افغانستان کے اعلیٰ ترین رہنما شیخ ہیبت اللہ اخوندزادہ نے حال ہی میں ایک نہایت سبق آموز واقعہ پیش فرمایا۔
انہوں نے ملک کے تمام گورنروں کو قندہار بلایا۔ مگر خود طے شدہ وقت سے دو گھنٹے تاخیر سے تشریف لائے۔ باقی سب ان کا انتظار کر رہے تھے۔
جب وہ تشریف لائے تو سب کیلئے کھانا پیش کیا گیا، لیکن انہوں نے اُن کے ساتھ کھانا نہیں کھایا۔ ان کے باڈی گارڈ نے اُن کے لئے علیحدہ پلیٹ میں کھانا لایا اور انہوں نے الگ بیٹھ کر کھایا۔
بعد میں ان سے احترام کے ساتھ پوچھا گیا کہ
آپ دیر سے کیوں آئے؟ اور الگ پلیٹ میں کیوں کھایا؟
جواب میں انہوں نے فرمایا:
"میں اس لیے دیر سے آیا ہوں تاکہ آپ کو یہ سبق دے سکوں کہ کسی کو انتظار کرانا کتنی تکلیف دہ بات ہے۔ لہٰذا عوام کی ضرورت پوری کرنے میں تاخیر نہ کریں۔
اور میں نے اپنا کھانا علیحدہ اس لیے کھایا کہ میرے پاس ابھی کچھ ذاتی رقم موجود ہے۔ میں اپنا کھانا خود خرید سکتا ہوں، اس لیے بیت المال (سرکاری خزانے) پر بھروسہ نہیں کیا۔

0 تبصرے