دس درہم سے کم میں نکاح ہوگا یا نہیں؟

 سوال: 

کیا فرماتے ہیں علمائے دین مسئلہ ذیل میں کہ کسی کے نکاح میں جہالت کے سبب مہر ۱۰ درھم سے کم رکھا گیا یعنی ہزار روپیے سے کم مہر رکھا اور بعد معلوم مہر مثل دیا جاتا مگر مہر مثل غور کیا تو وہ بھی ۱۰ درھم سے کم نکلا تو اس صورت میں مہر ۱۰ درھم کے حساب سے دینا ہوگا یا مہر مثل دینا ہوگا (جو کہ مہر مثل بھی کم ہے )

سائل: محمد شبیر لکھنؤ 

الجواب ۔ صورت مسئولہ میں شوہر پر دس درہم کی جو بھی قیمت ہے بطور مہر وہی دینا واجب ہے کہ مہر اگر دس درہم سے کم ہے تو بحکم شرع شریف دس درہم ہی دینا لازم و ضروری ہے، اور یہ جو سوال میں درج ہے کہ بعد معلوم مہر مثل دیا جاتا ہے غلط ہے مہر مثل اس وقت واجب ہوتا ہے کہ بوقت نکاح کچھ مہر مقرر نہ ہوا ہو۔


تنویر الابصار مع الدر المختار میں اس سے متعلق مذکور ہے:”( وتجب) العشرة (إن سماها أو دونها )“یعنی : مہر اگر دس درہم مقرر کیا یا اس سے کم مہر مقرر کیا، تو ان دونوں ہی صورتوں میں دس درہم مہر واجب ہوگا۔(الدر المختار مع رد المحتار، کتاب النکاح، ج 04، ص 222، مطبوعہ کوئٹہ)


(أو دونها )کے تحت علامہ سیداحمدطحطاوی(متوفی:1231ھ) "حاشیۃ الطحطاوی علی الدر" میں فرماتے ہیں: ” إنما لم يجب مهر المثل في تسمية ما دون العشرة؛ لأن المهر فيه حقان، حقها وهو ما زاد على العشرة إلى مهر مثلها، وحق الشرع وهو العشرة، فإذا أسقطت حقها برضاها بما دون العشرة بقي حق الشرع، فوجب تكميلها قضاء لحقه، انتهى «نهر» مختصر“ ترجمہ: ”دس درہم سے کم مہر مقرر کرنے کی صورت میں مہرِ مثل واجب نہیں ہوگا، کیونکہ مہر میں دو حقوق ہیں: ایک عورت کا حق ہے اور وہ مہر کا دس درہم سے زائد مہر مثل تک ہونا ہے، جبکہ دوسرا شریعت  کا حق ہے، جو کہ کم از کم دس درہم ہے۔ اب اگر عورت اپنی رضا مندی سے دس درہم سے کم مہر کو قبول کر لے، تب بھی شریعت کا حق باقی ہے، لہذا اُس کم از کم مہر کی تکمیل ضروری ہے ، تاکہ شریعت کا حق پورا ہو سکے،الخ۔  یہی بات "نہر"میں منقول ہے۔(حاشیۃ الطحطاوی علی الدر المختار، کتاب النکاح، باب المھر، ج 04، ص 167، دار الكتب العلميہ، بیروت)


واللہ اعلم بالصواب

کتبہ: نظام الدین رضوی امجدی

خادم جامعہ امام اعظم ابو حنیفہ لکھنؤ

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے