایک دیگر فرد نظام الدین کے نام بھی شامل کیے گئے ہیں۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق ان کے خلاف تھانہ مبارکپور، ضلع اعظم گڑھ میں درج ایف آئی آر نمبر 0240/2025 (مورخہ 09 جون 2025) کے تحت تفتیش جاری ہے۔ حکام کے مطابق اس مرحلے پر معاملہ زیرِ تفتیش ہے اور قانونی عمل ابھی جاری ہے۔

مدرسہ انتظامیہ کی جانب سے اس سے قبل جاری کردہ نوٹس کے جواب میں ایک وضاحت پیش کی گئی تھی، تاہم رجسٹرار کے حکم نامے میں اس وضاحت کو ضابطہ جاتی تقاضوں کے مطابق غیر تسلی بخش قرار دیا گیا ہے۔ اسی بنیاد پر کونسل نے مدرسے کی عالیہ سطح کی منظوری معطل کرنے کا عبوری فیصلہ کیا ہے۔

حکم نامے میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ منظوری کی معطلی ایک انتظامی اور عارضی اقدام ہے، اور آئندہ کارروائی تفتیشی نتائج، قانونی جانچ اور متعلقہ فریقین کو دیے جانے والے مواقع کی روشنی میں طے کی جائے گی۔

اس فیصلے کے بعد دینی، تعلیمی اور سماجی حلقوں میں مختلف آرا سامنے آ رہی ہیں۔ بعض ماہرین اسے ضابطہ جاتی نگرانی کا حصہ قرار دے رہے ہیں، جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ ایک تاریخی ادارے سے متعلق کسی بھی کارروائی میں شفافیت، قانونی توازن اور غیر جانبداری کو مکمل طور پر یقینی بنایا جانا چاہیے۔

فی الحال مدرسہ تعلیم کونسل اور تفتیشی ایجنسیاں معاملے کی تمام جہتوں کا جائزہ لے رہی ہیں۔ آئندہ دنوں میں تفتیش کی پیش رفت اور قانونی کارروائی کی سمت اس معاملے کے حتمی نتائج کا تعین کرے گی۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے