سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو افضل البشر بعد الانبیاء
سوال:محترم مفتی صاحب ،اس سوال کاجواب عنایت فرمائیں کہ اگر کوئی شخص یہ کہے کہ میں سیدناابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو افضل البشر بعد الانبیاء مانتاہوں،لیکن اگر کوئی شخص سیدنا مولاعلی مرتضیٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کوبھی افضل مانتاہےتووہ رافضی نہیں ہے،اس کے لئے سنیوں کواپنادل بڑارکھناچاہئے،کیاایساکہنادرست ہے؟
سائل:محمد عادل پٹیل سورت گجرات
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم۔الجواب بعون اللہ الوھاب۔یہ گمراہ کن بات ہے،سیدنا علی مرتضی ٰ رضی اللہ عنہ کوسیدناصدیق اکبر سے افضل سمجھنے والارافضی تفضیلی گمراہ وبدعقیدہ ہے۔ ایساممکن نہیں ہےکہ کوئی شخص افضلیت صدیق اکبرکا قائل ہوتے ہوئےاس کے برعکس افضلیت مولاعلی کابھی قائل ہو۔جب بھی مطلقا افضل البشر بعد الانبیاء بولاجائے گاتواس کامصداق صرف سیدناصدیق اکبر ہوں گے،اگر کوئی شخص اس کامصداق کسی اور صحابی کومانے خواہ مولاعلی رضی اللہ عنہ ہوں توبھی ایساشخص سنی صحیح العقیدہ نہیں ہے،کیوں کہ افضلیت مطلقہ صرف سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کوحاصل ہے،یہی اہل سنت وجماعت کااجماعی عقیدہ ہے،اس کے خلاف جوبھی شخص عقیدہ رکھتاہے وہ گمراہ تفضیلی شیعہ ہے۔صحیح بخاری شریف میں سیدناابن عمر رضی اللہ عنہماکایہ قول منقول ہے:عَنِ ابْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: كُنَّا فِي زَمَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لاَ نَعْدِلُ بِأَبِي بَكْرٍ أَحَدًا، ثُمَّ عُمَرَ، ثُمَّ عُثْمَانَ، ثُمَّ نَتْرُكُ أَصْحَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لاَ نُفَاضِلُ بَيْنَهُمْ۔حضرت ابن عمررضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ ہم حضور نبی کریم ﷺ کے زمانے میں ابوبکر کے برابر کسی کونہیں قرار دیتے تھے،پھر عمر، پھر عثمان (رضی اللہ عنہم) کوافضل کہتے تھے،پھررسول اللہ ﷺ کے اصحاب کوچھوڑدیتے تھےاور ان کے مابین فضیلت میں تقابل نہیں کرتے تھے(کیوں ان کے بعد علی مرتضی کوافضل ماناجاتاتھا)
ایک رافضی وہ ہے جوشیخین کریمین کوسب وشتم کرتاہے،ان کی صحابیت کاانکار کرتاہے،سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا پہ تہمتِ زنا رکھتاہے وہ کافر ہے،اور ایک رافضی وہ ہے جوایسانہیں کرتا،شیخین کریمین(سیدنا ابوبکر وعمر رضی اللہ عنہما)کوگالی گلوج نہیں کرتااورکوئی کفری عقیدہ نہیں رکھتا،لیکن سیدنا مولاعلی رضی اللہ عنہ کوشیخین کریمین سے افضل مانتاہے تووہ کافر نہیں ،گمراہ رافضی ہےاورحدیث پاک کے مطابق جہنم کاکتاہے۔مجمع الانھر شرح ملتقی الابحر میں ہے:وَالرَّافِضِيُّ إنْ فَضَّلَ عَلِيًّا فَهُوَ مُبْتَدِعٌ، وَإِنْ أَنْكَرَ خِلَافَةَ الصِّدِّيقِ فَهُوَ كَافِرٌ۔یعنی رافضی اگر مولاعلی کو(شیخین کریمین) سے افضل کہے تووہ مبتدع(گمراہ)ہے اور اگر سیدنا صدیق اکبر کی خلافت کاانکار کرے توکافر ہے۔ردالمحتار میں ہے:لِأَنَّ الرَّافِضِيَّ كَافِرٌ إنْ كَانَ يَسُبُّ الشَّيْخَيْنِ مُبْتَدِعٌ إنْ فَضَّلَ عَلِيًّا عَلَيْهِمَا مِنْ غَيْرِ سَبٍّ كَمَا فِي الْخُلَاصَةِ. اهـ.قُلْت: وَفِي كُفْرِ الرَّافِضِيِّ بِمُجَرَّدِ السَّبِّ كَلَامٌ سَنَذْكُرُهُ إنْ شَاءَ اللَّهُ تَعَالَى فِي بَابِ الْمُرْتَدِّ، نَعَمْ لَوْ كَانَ يَقْذِفُ السَّيِّدَةَ عَائِشَةَ - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا - فَلَا شَكَّ فِي كُفْرِهِ ۔یعنی رافضی اگر شیخین کوگالی دیتاہے توکافر ہے اور گالی نہیں دیتالیکن مولاعلی کوشیخین سے افضل کہتاہےتومبتدع (گمراہ)ہے،جیساکہ الخلاصۃ میں ہے۔میں (علامہ شامی) کہتاہوں محض سب شیخین کے سبب رافضی کے کافر ہونے میں کلام ہے،ان شاء اللہ اس کوباب المرتد میں ذکر کروں گا،ہاں اگر رافضی سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہاپہ تہمت لگاتاہے تو اس کے کافر ہونے میں شک نہیں۔
حاشیۃ الشلبی علی تبیین الحقائق میں ہے:وَفِي الرَّوَافِضِ إنْ فَضَّلَ عَلِيًّا - رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ - عَلَى الثَّلَاثَةِ فَمُبْتَدَعٌ وَإِنْ أَنْكَرَ خِلَافَةَ الصِّدِّيقِ أَوْ عُمَرَ فَهُوَ كَافِرٌ۔یعنی روافض میں سے جوشخص حضرت مولاعلی کو خلفاے ثلٰثہ سے افضل مانتاہے وہ بدعقیدہ گمراہ ہے،اور اگر سیدنا صدیق اکبر یافاروق اعظم کو خلیفہ نہیں مانتاتووہ کافر ہے۔
حاصل جواب یہ ہے کہ شیخین کریمین سے سیدنا مولاعلی کوافضل ماننے والا سنی نہیں، اسے رافضی تفضیلی کہناصحیح ہے،اس کی صحبت ومجالست سے دور رہنے کی تاکید احادیث کریمہ میں آئی ہے،لہذا اس کے لئے کشادہ دلی اختیار کرنے کی بات کرنا لوگوں کوگمراہی کی طرف دعوت دیناہےسیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کایہ ارشاد ہے:
:إِيَّاكُمْ وَمَا يُحْدِثُ النَّاسُ مِنَ الْبِدَعِ , فَإِنَّ الدِّينَ لَا يَذْهَبُ مِنَ الْقُلُوبِ بِمَرَّةٍ , وَلَكِنَّ الشَّيْطَانَ يُحْدِثُ لَهُ بِدَعًا حَتَّى يُخْرِجَ الْإِيمَانَ مِنْ قَلْبِهِ , وَيُوشِكُ أَنْ يَدَعَ النَّاسُ مَا أَلْزَمَهُمُ اللَّهُ مِنْ فَرْضِهِ فِي الصَّلَاةِ وَالصِّيَامِ وَالْحَلَالِ وَالْحَرَامِ , وَيَتَكَلَّمُونَ فِي رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ , فَمَنْ أَدْرَكَ ذَلِكَ الزَّمَانَ فَلْيَهْرُب. قِيلَ: يَا أَبَا عَبْدِالرَّحْمَنِ فَإِلَى أَيْنَ؟ قَالَ: إِلَى لَا أَيْنَ. قَالَ: يَهْرُبُ بِقَلْبِهِ وَدِينِهِ , لَا يُجَالِسُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْبِدَعِ۔ترجمہ:لوگوں نے جوبدعتیں ایجاد کی ہیں ان سے خود کودور رکھو،کیوں کہ دین دلوں سے یکبارگی رخصت نہیں ہوتا،شیطان پہلے گمراہی سامنے لاتاہے،پھر دل سے ایمان نکالتاہے ۔قریب ہے کہ لوگ اللہ کے فرائض نماز،روزے،حلال ،حرام چھوڑدیں گے،اور اللہ عزوجل(اوراس کے دین)کے بارے میں باتیں بنائیں گے،ایسے وقت میں بھاگناچاہئے،کہاگیا: اے ابوعبدالرحمٰن کہاں بھاگاجائے؟فرمایا:کہیں نہیں،بس اپنے دل اور دین کی حفاظت کرے،گمراہوں کی صحبت اختیارنہ کرے۔
اس قسم کی کثیر احادیث میں اہل الاھواء یعنی گمراہوں سے دور ونفور رہنے کی تاکید آئی ہے توپھر تفضیلی رافضی کے لئے کسی سنی صحیح العقیدہ کودل بڑارکھنے کی دعوت دیناکیوں کر جائز ہوگا؟؟واللہ اعلم
کتبہ: رضاء الحق اشرفی مصباحی
صدرالمدرسین وصدر شعبہ افتا دارالعلوم گلشن کلیمی پھول بڑیا
وقاضی وصدر مفتی مرکزی دارالافتاء والقضاء راج محل ضلع صاحب گنج جھارکھنڈ (انڈیا)
۲۱رجب المرجب ۱۴۴۷ھ
Copy pest

0 تبصرے