11 دسمبر سے شروع ہوگا 22 واں غریب نواز ہفتہ، 6 رجب کو عام تعطیل کا مطالبہ
کانپور 1/ نومبر ۔الجامعة الاسلامیہ اشرف المدارس گدیانہ میں آل انڈیا غریب نواز کونسل کے زیر اہتمام سالانہ میٹنگ و جشن غریب نواز و لنگر عام کا شاندار انعقاد ہوا جس کی صدارت کونسل کے قومی صدر مولانا محمد ہاشم اشرفی امام عید گاہ گدیانہ نے فرمائی۔
سابقہ روایات کے مطابق امسال بھی 22 واں سالانہ غریب نواز ہفتہ کا انعقاد نہایت تزک و اہتمام کے ساتھ آل انڈیا غریب نواز کونسل کے بینر تلے شہر کے مختلف مقامات پر متفرق پروگرامات منعقد ہوں گے۔ ان کا واحد مقصد یہ ہے کہ سرکار خواجہ غریب نواز علیہ الرحمہ کی تعلیم، محبت، صبر، انسانیت، مانوتا، اہنسا، بھائی چارہ اور اخلاص کو عام کیا جائے گا۔ لنگر کھلانے، ہاسپٹلوں میں مریضوں میں پھل تقسیم کئے جانے کا خاص اہتمام ہوگا اور تعلیمی بیداری ریلی نکالی جائے گی اور مختلف محلوں میں غرباء کو کمبل تقسیم کیے جائیں گے۔ اشتہار اور پریس کانفرنس کے ذریعہ غریب نواز ہفتہ کے پروگرامات کی مزید تفصیل جلد ہی بتائی جائے گی۔ غریب نواز ہفتہ کا آغاز 11 / دسمبر سے ہوگا۔
کونسل کے قومی صدر مولانا محمد ہاشم اشرفی امام عید گاہ گدیانہ سمیت علمائے کرام، ائمہ مساجد و دانشوران قوم نے حکومت ہند و ریاستی حکومت سے 6 رجب کو عرس غریب نواز کے موقع پر چھٹی کا پر زور مطالبہ کیا کیوں کہ آج بھی حضرت خواجہ معین الدین چشتی غریب نواز علیہ الرحمہ کا آستانہ ہندو، مسلم، سکھ، عیسائی سبھی کی عقیدت کا مرکز ہے جہاں بلا تفریق مذہب و ملت لوگ حاضری دے کر اپنی مرادیں پاتے ہیں لہٰذا 6 رجب کو عام چھٹی کا اعلان کیا جائے۔
مولانا اشرفی نے کہا کہ ہندوستان کی ولایت بارگاہ رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے حضرت خواجہ غریب نواز اجمیری رضی اللہ عنہ کو عطا ہوئی ہے۔ خواجہ غریب نواز شہنشاہ ہند ہیں۔ آپ نے اپنی غیر معمولی روحانیت سے لوگوں میں محبت اور بھائی چارہ پیدا کیا۔ آپ کی حکمت و بصیرت اور فراست مومنانہ اہل ہند کے لئے مشعل راہ ہے۔ غریب نواز علیہ الرحمہ کے بتائے ہوئے راستے پر چل کر ہم نفرت و عداوت کی آندھیوں کو سرد کر سکتے ہیں
محفل میں تمام شریک علمائے کرام، ائمہ مساجد و دانشوران قوم نے عوام سے پرزور اپیل کرتے ہوئے مشترکہ طور پر کہا کہ معاشرے میں اخلاقی معیار کو بلند کیا جائے اور باہمی محبت، رواداری اور حسنِ سلوک کو فروغ دیا جائے۔ جس طرح ہم اپنے خاندانی اور قریبی رشتہ داروں کے ساتھ مروّت، محبت اور خیرخواہی کا معاملہ کرتے ہیں، اسی طرح ہر ہندوستانی شہری کے ساتھ بھی اخلاق و محبت اور حسنِ سلوک سے پیش آئیں۔ اس موقع پر اس حقیقت کو بھی اجاگر کیا گیا کہ محبت فاتحِ عالم ہے، محبت اور حسنِ اخلاق کے ذریعے بڑے سے بڑے ظلم، نفرت اور عداوت کا خاتمہ ممکن ہے۔ لہٰذا معاشرے میں امن، اتحاد اور بھائی چارے کے فروغ کے لیے اخلاقی اقدار کو اپنا شعار بنایا جائے
اسی طرح اراکین کی جانب سے یہ تجویز بھی منظور کی گئی کہ ان شاء اللہ حج پر جانے والے عازمینِ کرام کی سہولت اور بہتر رہنمائی کے لیے بڑے پیمانے پر تربیتی کیمپ منعقد کیے جائیں گے، جن میں حج و عمرہ کے تمام ضروری طریقے، مناسک کی ادائیگی، سفر کی تیاری، مدینہ منورہ کی حاضری کے آداب اور روضۂ رسول ﷺ پر حاضری کے مسنون طریقوں کی تفصیلی رہنمائی کی جائے گی، تاکہ عازمینِ حج مکمل معلومات اور دینی شعور کے ساتھ اپنے مقدس سفر کو انجام دے سکیں
مزید برآں مزاراتِ اولیاء پر حاضری کے آداب بھی بیان کیے گئے اور اس بات کی وضاحت کی گئی کہ اولیائے کرام کے مزارات پر کس طرح ادب و احترام کے ساتھ حاضری دی جائے، سلام پیش کیا جائے، دعا کی جائے اور مزارِ مبارک کے سامنے کس قدر فاصلے پر مؤدبانہ انداز میں کھڑا ہونا چاہیے۔ اس سلسلے میں شرعی آداب، تعظیم و توقیر اور احترامِ اولیاء کی اہمیت پر بھی روشنی ڈالی گئی، تاکہ زائرین عقیدت کے ساتھ ساتھ آدابِ حاضری کی مکمل رعایت کرسکیں
مولانا اشرفی نے کہا کہ ائمہ کرام خود کو صرف محراب و مصلی تک محدود نہ سمجھیں بلکہ اپنی امامت و فراست سے محلہ کے لوگوں کی صلاح و فلاح کا ذریعہ بنیں۔ عوام میں جوا، شراب، نشہ اور سٹے بازی کی لت عام ہوتی جا رہی ہے۔ لوگوں کو اس ہولناکیوں سے آگاہ کریں تاکہ ایک صالح معاشرہ تشکیل پا سکے
بعدہ سبھی کو بٹھا کر لنگر غریب نواز کھلایا گیا
اس موقع پر بطور خاص الحاج سید خورشید عالم، مولانا مہتاب عالم مصباحی، قاری اقبال بیگ، امتیاز کریم عرف منو بھاری، شان مہتاب عالم، ماسٹر اقبال ترتیب کار، حافظ بہار الدین، قاری نوشاد ازہری، صابر فریدی، قاری سید عظیم الدین، مولانا محمد مبارک، یوسف کان پوری، ایم ایم خان، مولانا اجمیرا لدین، حافظ منہاج الدین، حافظ ظریف الاسلام، محمد واصف اشرفی، لعل محمد، حاجی عربی حسن، فیضی خان، عقیل حسن بون، تاج الدین سمیت کثیر تعداد میں لوگ موجود رہے۔


0 تبصرے