بے نیازی کا سراپا مجسمہ

 بے نیازی کا سراپا مجسمہ 

اِس چمچماتی، اور چمک دھمک سے بھری نازو نخرے سے انگڑائی لیتی آج کی دنیا میں واقعی اگر آپ کسی مرد قلندر کو دیکھنا چاہتے ہیں تو استاذ گرامی خیرالاذکیاء صدر العلماء حضرت علامہ محمد احمد مصباحی صاحب قبلہ کی ذات گرامی کو دیکھ سکتے ہیں جن کے اندر حقیقت میں نہ تو دنیا کی لالچ ، نہ دنیاوی جاہ و حشم کی ہوس ، نہ آگے پیچھے خدام کی بھیڑ ، نہ زرق برق پرشکوہ لباس کی طمع ،اور نہ ہی مرغ مسلم اور انواع و اقسام کے کھانے کی ڈشوں کی حرص ، نہ لیگزری گاڑیوں کی خواہش ، بلکہ حقیقت تو یہ ہے کہ آپ کی ذات گرامی مکمل طریقے سے دنیا سے بے نیازی کا ایک نرالا مجسمہ ہے ۔

 جب کہ آپ کے علمی قد کی بات کی جائے تو ہندوستان میں بلا خلاف علماءِ کبار کا آپ مرجع ہیں ، ایک لمبے وقت تک ہندوستان میں اہلسنت کے سب سے بڑے ادارے جامعۃ اشرفیہ کے منصب صدارت کی آپ زینت بنے رہے ، اور آج بھی ناظم تعلیمات کا منصب بخوبی نبھا رہے ہیں ۔

متعدد کتابوں کے مصنف ، مجلس برکات سے چھپنے والی کتابوں پر حاشیہ لگانا لگوانا ، اس کی اصلاح کرنا ، بالاستیعاب سب کو پڑھ صحیح سمت متعین کرنا ۔

آپ کے ذوقِ مطالعہ کی بات کی جائے تو آج پیر سالی کی اس عمر میں بھی ہندوستان میں آپ کی مثال عنقاء ہے ۔

 آپ کے تقوی و طہارت کی بات کی جائے تو اشرفیہ کی خاک چھاننے والے علماء اْس کے وجود سے لے کر آج تک ہزاروں طلباء اْن کے تقوی و طہارت پر شاہد عدل ہیں۔

 اتنی خوبیوں کا مالک اگر واقعی چاہ دیتا تو ایک اشارے پر دنیا کی ساری سہولیات آپ کے قدموں کا بوسہ دیتیں ، کوئی دوسرا نہیں تو آپ کے شاگرد ہی آپ کا محل کھڑا کر دیتے ۔

 لیکن قربان جائیے آپ کی بے نیازی پر ، ایک سادی سی سفید ٹوپی ، سادہ سا سفید کرتا پاجامہ، ایک چھوٹا سا کالا بیگ ، اور نہایت ہی ایک سستی چپل، اور پھر کسی بھی محفل کے لئے رخت سفر باندھ لینا ۔ ( کبھی کبھار آپ کی ذات گرامی ایک کالی شیروانی میں نظر آجاتی ہے )

اللہ تعالیٰ استاذ گرامی حضور مصباحی صاحب قبلہ مد ظلہ العالی کو عمر خضر عطا فرمائے ، ہم سب پر آپ کا سایہ دراز فرمائے ، اور آپ کے امثال پیدا فرمائے ۔

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے