سرکار کلاں علم و عرفان کے کوہ ہمالہ ــــــ
حضرت سید مختار اشرف علیہ الرحمہ جنہیں دنیا سرکارِ کلاں اور مخدومُ المشائخ کے جلیل القدر لقب سے جانتی ہے اپنے عہد کی وہ ہمہ گیر اور ہمہ صفات شخصیت تھے جن میں روحانیت ، علمِ فقاہت ، اخلاق اور انسان دوستی ایک حسین امتزاج کی صورت جلوہ گر تھی ــ
آپ عظیم المرتبت عالمِ ربانی واعظِ لا ثانی مولانا سید احمد اشرف علیہ الرحمہ کے فرزندِ ارجمند اور مجددِ سلسلۂ اشرفیہ اشرفُ الصوفیہ حضور اعلیٰ حضرت اشرفی میاں علیہ الرحمہ کے پوتے تھے نسباً سید عبد الرزاق نورالعین علیہ الرحمہ کی اولاد اور روحانیتاً سیدنا مخدومِ جہاں گیر سمنانی و سامانی علیہ الرحمہ کے فیض یافتہ فرزند تھے
حضور سرکارِ کلاں علیہ الرحمہ اپنے وقت کے واقعی مخدومُ المشائخ تھے آپ صرف روحانی بزرگ ہی نہیں تھے بلکہ علم و ادب کے کوہِ ہمالہ بھی تھے فتاویٰ سرکارِ کلاں آج بھی کتب خانوں کی زینت ہیں اور آپ کی فقہی بصیرت اور علمی جلالت کی بھرپور گواہی دیتے ہیں ــ
ایک طویل عرصے تک آپ نے اپنے جدِ امجد کے قائم کردہ عظیم دینی ادارے الجامعۃ الاشرفیہ مبارک پور یوپی الہند کی سرپرستی فرمائی اور اسے فکری علمی اور روحانی استحکام عطا کیا ـ
بحمد اللہ مخدومُ المشائخ کی ذاتِ گرامی ایسی تھی کہ جس طرح باہر سے آنے والوں پر محبت نچھاور فرماتے تھے اس سے کہیں زیادہ اپنے گاؤں والوں سے انس اور تعلق رکھتے تھے راقم کی گاؤں کے اکثر بزرگوں سے ملاقات ہوئی سبھی یہی کہتے تھے
"ہمارے محمد میاں بس محمد میاں تھے"
گاؤں والے آپ کو اسی محبت بھرے نام سے یاد کرتے تھے
حضرت سرکارِ کلاں علیہ الرحمہ کا مزاج کاٹنے کا نہیں بلکہ جوڑنے کا تھا آپ سب کو ساتھ لے کر چلنے والے ، اختلاف سے نہیں اجتماعیت سے محبت کرنے والے تھے مشائخِ رضویہ اور مشائخِ اشرفیہ کے درمیان آپ کے زمانے میں جو محبت اور ہم آہنگی رہی وہ آپ کی بالغ نظری اور بلند ظرفی کی روشن مثال ہے ـــ
اسی محبت اور اعتماد کا مظہر یہ تاریخی واقعہ بھی ہے کہ زہد و تقویٰ علم و ادب کی عبقری شخصیت شہزادۂ مجددِ وقت حضور مفتیِ اعظم ہند علیہ الرحمۃ والرضوان کی نمازِ جنازہ حضور سرکارِ کلاں علیہ الرحمہ الرضوان نــے پڑھائی جس کے چشم دید گواہ آج بھی ہزاروں معتبر اور مستند افراد کی صورت میں موجود ہیں ـــــ
مختصر یہ کہ عارف باللہ حضور سرکارِ کلاں علیہ الرحمہ و الرضوان اپنے دور کے عظیم روحانی بزرگ بھی تھے اور اپنے وقت کے لاجواب مفتی بھی ، اخلاق وفا اور خلوص کا یہ عالم تھا کہ اپنی پوری زندگی انسانیت کو محبت کا پیغام یہ دیتے رہے
گلستاں میں ہوں نکہت بانٹتا ہوں
حسینی گھر کی نسبت بانٹتا ہوں
مجھے مت روک اے دورِ حوادث
میں زمانے کو محبت بانٹتا ہوں ــ
آپ کے اندر تصوف کا عالم یہ تھا کہ آپ نوافل تک ترک نہیں فرماتے تھے عبادت میں دوام ، ذکر میں حضوری اور عمل میں استقامت آپ کی زندگی کا شعار تھی آپ جہاں بھی جاتے محبت بانٹتے ، دل جوڑتے اور حسنِ ظن کے چراغ روشن کرتے آپ کے حسنِ ظن کا دائرہ بہت وسیع تھا آپ کو جو دیکھ لیتا اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ــ
آپ اپنے مریدوں کی نہایت شفقت کے ساتھ تربیت فرماتے محض بیعت پر اکتفا نہ کرتے بلکہ عمل شریعت کی پابندی سنتِ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی اور اخلاقِ محمدی صلی اللہ علیہ وسلم اپنانے کی تلقین کرتے تصوف آپ کے نزدیک محض وجد و حال کا نام نہیں تھا بلکہ شریعت کے سانچے میں ڈھلی ہوئی وہ پاکیزہ زندگی تھی جو انسان کو اللہ سے جوڑ دے اور بندوں سے محبت سکھا دے ــــــــ
شمــــس الــزماں خان صابری
" سنی سنٹر ناگپــور "
0 تبصرے