اہل سنت کے اسٹیجوں سے تفضیلیت کا پرچار وقت کا بڑا المیہ

 #اہل سنت کے اسٹیجوں سے تفضیلیت کا پرچار وقت کا بڑا المیہ #



پچھلے کئی سالوں سے یہ دیکھا جارہاہے کہ کچھ شعرا اورخطبا اہل سنت کے اسٹیجوں پہ ایسے اشعار پڑھتے اور بیانات
 پیش کرتے ہیں جو اہل سنت کے مسلمہ اجماعی عقیدے سے متصادم ہوتے ہیں، خصوصاً تفضیل شیخین کریمین کے عقیدے پہ ضرب لگانے اور سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت مطلقہ کو مشکوک بناکر پیش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے.. آج سے ایک دہائی پہلے جب سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر فتنہ تفضیلیت نے سر ابھارنے کی کوشش کی تھی توخانقاہ اشرفیہ حسنیہ سرکارکلاں کچھوچھہ شریف کے موجودہ سجادہ نشین قائد ملت مولانا سید شاہ محمود اشرف اشرفی جیلانی دام ظلہ العالی نے علماء جامع اشرف اور ذمہ دار علماء سلسلہ اشرفیہ سے باہمی مشاورت کے بعد ایک اعلامیہ جاری فرمایاتھا جس کے اندرکھلے لفظوں میں اہل سنت وجماعت اور خانقاہ اشرفیہ سرکارکلاں کے موقف کو بیان کردیاگیا ہے کہ افضلیت صدیق اکبر کے عقیدے کا منکر سنی نہیں اور ایسا شخص اشرفی بھی نہیں اگرچہ اپنے نام کے ساتھ اشرفی لاحقہ لگاتا ہو.. مذکورہ اعلامیہ پر خانوادہ اشرفیہ کے کثیر ذمہ دار اکابر واصاغر علماو مشائخ کے دستخط موجود ہیں، خصوصاً خانوادہ اشرفیہ غوثیہ کی سب سے عظیم علمی شخصیت شیخ الاسلام علامہ سید محمد مدنی اشرفی جیلانی دام ظلہ النورانی کے دستخط ثبت ہیں... مولاے کائنات محبوب محبوب رب العالمين اسد اللہ الغالب سیدنا علی المرتضی رضی اللہ عنہ کوجماعت صحابہ کرام میں بے شمار خصوصی فضائل حاصل ہیں اس کے باوجود اہل سنت کا یہ اجماعی عقیدہ ہمیشہ سے رہاہے کہ افضل البشر بعد الانبیاء سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ ہیں، اس کامنکر تفضیلی شیعہ اہل سنت سے خارج ہے، خود سیدنا مولا علی رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسے شخص کو کذاب ومفتری فرمایا ہے اور اسے اسی کوڑے لگانے کی وعید بھی سنائی ہے... ہمارے اسلاف نے افضیلت صدیق اکبر کے منکر کو یا مولا علی مرتضیٰ کی افضیلت کاعقیدہ رکھنے والے کو کبھی بھی اہل سنت وجماعت میں شمار نہیں کیاہے.. لیکن چند سالوں سے اہل سنت کے اسٹیجوں سے تفضیلیت کا پرچار ہونے لگاہے اوراس کابہت افسوس ناک پہلو یہ ہے کہ بعض ذمہ دار علماو مشائخ کے اسٹیجوں سے اس فتنے کو پروان چڑھانے کی شعوری یا لاشعوری کوشش ہورہی ہے..
کچھ دنوں پہلے ایک ویڈیو نظر آیاتھا، حضرت مولانا سلمان ازہری صاحب اسٹیج پہ تشریف فرما ہیں، معروف اسٹیجی شاعر شکیل عارفی نے ایک شعر پڑھا جس میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی افضلیت مطلقہ کا صاف انکار تھالیکن اہل اسٹیج واہ واہ کررہے تھے، وہ تواچھا ہوا کہ مولانا ازہری صاحب نے اپنے خطاب سے پہلے عقیدہ اہل سنت کو بیان کرکے عوام کاذہن صاف کیا ورنہ کتنے ہی ایسے جلسے ہوتے ہوں گے جہاں اس طرح کے اشعار پڑھے جاتے ہیں اور عوام تو عوام ہیں اہل اسٹیج خاموش تماشائی بنے ہوئے ہوتے ہیں بلکہ اچھل اچھل کر داد تحسین سے نوازتے ہیں اور  رد وانکار کرنے والا کوئی نہیں ہوتا .. آج پھر ایک ویڈیو سامنے آیاہے، اسٹیج پہ کئی علما کے ساتھ شہزادہ مفکر ملت حضرت العلام سید شاہ راشد مکی میاں صاحب بھی رونق اسٹیج بنے ہوئے ہیں، اوروہی شکیل عارفی یہ شعر پڑھتا ہے :
خدا اور نبی کے سوا عظمتوں میں... علی اس جگہ ہے جہاں انتہا ہے
جب اہل سنت کا عقیدہ یہ ہے کہ نبی کے بعد سب سے افضل سیدنا صدیق اکبر ہیں تو اس کے خلاف یہ عقیدہ دینا کہ نبی کے بعد مولا علی عظمت میں سب سے زیادہ ہیں کیا یہ عقیدہ اہل سنت کے خلاف نہیں ہے؟ یقیناً ہے! تو پھر اس پہ اہل اسٹیج کا واہ واہ کرنا، سبحان اللہ الحمد للہ کہناکیا ہے؟ کیا یہ سنی عوام کو گمراہ کن عقیدہ دینا نہیں ہے؟ مجھے سخت حیرت ہوئی کہ شکیل عارفی کے اس گمراہ کن شعر پہ مکی میاں جیسے ذی علم، ذی فہم شیخ بھی داد دیتے ہوئے نظر آئے...
حال ہی میں حضور محدث اعظم ہند کا عرس مبارک منعقد ہواہے، اس کا ایک ویڈیو آج بھی سوشل میڈیا پر گشت کررہاہے، اسٹیج پہ حضرت غازی ملت ہاشمی میاں صاحب، حضرت نورانی میاں صاحب اور بھی خانوادہ اشرفیہ کے کئ اکابر واصاغر سادات تشریف فرما ہیں، جلسے کو خطاب کرتے ہوئے جناب سید سیف الدین اصدق خانقاہ چشتی چمن بہارشریف فرماتے ہیں :ہمارا دل بہت بڑا ہے ہم افضلیت صدیق اکبرکا عقیدہ بھی رکھتے ہیں اور اس کے برعکس کوئی مولا علی کو افضل مانے تو اسے رافضی نہیں کہتے، وہ بھی سنی ہے.. اب یہ معمہ تو موصوف ہی سمجھتے ہوں گے کہ اہل سنت کے عقیدے کا "برعکس عقیدہ" بھی عقیدہ اہل سنت کیسے ہے؟ اور عقیدہ اہل سنت کے خلاف عقیدہ رکھنا اہل سنت کے مطابق کشادہ قلبی کیوں کر ہے؟
 یہاں تشویشناک بات یہ ہے کہ اس گمراہ کن بیان کو سن کر کسی شیخ محترم کے چہرے پہ ناپسندیدگی کے آثار بھی نظر نہیں آے،بلکہ یہ حضرات اسے سنتے رہے اور آہ واہ کرتے رہے، اس ویڈیو کے وائرل ہوتے ہی علمائے اہل سنت اوردینی سوجھ بوجھ رکھنے والے عوام میں ایک اضطرابی کیفیت پیدا ہوگئی اور ہر طرف سے سوالات اٹھنے لگےلیکن ہنوز اس کا کوئی تردیدی بیان کسی ذمہ دار کی طرف سے عام نہیں ہوا..
ایسے وقت میں جب کہ مسلمان بالخصوص ہندوستانی مسلمان جس قسم کے دینی ملی اعتقادی بحران کا شکار ہے، جوکسی صاحب نظر فرد سے مخفی نہیں ہے،اہل سنت کے ذمہ دار مانے جانے والے اسٹیجوں سے اس طرح کے اعتقادی تذبذب ،فکری انحراف میں مبتلا کرنے والے بیانات یقیناً عوام اہل سنت کو گمراہی کے غار میں ڈھکیلنے کی  شعوری وغیر شعوری کوشش ہےجسے ناکام کرنا ہر سنی صحیح العقیدہ عالم دین کی اہم ذمہ داری ہے.. کیوں کہ :
چوں کفر ازکعبہ برخیزد کجاماند مسلمانی..
وما توفیقی الا باللہ وان أردت الاالإصلاح والدین النصح کلہ

فقیر اشرفی :رضاء الحق مصباحی.. دارالعلوم گلشن کلیمی پھول بڑیا راج محل جھارکھنڈ ،ومرکزی دارالافتاء والقضاء راج محل

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے