الجامعۃ الاشرفیہ ایک عظیم دینی و علمی تحریک

الجامعۃ الاشرفیہ ایک عظیم دینی و علمی تحریک 

مراد آباد، بھوج پور کی کوکھ میں جنم لینے والا فرزندِ ارجمند، صدر الشریعہ کا تراشا ہوا شاگردِ رشید، اعلیٰ حضرت اشرفی میاں کا مرید عزیز، مفتیِ اعظم ہند کا عقیدت کیش اور خانوادۂ ماہرہ مطہرہ کا نورِ نظر،ہم مصباحیوں کے استاذ/دادا استاذ اور اہلِ سنت کے حافظِ ملت نے شرابِ جہالت سے مدہوش ملتِ اسلامیہ ہند کو وراثتِ نبوی کے بادہ سے سرشار کرنے کے لیے مبارک پور کی مبارک سرزمین پر جو مے خانہ آباد کیا تھا، آج اس سے کتنے سوتے پھوٹ چکے ہیں، اس کے جام کہاں کہاں اور کس کس انداز میں تقسیم ہو رہے ہیں، یہ اہلِ دانش پر مخفی نہیں۔

بلا مبالغہ، اس بادہ کا نوش کرنے والا کوئی مخصوص طبقہ یا علاقہ نہیں، بلکہ خصوصاً پوری ملتِ اسلامیہ ہند اور عموماً دنیا کے متعدد ممالک اس سے فیض یاب ہو رہے ہیں۔ اس کے اثرات بحر و بر کی وسعتوں میں پھیل چکے ہیں۔

آپ اپنی اسکرین پر جو چمکتا دمکتا سرورق ملاحظہ کر رہے ہیں، اس کے اندر گلستانِ عزیزی کے ہمہ رنگ اور بوقلموں جلوے اور اس کی ہمہ گیر خدمات نئے سج دھج کے ساتھ لفظوں کا پیرہن زیبِ تن کیے جلوہ گر ہیں۔

ساتھ ہی صاحبِ کتاب، محبِ مکرم مولانا احمد رضا مصباحی نے کتاب کے بابِ اول میں مختلف ذیلی عناوین کے تحت مدارس کے ابتدائی و ارتقائی ادوار کا اجمالی خاکہ پیش کیا ہے اور حافظ ملت کے ذہن و فکر میں ایک عظیم دینی دانش کدے کا تصور پیدا ہونے کے اسباب و عوامل کو بڑے حسین پیرائے میں بیان کرنے کی کامیاب کوشش کی ہے۔

بطورِ نمونہ بابِ اول کے ذیلی عناوین ملاحظہ ہوں:

• برصغیر میں اسلام کی آمد اور علمی روایت کی بنیادیں

•ابتدائی علمی مراکز

• دینی مدارس کا ارتقائی سفر

•عہدِ استعمار اور دینی تعلیم کو درپیش چیلنجز

 •اہلِ سنت کی علمی جدوجہد

• الجامعۃ الاشرفیہ کے قیام کی ضرورت

اہل علم سے گزارش ہے کہ اس کتاب کو حاصل کریں اور اپنے ذوق مطالعہ کو تسکین فراہم کریں۔

دعا ہے کہ اللّٰہ تعالیٰ موصوف کے قلم میں مزید توانائی پیدا فرمائے اور انہیں سعادت دارین سے نوازے۔آمین

لعل احمد مصباحی

ایک تبصرہ شائع کریں

0 تبصرے