بہاری اور کوفی حقیقت کے آئینے میں
تحریر: محمد جسیم اکرم مرکزی
نزیل: درّاسہ، نزد مسجد ازہر، قاہرہ، مصر
واٹس ایپ نمبر : 9523788434
بے نشانوں کا نشاں مٹتا نہیں
مٹتے مٹتے نام ہو ہی جائے گا
کوفہ ــــــــــــــــ
امیر المؤمنین خلیفۂ دوم حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے حکم سے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ١٥ ہجری میں شہر کوفہ کو بسایا جیسا کہ تاریخ الخلفاء باب خلافت فاروقی میں ہے: ۱۵ھ میں مملکت اردن فتح ہوا اور طبریہ ذریعہ صلح اسلامی قبضہ میں آیا۔ اسی سال یرموک و قادسیہ میں زبردست لڑائیاں کی گئیں ۔ ابن جریر کا بیان ہے کہ اسی سال حضرت سعد نے کوفہ کو شہر بنایا۔ اور اسی سال حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے لوگوں کو جاگیریں دیں ۔ دفاتر مقرر کیے اور مستحقین کو مزید عطیات سے سرفراز فرمایا۔
[تاریخ الخلفاء ص ١٣٤]
کوفی ـــــــــــــــــ
کوفہ سے کوفی بنا یعنی جو حضرات کوفہ کے رہنے والے ہیں ان کو کوفی کہتے ہیں جیسے بنارس کے رہنے والے کو بنارسی الہ آباد کے رہنے والے کو الہ آبادی پورنیہ کے رہنے والے کو پورنوی کہتے ہیں اور بصرہ کے رہنے والے کو بصری کہتے ہیں جیسے امام حسن بصری رضی اللہ عنہ بصرہ کے رہنے والے ہیں اس لیے ان کو بصری کہتے ہیں امام عاصم کوفی رضی اللہ عنہ کو کوفی اس لیے کہتے ہیں کہ وہ کوفہ کے باسی ہیں
بِہارـــــــــــــــــــــــ
بہار ملک ہندوستان کا ایک عظیم صوبہ ہے جو ٦٣٣ ہجری سے پہلے "متھلا دیش" اور "ترہت" کے نام سے موسوم کیا جاتا رہا ابو الفضل نے آئین اکبری میں اسی ترہت کا تذکرے کرتے ہوئے ارقام کیا ہے
"از دیر گاہ بن گاہ [مرکز] ہندی دانش"
[ج ٢ ص ٦٧]
یعنی آئین اکبری میں (ترہت) بہار کو علم و دانش کا ہندوستانی قدیم مرکز کے نام سے یاد کیا ہے جس کی چمک ہنوز باقی ہے
بہار ٢٢ مارچ ١٩١٢ ء میں بنگال سے الگ ہو کر ایک مستقل صوبہ بنا پھر بہار سے الگ ہو کر جھارکھنڈ صوبہ بنا۔ یہ تاریخی تقسیم ١٥ نومبر ٢٠٠٠ء کو "بہار ری آرگنائزیشن ایکٹ" (Bihar Reorganisation Act) کے ذریعے عمل میں آئی، جس کے بعد ریاست جھارکھنڈ بھارت کا ٢٨ واں صوبہ بن گیا۔اس سے قبل، ١ اپریل ١٩٣٦ء کو برطانوی راج کے دوران اڑیسہ (موجودہ اوڈیشہ) بھی بہار سے الگ ہو کر ایک نیا صوبہ بنا تھا۔
بِہاری ــــــــــــــــــــ
بِہاری بہار سے بنا یعنی بہار میں رہنے والے حضرات کو بہاری کہتے ہیں جیسے صاحب مسلم الثبوت مدقق بہاری علامہ قاضی محب اللہ بہاری رضی اللہ عنہ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری بہاری رضی اللہ عنہ
لفظ کوفی کی مظلومیت ـــــــــــــ
صدیوں سے لفظ کوفی ظلم سہ رہا ہے وہ بھی اپنوں کا ظلم بلکہ خواص کا ظلم جہاں کسی کو طعنہ دینا ہوا بس کہ پڑا "تم تو کوفی ہو" یعنی لفظ کوفی کو گالی کے طور پر عوام استعمال کرنے لگے خاص کر جب کسی سیدھے سادھے بھولے بھالے انسان سے کوئی غلطی صادر ہو گئی تو فورا کہہ دیتے ہیں "یہ صوفی ہے یہ تو کوفی ہے" یعنی ایسا لگتا ہے کہ موصوف یہ باور کرانا چاہتے ہیں کہ صوفی اور کوفی کے درمیان تباین کی نسبت ہے حالانکہ اہل عقل و شعور پر خوب واضح ہے کہ اس میں تباین کی نسبت ہر گز نہیں ہو سکتی ہے ہاں عموم خصوص من وجہ کی نسبت ہے یعنی بعض انسان کوفی ہے بعض انسان صوفی ہے اور بعض انسان صوفی بھی ہے اور کوفی بھی یعنی دو قضیے میں افتراق ہے اور ایک میں دونوں کا اجتماع ہے
سوال ـــــــــــ
بعض حضرات یہ کہتے ہیں کہ کوفی گالی کے طور پر کیوں نہ کہا جائے جب کہ اہل کوفہ نے نواسۂ رسول ﷺ جگر گوشۂ بتول رضی اللہ عنہا حضرت امام حسین رضی اللہ عنہ کو تین دن تک بے آب و دانہ رکھ کر پیاسا شہید کیا تو کوفی اس لائق کہاں ہے کہ اس کی عزت کی جائے؟ اس کے آداب بجائے لائیں جائیں؟
جواب ـــــــــــــــــــ
ایسے سادہ دل سائلین کو فقیر یہی جواب دیتا ہے کہ آپ کا کہنا بجا ہے کہ جن کوفیوں نے امام عالی مقام امام حسین رضی اللہ عنہ کو شہید کیا وہ سب سخت فاسق و فاجر لائق ملامت ہیں لیکن ایک دور کے باشندوں کے ظلم و ستم کی بنا پر ہر آنے والے دور کے افراد کو ظالم و جابر فاسق و فاجر نہیں کہا جا سکتا ہے
شبلی نعمانی سیرۃ النعمان میں رقمطراز ہیں:
ضروری نہیں کہ ہر دور میں ، ہر مقام ایک حالت میں رہے
ایک زمانہ تھا کہ حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کوفہ کو کنز الایمان ، راس الاسلام اور راس العرب کہا کرتے تھے
[سیرۃ النعمان ص ٢٨]
ہاں جن لوگوں نے شہید کیا یا شہید کرنے والوں کی ساتھ شریک ہوا وہ ضرور مجرم فاسق و فاجر سخت ظالم و جابر ہیں
لفظ کوفی کے پیچھے چھپا ہوا تصورـــــــــــــــــــ
ہم نے اپنے عوام کے ذہنوں میں یہ بٹھا دیا ہے کہ کوفہ بے وفاؤں کا شہر ہے کیونکہ اہل کوفہ ہی نے امام حسین رضی اللہ عنہ کو دھوکے سے کوفہ بلایا اور شہید کیا اور اس کو اس طرح سے پیش کیا کہ لوگوں کو لگا سارے کوفی ہی ایسے ہیں اس لیے جب بھی کوفی بولا جاتا ہے فورا تصور میں یہ سارے واقعات تیز رفتار کے ساتھ گردش کر جاتے ہیں اور ظلم و ستم کے تصورات سے ذہن و دماغ میں گہرا اثر پڑ جاتا ہے جس کی وجہ سے لفظ کوفی ہی سے انسان کو نفرت ہونے لگتا ہے
وہیں اگر تھوڑی تشریح کر دی جاتی اور کوفہ کے فضائل بیان کر دیے جاتے تو یہ نوبت کبھی نہ آتی کہ عوام اس قدر بد ظن ہو جاتے عوام کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ کوفہ ہی کی وہ سر زمین ہے جسے حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایمان کا خزانہ فرمایا یہ وہی سر زمین ہے جہاں سے امام الائمہ سراج الغمہ امام اعظم حضرت نعمان بن ثابت کوفی رضی اللہ عنہ نے ہر گوشۂ دنیا میں علم کی روشنی پھیلائی اور یہ کیوں نہ ہو جب کہ خود حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ويَكونُ في أُمَّتي رجلٌ يُقالُ لَهُ أبو حَنيفةَ هوَ سراجُ أُمَّتي هوَ سراجُ أُمَّتي" یہ وہی ذات ہے جس کی تقلید دنیائے حنفیت کرتی ہے
یہاں ایک بات اور کہہ دوں کہ امام اعظم ابو حنیفہ رضی اللہ عنہ کوفی ہیں اور ہم ان کے مقلد ہیں تو ہم جہاں حنفی ہیں وہیں کوفی بھی ہیں جیسے ہم جہاں رضوی ہیں وہیں بریلوی بھی ہیں یہ الگ بات ہے کہ کوئی نسبت بہت مشہور ہوئی کوئی نہیں ہوئی اگر ہم اپنی نسل کو یہ بتاتے تو ہماری نسل لفظ کوفی سے نہیں چڑھتی
لفظ بہاری کی مظلومیت ـــــــــــــ
جو ستم کوفی پر لوگوں نے ڈھائے وہی ستم بہاری پر بھی ڈھائے آپس میں بہاری کو لوگوں نے انپڑھ، گنوار، جاہل، غریب، لاچار، بے وفا باور کرانے کوشش کی اب لوگوں نے اپنے ذہنوں میں یہ بٹھا لیا جو بہاری ہوگا اسے بولنے کی تمیز نہیں ہوگی، جو بہاری ہوگا بے تکی حرکتیں کرے گا وغیرہ وغیرہ جس کے نتیجے میں بہت سارے ایسے بہاری حضرات ہیں جو ممبئی وغیرہ میں خود کو بہاری نہیں بتاتے ہیں
ہماری قوم نے لوگوں کو جھوٹ بولنے پر مجبور کیا ہے اگر ہم اس طرح بھید بھاؤ نہیں کرتے تو لوگ اس طرح کی جھوٹی باتیں نہیں بولتے اس سے یہی پتہ چلتا ہے کہیں نہ کہیں ہم بھی اس جرم میں برابر کے شریک ہیں جس کی وجہ سے انسانیت شرمندہ ہے
لفظ بہاری کے پیچھے چھپا ہوا تصورـــــــــــــــــــ
لوگوں کی ذہن سازی اس قدر ہو چکی ہے جب کوئی بہاری بولتا ہے تو فورا ذہن میں طرح طرح کے منفی تصورات کا ہجوم لگ جاتا ہے کیونکہ ہم نے لوگوں کے سامنے بہار کا برا چہرہ پیش کیا ہے اچھا چہرہ پیش نہیں کیا اگر اچھا چہرہ پیش کیے ہوتے تو آج یہ حالات نہیں ہوتے اگر ہم نے اپنی قوم کے سامنے بہار کا تعارف یوں کرایا ہوتا تو آج منظر کچھ اور ہی ہوتا۔ مثلا
بہار اصفیا، اولیا، علما، صلحا، ادبا بادشاہوں کا مسکن ہے یہ وہ صوبہ ہے جہاں کے علمی فیض سے ایک جہاں فیضیاب ہے جہاں علما کی کثرت اس قدر ہے کہ جب علامہ شیخ عبد الحق محدث دہلوی علامہ شاہ ولی اللہ محدث دہلوی رضی اللہ عنھما کو اپنے خاندانی حالات کا تذکرہ کرتے ہوئے بہار کا ذکر کرنا ہوا تو فرماتے ہیں
"بلدہ بہار کہ مجمع علما بود" [انفاس العارفین ماخوذ از محی الملۃ والدین ص ٢٢]
بہار کی سرزمین ایسی زرخیز علمی زمین ہے جہاں علماء دین کا ہجوم رہتا ہے
کوفی لا یوفی ــــــــــــــــــــــــــــــ
کوفی لا یوفی [کوفی بے وفا ہوتے ہیں] یہ ایک ایسا ہتھیار ہے جس کو چلا کر انسان انسان کے جذبات کا خون کر دیتا ہے کوفی نام سے انسان کے دل و دماغ افکار و خیالات میں نفرت پیدا کر دیتا ہے۔
حالانکہ کوفی لایوفی مسلمانوں کا نہیں شیعوں کا دیا ہوا سازشی جملہ ہے تاکہ عوام کوفی علما سے بد ظن ہو جائیں اور امام اعظم جیسی شخصیت سے بیزار ہو جائیں اور کچھ حد تک اس پر کامیاب بھی ہوئے لیکن افسوس یہ ہے شیعوں کو یہ کامیابی اپنوں سے ملی اور آج شیعوں کی اس سازش کو عوام سمجھ نہیں پا رہے ہیں اور کوفی جو وفادرای کی سند ہے اسے غداری کے لباس میں ملبوس کر دیا
ہم یہ نہیں کہتے ہیں کہ کوفہ کے ہر دور کے لوگ اچھے ہیں بلکہ ہم یہ کہتے ہیں جس دور کے لوگ ظالم ہیں وہ ظالم ہی کہلائیں گے لیکن ان کی وجہ سے ہر دور کے لوگوں کو برا نہیں کہا جائے گا کیونکہ ہر شہر میں دو طرح کے لوگ بستے ہیں کچھ اچھے کچھ برے
یہ شبہ کہ کوفی، لایوفی ہوتے ہیں پہلے کے بعض اکابر کے ذہنوں میں بھی گزرا لیکن جب حقیقت سامنے آئی تو ان کا یہ شبہ ختم ہوا
جیسا کہ تاریخ بغداد، خطیب بغدادی میں ہے:
منقول ہے کہ امام اعظم ﷺ مدینہ منورہ حاضر ہوئے لوگوں سے دریافت کیا شہر کا جید عالم کون ہے؟
بتایا گیا حضرت ابو عبد اللہ مالک بن انس الاصجی رضی اللہ عنہ، امام اعظم رضی اللہ عنہ ان سے ملنے گئے حسب روایت تعارف کے دوران آپ نے بتایا کہ میں عراق سے آیا ہوں حضرت امام مالک نے یہ سن کر نا گواری کے عالم میں کہا وہ عراق جو شہر نفاق ہے؟ حضرت امام مالک کا اشارہ نواسہ رسول ﷺ کے ساتھ اہل کوفہ کے سلوک کی طرف تھا۔ یہ سن کر امام اعظم رضی اللہ عنہ نے نہایت تحمل کے ساتھ کہا میں عجمی ہوں اور آپ کے پاس اس لیے حاضر ہوا ہوں تا کہ قرآن کی قرآت میں کوئی غلطی ہو تو اس کی اصلاح کروا لوں کیونکہ آپ اس مقدس شہر کے باسی ہیں جہاں قرآن نازل ہوا تھا۔ امام مالک رضی اللہ عنہ نے جواب میں قرأت کرنے کی اجازت دی امام اعظم رضی اللہ عنہ نے یہ جملہ پڑھا
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡعراق
تمہارے آس پاس دیہات میں رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور عراق کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں۔
یہ سن کر امام مالک نے نہایت ناراضگی کے عالم میں کہا خدا کے بندے قرآن کی آیت تو درست پڑھو ۔ امام اعظم رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا درست آیت کیا ہے؟ امام مالک نے کہا درست آیت یوں ہے
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِینَةِ
(اے رسول ﷺ) تمہارے آس پاس کے دیہات کے رہنے والوں میں سے بعض لوگ منافق ہیں اور مدینہ کے رہنے والوں میں سے بھی بعض لوگ منافق ہیں۔ (سورۃ توبہ، آیت نمبر (١٠١)
یہ سن کر امام اعظم رضی اللہ عنہ نے فرمایا آپ نے خود ہی فیصلہ فرما دیا ہے کہ منافقوں کے شہر میں کون رہ رہا ہے؟
بعد میں تفصیلی متعارف ہوا اور شاید امام اعظم رضی اللہ عنہ کے اسی طرح کے جوابات سن کر امام مالک نے نے تبصرہ کیا تھا وہ ایک ایسے بزرگ ہیں کہ اگر لکڑی کے ستون کو سونے کا ثابت کرنا چاہیں تو دلیل کی بنیاد پر کر سکتے ہیں۔
( تاریخ بغداد، خطیب بغدادی بحوالہ کوفی لایوفی ٢٢)
وَمِمَّنۡ حَوۡلَكُم مِّنَ ٱلۡأَعۡرَابِ مُنَـٰفِقُونَۖ وَمِنۡ أَهۡلِ ٱلۡمَدِینَةِ
اس آیت کریمہ سے یہ صاف معلوم ہوا کہ مدینہ شریف میں بعض لوگ منافق ہیں تو کیا اس کی وجہ سے معاذ اللہ مدینہ جیسے مقدس شہر کو کوئی شہر منافق کہ سکتا ہے؟ صد بار معاذ اللہ ہر گز نہیں
اس آیت کریمہ سے یہ بھی معلوم ہوا کہ شہر میں لوگ کچھ منافق بے وفا بھی ہوتے ہیں لیکن ان کی وجہ سے پورے شہر کو بدنام نہیں کیا جا سکتا ہے اگر بدنام کیا جانا صحیح ہو بعض لوگوں کی وجہ سے پورے شہر کو تو پھر ایسی ذہنیت کے لوگ مدینہ شریف جیسے مقدس شہر کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں؟ اس پر تو نص قرآنی ثابت ہے۔
معلوم ہوا کہ حق یہی ہے کہ شہر کو اچھے لوگوں کی طرف منسوب کیا جاتا ہے کیونکہ اچھی چیزیں بالا تفاق بری چیزوں پر فوقیت رکھتی ہیں
در بہاری بوئے وفا نیست ــــــــــــــــ
"در بہاری بوئے وفا نیست" اور "کوفی لایوفی" دونوں میں وفا کی نفی کی گئی ہے پہلے میں بہاریوں سے وفا کی نفی ہے دوسرے میں کوفیوں سے وفا کی نفی ہے لیکن دونوں میں قدرے فرق ہے پہلا شیعوں کا دیا ہوا تمغہ ہے دوسرا شیخ المشائخ شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمہ اللہ کی طرف منسوب کر کے لوگ کہتے ہیں اس کے ماخذ تک میری رسائی نہیں میں نے بھی فقط لوگوں سے سنا ہے کہ مخدوم بہاری شیخ شرف الدین یحییٰ منیری رحمہ اللہ نے فرمایا ہے
"در بہاری بوئے وفا نیست گر چہ من بہاری است" اگر یہ صحیح بھی ہو کہ واقعی مخدوم بہاری نے ایسا فرمایا ہے تو اس کو محمول کیا جائے گا انھیں بہاریوں پر جنھوں نے مخدوم بہاری کے دور میں مخدوم بہاری سے بے وفائی کی نہ کہ تمام بہاریوں پر محمول کر دیا جائے کیا ہماری نظر میں اس کی مثال یہ نہیں
کہ حضرت امام حسین کو کوفیوں نے شہید کیا لیکن اس کی وجہ سے سارے کوفی، لایوفی میں داخل نہیں ہوں گے کیونکہ حضرت حر بھی کوفی تھے لیکن اپنی جان امام عالی مقام کے قدموں میں قربان کر دیے اس سے بڑی وفا کی مثال کیا ہو سکتی ہے
مخدوم بہاری کی بارگاہ ناز میں آج بھی فرزندان بہار اہلیان تاج و کلاہ سر بخم نظر آتے ہیں کیا یہ وفا کی مثال نہیں ہے ؟
جس طرح اہلیان مدینہ میں بعض حضرات کے منافق ہونے کی وجہ سے مدینہ مقدسہ کو شہر منافق نہیں کہا جا سکتا ہے ایسے ہی دوسرے ممالک یا صوبہ جات یا اضلاع میں بعض باشندوں کی نا اہلی، جہالت، منافقت، نفرت، بے وفائی غداری کی وجہ سے پورے ملک یا صوبہ یا شہر کے سر پر بے وفائی کا تاج نہیں سجایا جا سکتا ہے اگر کوئی ایسا کرتا ہے تو یہ خالص عقلی دیوالیہ پن ہے
"در بہاری بوئے نیست اگر چہ من بہاری است" کی دوسری تشریح یہ بھی ہو سکتی ہے کہ اگر مخدوم بہاری نے یہ فرمایا ہے تو اپنے علاقۂ بہار کے لوگوں کے لیے فرمایا کیونکہ صوبہ بہار ہی میں بہار شریف کے نام سے ایک الگ شہر ہے جہاں حضور مخدوم بہاری رضی اللہ عنہ آرام فرما ہیں یہ تو بطور تنزل ہے لیکن حقیقت یہی ہے کہ اگر چہ صوبہ بہار نہیں شہر بہار ہی ہو پھر بھی ایک شہر بعض اشخاص کی حماقت کی وجہ سے تمام اشخاص کو بے وفائی سے موسوم نہیں کر سکتے ہیں
بہار جنت نشان ـــــــــــــــــــ
بہار کے بوسیدہ رخ کو ہم نے لوگوں کے سامنے تو پیش کیا لیکن درخشندہ رخ کو چھپا کر رکھا کہ کہیں لوگ اسے دیکھ کر فریفتہ نہ ہو جائیں اسیر بہار و فرزندان بہار نہ ہو جائیں
متعصبین نے در بہاری بوئے وفا نیست کو ہر بہاری پر لاحق کر دیا لیکن ہم انھیں متعصبین سے عرض کرنا چاہتے ہیں اگر ایک بری چیز کو آپ ہر ہر بہاری پر لاحق کر رہے ہیں تو عقل کا تقاضا تو یہ ہے کہ اچھی چیز کو بھی ہر ہر بہاری پر برابر لاحق کریں
برادر اعلی حضرت استاذ زمن حامی سنن علامہ حسن قدس سرہ فرماتے ہیں:
از اثر کوشش عبد الوحید
خلد نہم گشت پہ پٹنہ پدید
[کلیات حسن]
پہلے تو یہ جان لیں کہ قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی ذات سرکار اعلی حضرت مجدد دین و ملت کی نظر میں کیسی عظیم ذات ہے جب حضور اعلی حضرت المستند المعتمد حاشیہ المعتقد المنتقد تحریر فرماتے ہوئے قاضی عبد الوحید فردوسی علیہ الرحمہ کا تذکرہ کرتے ہیں تو یوں ارقام فرماتے ہیں:
و من اشد القائمین بالحق في هذه الفتنة العميا ، والبلية الصماء اعاذنا الله تعالي منها و من كل بلاء ، وحيد الزمن، حامي السنن ، ماحي الفتن ، صديقنا القاضي عبد الوحيد الحنفي الفردوسي العظيم آبادي خفظه الله ذو الايادي الذي بامره وقع طبع هذا المتن الشريف، و تاليف هذا التعليق اللطيف فاحتفل احتفالا، و صرف اموالا و نصر الحق و قھر الضلالا، فجزاہ اللہ الحسنی بدأ و مآلا
[المستند المعتمد مع المعتقد المنتقد، خاتمه]
ترجمہ:
اور اس اندھے فتنے اور بہری بلا میں بہت زیادہ سختی سے حق پر قائم رہنے والوں میں (اللہ تعالیٰ ہمیں اس سے اور ہر بلا سے اپنی پناہ میں رکھے) یکتائے زمن حامی سنن ماحی فتن ہمارے دست قاضی عبد الوحید حنفی فردوسی عظیم آبادی ہیں اللہ تعالیٰ ان کو اپنے احسانات میں رکھے جن کے حکم سے اس متن شریف کی طباعت اور اس حاشیہ کی تالیف ہوئی تو انھوں نے جشن مسرت کیا اور مال خرچ کیا اور حق کی مدد کی اور گمراہی کو مقہور کیا اللہ تعالیٰ آغاز و انجام میں اچھی جزا دے
اقتباس مذکور سے قارئین کے ذہن و دماغ میں قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی ذات کا اندازہ ہوگیا ہوگا
اب استاذ زمن علامہ حسن کے شعر کو دوبارہ پڑھیں
از اثر کوشش عبد الوحید
خلد نہم گشت پہ پٹنہ پدید
[کلیات حسن]
یعنی حضرت قاضی عبد الوحید فردوسی رضی اللہ عنہ کی کوشش سے پٹنہ {عظیم آباد} نویں جنت بن گیا ہے
قارئین خوب جانتے ہیں جنت آٹھ ہیں لیکن بہار سے دین کی اشاعت و تبلیغ اس حسن و خوبی کے ساتھ ہوئی کہ بریلی نے اسے نویں جنت تسلیم کیا اور بتایا کہ دین کی خدمت کرنے والوں کو فراموش نہیں کیا جاتا ہے بلکہ ان کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے
تو اب متعصبین معترضین سے میرا سوال یہ ہے کیا استاذ زمن علامہ حسن رضی اللہ عنہ کے اس قول کو ہر ہر بہاری پر لاحق کریں گے اور کہیں گے کہ فلاں جنت نشان بہار سے آئے ہیں فلاں جنت البلاد بہار میں رہتے ہیں فلاں مجمع العلما کے باشندے ہیں نہیں کہیں گے کیونکہ یہاں آپ کا نفس امارہ اس بات کی اجازت ہی نہیں دے گا
اگر ایک دور کے ایک علاقے کے لوگوں کو کہا گیا کہ ان لوگوں میں وفا کی بو نہیں تو اس لاحقے کو ہر آنے والے کے لیے نافذ کر دیا یہاں تو بہار کی راجدھانی پٹنہ کو نویں جنت کہا گیا تو کیا اس کی وجہ سے بہار کی ہر بستی ہر گاؤں بلکہ ہر گاؤں کی گلیوں کو جنت نہیں کہ سکتے ہیں ؟ اگر بوئے وفا نیست میں وسعت ہو سکتی ہے تو "خلد نہم گشت بہ پٹنہ پدید میں" وسعت کیوں نہیں ہو سکتی؟
دو رنگی چھوڑ دے یک رنگ ہو جا
سراسر موم ہو یا سنگ ہو جا
تعصب کی آندھی ــــــــــــــ
کچھ دن قبل ایک طالب علم جامعہ امجدیہ سے ٹرینی سفر سے آسام چلا گیا اور اپنے گھر والوں کو یہ بتایا کہ ٹرین میں کسی سے میری لڑائی ہو گئی ہے جس کی وجہ سے پورا ہندوستان حرکت میں آ گیا خاص کر علماء کرام نے اپنا اہم رول ادا کیا مگر طالب علم کے ملنے کے بعد ایک بڑا خلاصہ یہ ہوا کہ اس نے پڑھائی نہ کرنے کے لیے یہ سازش رچی تمام خیر خواہوں کو بڑا افسوس ہوا مگر وہیں پر متعصبین نے اس مسئلے کو علاقائی رنگ دینے کی انتہائی گھنونی کوشش کی اور لکھا :
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا بہاری ہے یا غیر بہاری ہے اگر بہاری ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا بہاریوں کی فطرت میں شامل ہے
[یک از متعصبین بہار]
اس فیسبکی کمینٹ سے آپ یہ اندازہ لگا سکتے ہیں کہ فرزندان بہار کے لیے ان حضرات کے ذہن و دماغ میں کس قدر زہر بھرا ہوا ہے
لیکن میں موصوف سے پوچھنا چاہوں گا اگر اسی کی طرح کوئی عقلی دیوالیہ پن کا اظہار کرتے ہوئے یہ لکھ مارے تو اس کے بارے میں کیا کہا جائے گا؟
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا امجدی ہے یا غیر امجدی ہے اگر امجدی ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا امجدیوں کی فطرت میں شامل ہے [معاذ اللہ]
کیا اس کو جامعہ امجدیہ سے جوڑ کر اس طرح لکھنا صحیح ہوگا کبھی نہیں ہر گز نہیں اچھا صحیح کیوں نہیں ہوگا تو اس کا جواب یہی ہوگا کہ اس میں جامعہ امجدیہ کی کیا غلطی؟ غلطی تو اس طالب علم کی ہے جس نے یہ حرکت شنیعہ قبیحہ کی ہے اور ایک قدم آگے بڑھ کر کوئی بد بخت یہ لکھ دے کہ
اب دوبارہ کبھی ایسا مسئلہ پیش ہو تو سب سے پہلے یہ پتہ کیجیے کہ غائب ہونے والا مسلم ہے یا غیر مسلم ہے اگر مسلم ہے تو اعتماد کرنا حرام ہے ہمارے نزدیک اس لیے کہ فراڈ کرنا مسلمانوں کی فطرت میں شامل ہے [معاذ اللہ ہزار بار معاذ اللہ]
یہ بولی نہیں ہوگی مگر کافروں کی ایسے ہی وہ بولی نہیں ہوگی مگر متعصبین کی جن کی گردنوں میں تکبر حسد اور انانیت کا پٹہ پڑا ہے وہی ایسا لکھ سکتا ہے بول سکتا ہے اور جس کے ذہن و دماغ میں اچھائیاں ہوتی ہیں وہ پھر یہی کہتا ہے
بلدہ بہار کہ مجمع علما بود ۔۔۔۔۔۔۔۔خلد نہم گشت بہ پٹنہ پدید
لکھتے لکھتے ازہار العرب کی ایک حکایت یاد آ گئی مناسب ہے کہ باصر نواز کر دوں
مر حكيم بقوم فقالوا له شرا فقال خيرا فقيل له ذالك فقال كل ينفق مما عنده
مفہومی ترجمہ: ایک حکیم صاحب ایک قوم کے پاس سے گزرے لوگوں نے انھیں برا بھلا کہا حکیم صاحب نے انھیں اچھا کہا ان سے کہا گیا کہ یہ کیا؟ یہ لوگ آپ کو برا کہتے ہیں اور آپ کو ان کو اچھا کہتے ہیں تو حکیم نے بڑا پیارا جواب دیا "کل ینفق مما عندہ" جس کے پاس جو ہوتا ہے وہ وہی خرچ کرتا ہے
اور یہ بھی سب جانتے "کل اناء یترشح بما فیہ" ہر برتن سے وہی ٹپکتا ہے جو اس میں ہوتا ہے
موصوف کے پاس تعصب کے سوا کچھ نہیں تھا اس لیے اپنا تعصب خرچ کیا اور اپنے برتن سے حسد کے قطرے ٹپکائے اور دونوں جہان میں اپنی عزت افزائی کا سامان مہیا کر لیا ایسے ہی لوگوں کے لیے کسی نے کہا ہے:
اپنے دامن میں لگے داغ نے دیکھے تم نے
کیسے کہہ ڈالا فلاں شخص تماشائی ہے
ہم اور نظام اسلام ــــــــــــــــــــــ
آج ہم نظام اسلام سے دور ہو رہے ہیں اسی لیے ہمارے ذہن و دماغ میں تعصب پرستی شخصیت پرستی جیسے جراثیم نے گھر بنا لیے ہیں حالانکہ نظام اسلام تو اتنا صاف و شفاف ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں:
کسی کالے پر کسی گورے کو کسی عجمی پر کسی عربی کو کوئی فضیلت نہیں
کیا اس حدیث سے یہ معلوم نہیں ہوا کہ کسی دہلوی کو کسی بہاری پر کسی پنڈوی کو کسی بنارسی پر بر بنائے جگہ کوئی فضیلت نہیں
کیا یہ بولتے ہوئے دل دہل نہیں گیا کہ بہاریوں کی فطرت میں فراڈ پن ہے معاذ اللہ اس سے کتنے فرزندان بہار کے دل زخمی ہوئے ہوں گے کیا ان حضرات کی نظروں سے حضور صلی اللّٰہ علیہ وسلم کی یہ حدیث نظر سے نہیں گزری
المسلم من سلم المسلمون من لسانه و يده
مسلمان وہ ہے جس کے ہاتھ اور زبان سے دوسرے مسلمان سلامت رہیں کیا موصوف کی نظر میں بہاری مسلم نہیں ہیں؟
کیا کبھی اس حدیث کا مطالعہ نہیں کیا ؟
من اذی مسلما فقد اذانی و من اذانی فقد اذی اللہ
خدارا خدارا خود سے خود کی عزتیں پامال نہ کریں یہ بھید بھاؤ کر کے مسلمانوں میں پھوٹ نہ ڈالیں آپ جب مسلمان ہیں تو اسلامی نظام کے پیروکار ہو جائیں اغیار کی طرح باتیں نہ کریں ورنہ وہ دن دور نہیں جب تم بھی زد میں آؤگے اور تمہارا کوئی پرسان حال نہ ہوگا
خلاصۂ کلام ــــــــــــــــ
فلاح و نجات اخوت و محبت اسلامی نظام میں ہے دنیاداری کی ذہنیت میں سوائے حسد جلن خرافات کے کچھ نہیں ہے واضح رہے اسلام میں کسی گورے یا عربی کو کسی کالے یا عجمی پر کوئی فضیلت نہیں ایسے ہی کسی دہلوی کو کسی بہاری بنگالی پر کوئی فضیلت نہیں کسی دور کے بعض اشخاص کے برے ہونے کی وجہ سے وہاں کے تمام باشندوں کو کسی صورت برا نہیں کہا جا سکتا، انسان کو انصاف پسند اخوت و محبت کا درس دینے والا ہونا چاہئے ہر بات میں اسلام کو فوقیت دے نہ کہ اپنی ذات کو اور اسلام میں ہے کہ بڑوں کی عزت کرو چھوٹوں پر شفقت کرو
آج بھی ہو اگر ابراہیم کا ایماں پیدا
آگ کر سکتی ہے انداز گلستاں پیدا
اللہ جل جلالہ ہمیں ایک دوسرے کی عزت کی توفیق مرحمت فرمائے آمین ثم آمین بجاہ سید المرسلین صلی اللہ علیہ وسلم

0 تبصرے