مذہبی_جلسوں_کا_گرتا_معیار: ایک لمحۂ فکریہ
امریکی مبلغ، خطیب اور شاعر اڈوین ہبل چیپن (١٨١٤-١٨٨٠) Edvin Hubbell Chapin نے اپنی کتاب 'Living Words' (١٨٦٠ء) میں ایک جگہ لکھا ہے،
"Out of suffering have emerged the strongest souls; the most massive characters are seamed with scars."
یعنی: مضبوط ترین روحیں مشکلات سے نمودار ہوتی ہیں۔ عظیم شخصیات کے وجود پر زخموں کے نشانات ہوتے ہیں۔ یہاں جملۂ معترضہ کے طور پر عرض ہے کہ غلطی سے عام طور پر اس قول کی نسبت معروف لبنانی-امریکی ادیب اور مفکر جبران خلیل جبران (١٨٨٣-١٩٣١) کی طرف کی جاتی ہے۔ ہو سکتا ہے کہ بعد میں خلیل نے اس جیسی کوئی بات اپنی کتاب 'الأجنحة المتكسرة' میں کہی ہو۔ اور ان کی شہرت کے سبب، اسے ان سے ہی منسوب کر دیا گیا ہو۔ ویسے تو طرز نگارش میں (فکری لحاظ سے نہیں) جبران دور جدید کے میرے پسندیدہ ترین عربی نثر نگاروں میں شامل ہیں۔ اور ان کا امتیاز یہ ہے کہ عربی اور انگریزی میں لکھا اور دونوں میں کمال کر دیا۔ تا ہم جب بات اس قول پر نکلی تو مجھے لگا یہ وضاحت ضروری تھی۔
خیر! جس طرح آج مسلمان آزاد بھارت کی تاریخ کے مشکل ترین دور سے گزر رہا، اس کا تقاضا تو یہ ہے کہ ہم میں تعلیم و تحقیق، درس و تدریس، تصنیف و تالیف اور دیگر معزز شعبہاے حیات میں عظیم شخصیات نمودار ہوں۔ لیکن حالات بالکل بر عکس نظر آ رہے ہیں۔ مسلمانوں میں فرقہ بندیاں پہلے ہی کیا کم تھیں کہ اب بھارت کی گندی سیاست ہمارے مزید انتشار کا باعث بن رہی۔ مسلکی اور مشربی اختلافات کی طرح سیاسی اختلافات بھی دلوں میں خلیج پیدا کرنے لگے ہیں۔ دوسری طرف، مروجہ جلسوں کا اٹھتا طوفان ہے۔ یہ جلسے ایسے تھیٹر کی شکل اختیار کرتے جا رہے ہیں جہاں ادا کاروں نے خطبا، شعرا اور نقبا کے مکھوٹے پہن کر گویا ادا کاری شروع کر دی ہو اور سامعین تماش بین بن گئے ہوں (ان جلسوں میں جانے والے بہترے نوجوان لڑکے اور لڑکیاں تھیٹر کے تماش بینوں کی طرح صنفی خلط ملط سے حظ اٹھانے سے بھی نہیں ڈرتے [نعوذ باللہ من ذلک])۔ ملت کے خون پسینے کی کمائی کا ایک بڑا حصہ ان جلسوں پر صرف ہو رہا اور اخراجات کے مقابلے نتائج تقریباً صفر۔ طرفہ یہ کہ ان پروگراموں میں کھلم کھلا ایک دوسرے کو غلیظ گالیاں دی جانے لگی ہیں اور علانیہ ایک دوسرے کی حرمت پامال کی جا رہی۔
میں مذہبی جلسوں کا بالکل بھی مخالف نہیں اور نہ ہی ان کی افادیت کا منکر۔ یہ جلسے ایک عرصے سے مسلم نوجوانوں اور ادھیڑ عمروں کی (غیر رسمی) تعلیم کا عظیم کام انجام دیتے رہے ہیں۔ مگر ڈیجیٹل دنیا کی چکا چوند اور سوشل میڈیا پر فوراً وائرل ہونے کی چاہ نے آج بہتوں کا دماغ خراب کر رکھا ہے۔ اس لیے "تبلیغ" کے نام پر عجیب و غریب قسم کی حرکتیں سرزد ہو رہی ہیں جو ملت کی جگ ہنسائی، بلکہ بدنامی کا سبب بن رہیں۔
تازہ معاملہ علی گنج کوٹیا (ضلع: سلطان پور) کے ایک جلسے کا ہے۔ اس میں سیدنا امام حسین رضی اللہ عنہ و ارضاہ عنی کے "دفاع" کی آڑ میں، کچھ گالی باز خطبا نے دیگر مسالک کے ساتھ ساتھ 'دعوت اسلامی' اور 'سنی دعوت اسلامی' سے وابستہ لوگوں کو جس انداز سے گالیاں دیں اور ان پر "ڈاکو"، "لٹیرا" یہاں کہ "دہشت گرد" اور پتہ نہیں کیا کیا ہونے کا لیبل چسپاں کیا، انتہائی تشویش ناک ہے۔ گالیاں اتنی زیادہ اور ایسی فحش ہیں کہ یہاں نقل کرنا بھی میرے مزاج کے خلاف ہے۔ اس مضمون کو لکھتے وقت جب تھوڑی تلاش و جستجو کی تو گالیوں پر مشتمل ان کی کئی ویڈیوز اور ملیں۔
یہ کسی ایک جلسے کی کہانی نہیں۔ ہمارے کم و بیش ہر جلسے میں کچھ کم و بیش یہ چیزیں ہوتی رہتی ہیں۔ پڑوسی ملک نیپال کے ایک خطیب ہیں جو بھارت میں اہل سنت کے مابین ہی تفریق و انتشار پھیلا رہے ہیں (ویسے یہ کام خود ہندوستان کے علماے اہل سنت بھی کچھ کم نہیں کرتے)۔ جسے چاہا، جب چاہا اور جہاں چاہا، "صلح کلیت" سے جوڑ دیا۔ اور افسوس تو یہ کہ اسٹیج پر بیٹھے دین کے پاس دار علما ہر موقع پر واہ وہی کرنے میں لگے رہتے ہیں!!!
جلسوں کے خطبا، شعرا اور نقبا کو یاد رکھنا چاہیے کہ بلا تفریق مذہب و مسلک نئی نسل کی اکثریت مذہبی تنازعات میں دل چسپی نہیں رکھتی۔ ہاں! دیگر ادیان کے مقابلے مسلم نوجوانوں میں دین بیزاری کا رجحان ابھی اتنا عام نہیں ہوا ہے، الحمد للہ (اور ہوگا بھی نہیں، ان شاء اللہ)۔ انہیں اپنی زندگی جینے سے مطلب ہے۔ اس بابت انہیں مکمل آزادی چاہیے۔ سیاست میں مذہب کے تڑکے پر انہیں اتنا لطف نہیں آتا۔ اس حوالے سے یہ لوگ ادھیڑ عمروں اور عمر درازوں سے مختلف واقع ہوے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ جب یہاں 'کاکروچ جنتا پارٹی' نے حکومتی بد انتظامی کے خلاف آواز اٹھائی تو پورے ملک کی جین زی نے اس کے سر سے سر ملا دیا اور بھاجپا کے خلاف اٹھ کھڑی ہو گئی۔ نئی نسل کا یہ طرز عمل صرف بھارت تک محدود نہیں۔ دنیا کے ہر ملک میں یہی حال ہے۔ امریکہ اور یورپ کے ممالک میں فلسطین کے تئیں بڑھتی ہمدردی اور غاصب صہیونی ریاست کے خلاف بڑھتی نفرت بھی نئی نسل کے اسی ذہنی رجحان کا غماز ہے۔
ایسے میں مذہبی جلسوں کے مقررین وغیرہ کو محتاط رہنا چاہیے اور بلا ضرورت اختلافات کو ہوا دینے سے بچنا چاہیے۔ کوشش یہ ہو کہ پروگراموں میں نوجوان نسل کو ایسے پیغامات دیے جائیں جو ان کے دینی شعور کو بالیدگی بخشیں اور انہیں دین سے قریب کریں۔ ان کے اذہان میں مذہب کو لے کر جو جدید شبہات پنپ رہے ہیں، ان کے تشفی بخش جوابات دیے جائیں۔ گالی گلوج اور طنز و مزاح سے مکمل احتراز کیا جاے۔ یہ مواد تو انہیں سوشل میڈیا پر وافر مقدار میں مہیا ہے وہ بھی اس سے کہیں "بڑھیا معیار" کے ساتھ۔ کبھی غور کیا: اگر آپ کی بے ہودہ گوئی کے باعث مسلم نوجوان، علما سے مزید بد ظن ہونے لگیں تو اس کی ذمہ داری کس پر عائد ہوگی؟ اور ڈرتے رہنا چاہیے: اگر خدا نکردہ آپ کی غیر سنجیدگی اور/یا مسخرہ پن کسی ایک بھی مسلم نوجوان کی دین سے دوری کا سبب بنا تو مالک یوم الدین کے حضور کیا جواب دیں گے؟؟؟
غاصب ریاست کے بعد اگر کسی ملک کا سماج (بشمول حکومت اور میڈیا) اسلام اور مسلمانوں کی نفرت اور دشمنی میں ساری حدیں پار کر چکا ہے تو وہ موجودہ وقت کا بھارت ہے۔ یہاں آپ کی خامیوں کو دن کے اجالے میں بھی چراغ لے کر ڈھونڈا جاتا ہے تاکہ مسلمانوں کو احساس جرم میں مبتلا رکھا جاے اور کسی نہ کسی طرح اسلام کو نشانہ بنایا جا سکے۔ جلسے کے اسٹیجوں سے دیگر مسالک و مشارب کے خلاف اس طرح کی غلیظ زبان کا استعمال کر اور اس قسم کے سنگین الزامات لگا کر آپ کو لگتا ہوگا کہ میدان مار لیا اور جنگ فتح کر لی۔ آپ کو معلوم ہونا چاہیے کہ "دہشت گردی" کے جو چارجز آج آپ دعوت اسلامی وغیرہ کے خلاف لگا رہے ہیں، یہاں کا سماج اور میڈیا کل خود آپ یعنی مسلمانوں کے خلاف لگاے گا اور یہ کہتے ہوے دندناتا پھرے گا کہ یہ باتیں تو خود ان کے مولوی کہتے ہیں۔ اس وقت دفاع کے لیے آپ کے پاس کچھ نہیں ہوگا۔
یہ کوئی مفروضہ نہیں۔ اوپر علی گنج کوٹیا کے جس جلسے کا ذکر ہوا، گودی میڈیا کے علم بردار چینل یعنی سریش چوہانکے کے 'سدرشن نیوز' نے اپنے سوشل میڈیا صفحات پر اس کی ایک کلک ساجھا کر زہر افشانی شروع کر دی ہے۔ اب جائیے، دفاع کیجیے کہ ہم تھوڑی دہشت گرد ہیں، دہشت گرد تو فلاں فلاں مسلک والے اور فلاں فلاں تنظیم والے ہیں!!!
میرے نزدیک ایک مسلمان کی سب سے بڑی دولت اس کا ایمان ہے۔ اور حالات کیسے بھی ہوں، اس کا تحفظ سب سے زیادہ اہم۔ لہذا میں اس نقطۂ نظر کا کچھ خاص حامی نہیں جس کے حاملین کہتے ہیں کہ اس مشکل دور میں اختلافی مباحثوں میں نہیں پڑنا چاہیے۔ ہاں! میں یہ ضرور مانتا ہوں کہ بلا ضرورت اختلافی معاملات کو ہوا نہیں دینی چاہیے۔ رہا عوام کی تعلیم کے لیے عقائد اہل سنت کا بیان اور موقع پڑنے پر سنجیدہ لب و لہجے میں باطل عقائد کا علمی رد تو اس کی ضرورت پہلے بھی تھی، اب بھی ہے اور آئندہ بھی رہے گی۔ مگر رد و ابطال کے نام پر گالیوں کی مشین گن چلانے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔ اسی طرح مخالفین پر "دہشت گردی" یا اس جیسے کسی بھی الزام کی بالکل بھی گنجائش نہیں ہو سکتی جسے بعد میں گودی میڈیا اور یہاں کا اسلام-دشمن سماج خود ہمارے خلاف استعمال کر سکے۔ آخر، قرآن حکیم کی آیت کریمہ "وَلَا يَجْرِمَنَّكُمْ شَنَآنُ قَوْمٍ عَلَىٰ أَلَّا تَعْدِلُوا ۚ " (کسی قوم کی دشمنی تمہیں ہرگز اس بات پر نہ ابھارے کہ تم انصاف نہ کرو) پر کب عمل پیرا ہوں گے؟؟؟
✍️: #محمدحیدررضا
٣/ نومبر ٢٠٢٦
نوٹ:
میں سوشل میڈیا پر ایسی کسی بھی ویڈیو ساجھا کرنے کے سخت خلاف ہوں جو اسلام-دشمن عناصر کے ہاتھوں پہنچ کر اسلام یا مسلمانوں کی جگہ ہنسائی یا بد نامی کا باعث بنے۔ اس لیے کمینٹ باکس میں شواہد کے طور پر اس قسم کی ویڈیو شیئر نہیں کی جا رہی۔ اصل پیغام کی ترسیل کے لیے تحریر ہی کافی ہے۔

0 تبصرے