*💐مادر علمی جامع اشرف کی بلند ترین درسگاہ💐*
ہر قوم کی شناخت اس کے تعلیمی اداروں سے ہوتی ہے، اور ہر درسگاہ اپنے فیضانِ علم و عمل سے تاریخ کے سینے پر نقوش چھوڑتی ہے۔ مادر علمی کی درسگاہ بھی انہیں روشن میناروں میں سے ایک مینار ہے، جو سالہا سال سے سے علم و عرفان کی مشعل بلند کیے کھڑی ہے۔
یہ درسگاہ ایک روحانی و عرفانی علم و ادب کی پناہ گاہ، ایک فکری مرکز، اور ایک ایسی معنوی چراگاہ ہے جہاں عقل و روح دونوں کو غذا ملتی ہے۔ یہاں جو قدم رکھتا ہے، وہ صرف تعلیم نہیں حاصل کرتا بلکہ انسانیت کا سبق بھی پڑھتا ہے۔
*(مادر علمی کا سنگ بنیاد )*
اس کی بنیاد حضور مخدوم العلماء شیخ اعظم حضرت علامہ و مولانا سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی الجیلانی شہزادۂ حضور مخدوم المشائخ حضرت علامہ و مولانا مفتی سید شاہ محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی المعروف بہ سرکار کلاں (علیہما الرحمہ) نے اخلاص و مؤدت ،محبت و الفت پر سن 1399ھ/ 1978ء میں رکھ کر علوم اسلامیہ کی ایسی شمع جلائی جسکے نورانی و عرفانی انوار سے عوام و خواص کے قلوب و اذہان منور و مجلی ہوگئے، جسکی کرنوں سے ہزاروں گم گشتگان راہ نے ہدایت پائی، اس کے بانی نے نہ دولت و ثروت دیکھی، نہ دنیا کی چمک دمک بلکہ اپنی پوری توجہ مع جد و جہد کے اسی میں صرف کردی گویا کہ ان کی نگاہیں صرف رب کی رضا پر تھیں ،
*(مادر علمی کی شان )*
مادر علمی کیلئے اس سے زیادہ قابلِ فخر، فرحت ومسرت، انبساط و شادمانی، امتیازی شان و فیض روحانی ، باعث برکت عظمت و رفعت، سعادت اور آن بان شان کی بات کیا ہو سکتی ہے کہ یہ آستانۂ حضور قدوۃ الکبری ،غوث العالم ، محبوب یزدانی ،تارک السلطنت حضرت سلطان سید اوحد الدین مخدوم اشرف جہانگیر سمنانی نور بخشی رضی اللہ عنہ کے قرب و جوار میں فضائے روحانی و عرفانی سے لطف اندوز ہو رہی ہے۔
جہاں مادر علمی سالک مسالک شریعت و طریقت ، واقف اسرار حقیقت و معرفت ،منبع برکات،پیکر انوار و تجلیات، مجدد سلسلۂ اشرفیہ جاجی الحرمین الشریفین حضرت سید شاہ ابو احمد محمد علی حسین اعلی حضرت اشرفی میاں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے نظر کیمیا اثر سے فیضیاب ہو رہی ہے، وہیں پہ حضور عالم ربانی واعظ لاثانی عارف حقانی سلطان الواعظین و سلطان المناظرین حضرت علامہ و مولانا حضرت سید شاہ محمد احمد اشرف اشرفی الجیلانی شہزادۂ حضور اعلی حضرت اشرفی میاں رحمۃ اللّٰہ علیہ سے بھی اکتسابِ فیض و فیضان کر رہی ہے۔
جہاں مادر علمی مظہر غوث العالم، آفتاب اشرفیت،گل و گلزار روحانیت،حضور مخدوم المشائخ حضرت علامہ و مولانا مفتی سید شاہ محمد مختار اشرف اشرفی الجیلانی المعروف بہ سرکار کلاں رحمۃ اللّٰہ علیہ کے انوار ولایت سے منور ہو رہی ہے،
وہیں حضور شیخ اعظم بانئ جامع اشرف مخدوم العلماء شیخ طریقت حضرت علامہ و مولانا سید شاہ محمد اظہار اشرف اشرفی الجیلانی شہزادۂ حضور سرکار کلاں رحمۃ اللّٰہ علیہ سے دعائیں حاصل کر رہی ہے گویا کہ آپ رحمۃ اللّٰہ علیہ کے خامۂ زریں سے روحانی فیوض و برکات سے بھر پور روزانہ یہ پیاری سی صدا آتی ہے:
*جامع اشرف ہے فروغ سنیت کا شاہکار*
*جامع اشرف فیض مخدومی کی ہے اک یادگار*
*جامع اشرف احمد اشرف کے تخیل کا منار*
*ہو سلامت تا ابد پھولے پھلے لیل و نہار*
یہی وجہ ہے کہ مادر علمی کی فضا ہر سحر اک نئی علمی و ادبی روحانی و عرفانی ماحول لاتی ہے جس میں علوم دینیہ کی خوشبو مثل گل و گلزار ہر طالب علم کی مشام جاں کو معطر کرتی ہے ۔ پھر فجر کی جب آواز گونجتی ہے تو ایسا لگتا ہے جیسے پھر اک نئی صبح کے ساتھ علمی دنیا بیدار ہو رہی ہے ۔ ترانہ کے بعد طلبائے جامع اشرف کے قدموں کی کھرکھراہٹ، طلباء کے درسگاہ میں باادب جلوہ افروز ہونے کے بعد اساتذۂ کرام کے افہام و تفہیم کے سریلے لہجے، کتابوں کے اوراق کی سرسراہٹ ، یہ سب مل کر ایک علمی نغمہ تخلیق کرتے ہیں۔
*(مادر علمی کے اساتذۂ ذوی الاحترام )*
ہوں تو مادر علمی میں ایک سے بڑھ کے ایک ماہر علوم و فنون ہے کوئی ماہر فن نحو و صرف ،کوئی ماہر فن فقہ و اصول فقہ ،کوئی ماہر فن تفسیر و میراث ،کوئی ماہر فن حدیث و تفسیر ،کوئی ماہر منطق و فلسفہ ،کوئی ماہر فن عربی ادب ،کوئی ماہر درس قرآن ،کوئی ماہر فتویٰ نویسی ،کوئی ماہر فارسی ادب ،کوئی ماہر عصری علوم کئی ہستیاں تو ایسی بھی ہیں جو آل راؤنڈر ہیں ماشاءاللہ مگر اس درسگاہ کے روحانی ستون تو باعمل ہی ہیں۔ ان کے چہروں پر علم و فضل، زہد و تقویٰ ،اخلاص و محبت کا نور اور لبوں پر نصیحت کی مٹھاس ہے۔
وہ محض معلم نہیں، مربی ہیں؛ محض استاذ نہیں، محسن ہیں، ان کی نگاہیں شاگردوں کے دلوں میں ایمان کے چراغ جلا دیتی ہیں ان کی خاموشی بھی درس ہے، انکی طرز زندگی نمونۂ عمل ہے مولی تعالیٰ میرے تمام تر اساتذۂ کرام کو اپنے حبیب مکرم نورِ مجسم فخر دوعالم صلی اللہ علیہ وسلم کے توسل سے سدا اپنے حفظ و امان میں رکھے انہیں سلامت با کرامت رکھے آمین ثم آمین یا رب العالمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم
*(طالبان علومِ نبویہ )*
یہ درسگاہ کے پھول ہیں، جو علم و اخلاق کی خوشبو پھیلاتے ہیں دن میں نور علم سے منور ہوتے ہیں، راتوں کو جاگ کر مطالعہ کرتے ہیں گویا کہ ٫٫من طلب العلی سھر اللیالی'' کے مصداق ہیں انکے دلوں میں امت کا درد ہوتا ہے ان کے ہاتھوں کا قلم تلوار سے زیادہ قیمتی ہے،
درسگاہیں علم کے سمندر کا کنارہ ہوتی ہیں، جہاں سے ہر قطرہ نور علم و ادب سے منور و مؤدب ہوکر باہر ٹپکتا ہے جہاں اذہان کو رہنمائی ملتی ہے، قلوب کو تسکین، ارواح کو غذا،اور زندگیوں کو مقصد، ہماری درسگاہیں امت کی امید ہیں اور اس کے ایسے چراغ ہیں جو کبھی بھی بجھ نہیں سکتے، کیونکہ یہ چراغ رحمت الٰہی کے تیل سے جلتے ہیں۔
مادر علمی کی درسگاہ بھی انہیں روشن چراغوں میں سے ایک ہے جو اپنی مثال خود آپ ہے یہ وہ زمین ہے جہاں علم کے بیج بوئے جاتے ہیں،اور دین کے درخت اگتے ہیں، یہ امت کی امید، معاشرت کی ضمیر، اور تہذیبِ اسلام کے رہبر ہیں۔
پس جہاں دنیائے سنیت میں کثیر مدارس اسلامیہ کی درسگاہوں کی عمارتیں "نور کے مینار" کہلاتی ہیں،
وہیں بلا شبہ مادر علمی جامع اشرف کی درسگاہ بھی علم کا مینار ہے جس سے یہ دلکش و دلنشیں صدا گونجتی ہے :
*گلشنِ اشرف سمنان ہے جامع اشرف*
*چشتی و قادری ریحان ہے جامع اشرف*
*شیخ اعظم کی سعی اور فیوض خواجہ*
*سر بسر چشتیہ فیضان ہے جامع اشرف*
*جسکی دیواروں سے آتی ہے ادب کی خوشبو*
*علم و حکمت کا وہ ایوان ہے جامع اشرف*
(ز شیخ حبیبی اشرفی جامعی متعلم )
المختصر
مادر علمی کی درسگاہ دراصل وہ باغ ہے جہاں علم کے پھول کھل کر امت کے دامن کو مہکاتے ہیں،اور جہاں سے اڑنے والی ہر تتلی، علم و عمل کی خوشبو لے کر جہالت کی بستیوں کو روشن کرتی ہے۔
یہ درسگاہ دراصل وہ روحانی و فکری قلعہ ہے جہاں علم و عرفان کا جام پلایا جاتا ہے گویا کہ یہ علم کی وہ نرسری ہے جہاں نونہالانِ ملت کو ایمان، تقویٰ، فہم و بصیرت اور خدمتِ دین کے رنگ میں رنگا جاتا ہے۔ یہاں ہر صبح امید کی ضیا اور ہر شام ذکرِ الٰہی کی صدا سے مہکتی ہے۔ حقیقت میں یہ درسگاہ ایک ایسی مقدس سرزمین ہے جس پر ہر شب و روز ہزاروں متقین کی نگاہیں پڑتی ہیں جہاں سے علم کا سمندر بہنے کے ساتھ ساتھ فیض و فیضان کا سمندر بھی بہتا ہے، جسکی لہریں مارتی ہوئی موجیں جہالت کی ساکت موجوں کو بہانے اور اپنی لہروں میں شامل کرنے میں ہمیشہ مستعد رہتی ہیں۔
مولی تعالیٰ اپنے حبیب مکرم نورِ مجسم فخر دوعالم صلی اللّٰہ علیہ وسلم کے توسل سے ہماری مادرِ علمی پر اپنی خاص رحمتوں اور برکتوں کی بارش ہمیشہ کے لیے جاری فرمائے۔ اس مقدس گلشن سے ایمان کے پودے پروان چڑھتے رہیں، عقلیں منور ہوتی رہیں، اور قلوب نورِمعرفت سے جگمگاتے رہیں۔ اس درسگاہ کے در و دیوار علم و حکمت کی تجلیات سے منور رہیں، اور اس کی فضاؤں کو ذکر و فکر کی خوشبو سے لبریز فرمائے
ہمارے تمام تر اساتذہ کو اخلاصِ نیت، وسعتِ علم، اور نورِ بصیرت عطا فرمائے، تاکہ وہ نسلِ نو کے دلوں میں عشقِ رسول ﷺ، محبتِ دین، اور خدمتِ انسانیت کے چراغ روشن کرتے رہیں۔ ان کے وجود سے علم کی روشنی پھیلتی رہے اور ان کی زبانوں سے حکمت کے موتی جھڑتے رہیں۔
مادرِ علمی کے طلباء کو علم کے ساتھ عمل، فہم و فراست کے ساتھ اخلاق حسنہ،اور عقل کے ساتھ تدبر و تفکر کا ملکہ عطا فرمائے۔ ان کے دلوں میں دین کی عظمت، امت کی خیر خواہی، اور خدمتِ خلق کا جذبہ ہمیشہ زندہ رکھے۔ انہیں علم کے ایسے چراغ بنائے جو جہالت کے اندھیروں کو روشنی میں بدل دیں۔
یہ درسگاہ ہمیشہ چراغِ ہدایت بنی رہے، اس کی بنیادیں اخلاص، تقویٰ، اور ایمان کے ستونوں پر قائم رہیں۔ اسے ہر فتنے، ہر زوال، اور ہر بد نیتی سے محفوظ رکھے۔ اس ادارے سے نکلنے والے علماء و مصلحین، دنیا بھر میں دینِ اسلام کی سربلندی کا سبب بنیں۔
مادرِ علمی کو تا ابد علم و عرفان کا مرکز، خیر و برکت کا منبع، اور امتِ مسلمہ کے لیے ہدایت و روشنی کا مینار بنائے
آمین ثم آمین یا ربَّ العالمین بجاہ سید المرسلین خاتم النبیین صلی اللّٰہ علیہ وسلم و آلہ و اصحابہ و ازواج مطہراتہ و اولیاء امتہ رضوان اللہ علیہم اجمعین
گدائے حضور شیخ اعظم
محمد ناظم حبیبی اشرفی جامعی
تخصص فی الفقہ سال آخر
بتاریخ: ١٨ رجب المرجب ١٤٤٧ھ
بمطابق 8 جنوری 2026ء بروز جمعرات

0 تبصرے