جامعہ اشرفیہ یادگار اسلاف اور قوم کی امانت ہے

"جامعہ اشرفیہ یادگار اسلاف اور قوم کی امانت ہے "

جامعہ اشرفیہ مبارکپور محض ایک درسگاہ نہیں، بلکہ یہ اسلاف کی امانت، اکابر کی یادگار، اور ملتِ اسلامیہ کے اعتماد کی وہ متبرک علامت ہے جس کی بنیادیں زمین میں نہیں بلکہ دعاؤں، قربانیوں اور روحانی نسبتوں میں پیوست ہیں۔ یہ وہ ادارہ ہے جس کے ہر حجرے میں علم کی خوشبو، ہر راہداری میں اکابر کی آہٹ، اور ہر اینٹ میں بزرگانِ دین کی دعاؤں کی حرارت محسوس کی جا سکتی ہے۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ اس عظیم ادارے کے معمارِ اول ہی نہیں، بلکہ اس کے فکری، روحانی اور تہذیبی روحِ رواں تھے۔ انہوں نے جامعہ اشرفیہ کو محض نصاب و نظام عطا نہیں کیا، بلکہ اسے وہ نسبتیں بخشیں جن سے ادارے صدیوں زندہ رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ یہ ادارہ یادگارِ اسلاف بھی ہے اور قوم کی امانت بھی؛ ایسی امانت جس کی حفاظت صرف انتظام سے نہیں بلکہ اخلاص، وفا اور مقصد سے ہوتی ہے۔

جامعہ اشرفیہ کی بنیادوں میں بزرگانِ دین کی دعاؤں کا شامل ہونا کوئی استعارہ نہیں بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے۔ جن اداروں کی بنیادوں میں سجدوں کی پیشانیاں، تہجد کی آہیں، اور اولیائے کاملین کی نسبتیں شامل ہوں، انہیں نقصان پہنچانے والا دراصل اپنے ہی وجود کی بنیادیں کھوکھلی کر لیتا ہے۔ یہ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ جو اس کی ایک اینٹ اکھاڑنے کی کوشش کرے گا، وہ خود تاریخ کے ملبے تلے دب جائے گا—کیونکہ دعا جب حصار بن جائے تو سازشیں محض گردِ راہ بن کر رہ جاتی ہیں۔

الجامعۃ الاشرفیہ کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ اس کی بنیادوں میں جلوہ گاہِ امامِ اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور سرکارِ بغداد، غوثِ اعظم شیخ عبدالقادر جیلانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے آستانوں کی متبرک مٹی رکھی گئی۔ یہ مٹی محض خاک نہیں، بلکہ صدیوں کے علم، تقویٰ، فقہ، ولایت اور مجاہدہ کا نچوڑ ہے؛ وہ خاک جسے اولیاء نے اپنی جبینِ نیاز سے آشنا کیا اور جسے تاریخ نے عزت و عظمت کا تاج پہنایا۔

اس عظیم روحانی عمل کا ذریعہ بننے کا شرف عظیم شاعر، حساس دل اور باکمال شخصیت، بیکل اتساہی علیہ الرحمہ کو حاصل ہوا۔ وہ دیگر ممالک کے ساتھ عراق کے سفر پر گئے، اور وہاں سے وطن واپس آکر انہوں نے یہ بشارت سنائی کہ وہ امامِ اعظم اور غوثِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہما کے آستانوں کی مٹی الجامعۃ الاشرفیہ کے سنگِ بنیاد میں رکھنے کے لیے لا رہے ہیں۔ یہ خبر محض اطلاع نہ تھی، بلکہ روحوں کے لیے پیغامِ مسرت تھی۔

حضور حافظِ ملت علیہ الرحمہ نے اس خبر پر بے پناہ مسرت کا اظہار فرمایا، دعاؤں کے خزانے لٹائے، اور اس عمل کو نہایت قدر و منزلت کی نگاہ سے دیکھا۔ آپ کا بیکل اتساہی علیہ الرحمہ کے نام لکھا گیا خط محض ایک مکتوب نہیں بلکہ تاریخ کا زندہ دستاویز ہے، جس میں ادب، محبت، روحانیت اور اکابر کی پہچان سمٹ آئی ہے۔

آپ کا یہ فرمان کہ “مزاراتِ مقدسہ کی خاک (اکسیرِ اعظم) کو اشرفیہ کے سنگِ بنیاد میں امانت رکھنا کامیابی کی ضمانت ہے” دراصل اس حقیقت کا اعلان ہے کہ ادارے صرف وسائل سے نہیں، نسبتوں سے کامیاب ہوتے ہیں۔

یہ مٹی گویا جامعہ اشرفیہ کے لیے وہی حیثیت رکھتی ہے جو بدن کے لیے روح کی ہوتی ہے۔ عمارتیں اینٹوں سے کھڑی ہوتی ہیں، مگر ادارے نسبتوں سے زندہ رہتے ہیں۔ جب امامِ اعظم کی فقہ کی خوشبو اور غوثِ اعظم کی ولایت کی مہک بنیادوں میں بس جائے تو پھر یہ ادارہ صرف مدرسہ نہیں رہتا، بلکہ علم و روحانیت کا قلعہ بن جاتا ہے۔

آج اگر کوئی جامعہ اشرفیہ کی عظمت کو محض ظاہری پیمانوں سے ناپنے کی کوشش کرے تو وہ اس کی اصل روح سے ناواقف ہے۔ یہ ادارہ ان دعاؤں کا ثمر ہے جو عرش سے ٹکرا کر لوٹیں، ان آنسوؤں کا حاصل ہے جو سحرگاہوں میں بہائے گئے، اور ان نسبتوں کا امین ہے جو صدیوں پر محیط ہیں۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ جامعہ اشرفیہ مبارکپور ایک ادارہ نہیں، ایک امانت ہے؛ ایک عمارت نہیں، ایک دعا ہے؛ ایک مدرسہ نہیں، ایک تسلسل ہے۔ جو اس کا محافظ ہے وہ تاریخ کے قافلے میں شامل ہے، اور جو اس کے خلاف کھڑا ہو وہ اپنے ہی انجام کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔

یہ ادارہ باقی رہے گا—کیونکہ جس کی بنیاد میں امامِ اعظم اور غوثِ اعظم کی خاک ہو، اور جس کے سائے میں حافظِ ملت کی دعا ہو، اسے مٹانا کسی کے بس کی بات نہیں۔

محمد عباس الازہری ✍

Copy paste 

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے